السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2697. -- باب: من كره الإفراض عند تغير السلاطين، وصرفه عن المستحقين
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
حدیث نمبر: 13042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا، وَعَادَ الْعَطَاءُ رِشَاءً، فَدَعُوهُ" فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سلیم بن حطیر وادیِ قریٰ میں رہنے والے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا“، لوگوں نے کہا: ہاں پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگ آپس میں حکومت کی خاطر لڑیں اور عطا رشوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو۔“ لوگوں نے کہا: یہ کون شخص ہے؟ معلوم ہوا، وہ ذوالذوائد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13042]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
2698. -- باب: ما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب، ومن اختار أن يكون وقفا للمسلمين كما فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه بأرض العراق وغيرها، إما بأن كانت فيئا فتركها وقفا، وإما بأن كانت غنيمة فاستطاب أنفس من كان ظهر عليها كما استطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفس أهل
-- باب: وہ مال جس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے (بغیر لڑائی کے ملا ہو)، اور جس نے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کو ترجیح دی جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو وہ مالِ فے تھا تو اسے وقف چھوڑ دیا، یا وہ مالِ غنیمت تھا تو انہوں نے ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جنہیں اس پر غلبہ حاصل ہوا تھا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کی خوشنودی حاصل کی تھی
حدیث نمبر: Q13043
بَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَغَيْرِهَا، إِمَّا بِأَنْ كَانَتْ فَيْئًا فَتَرَكَهَا وَقْفًا، وَإِمَّا بِأَنْ كَانَتْ غَنِيمَةً فَاسْتَطَابَ أَنْفُسَ مَنْ كَانَ ظَهَرَ عَلَيْهَا كَمَا اسْتَطَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفُسَ أَهْلِ سَبْيِ هَوْازِنَ حَتَّى تَرَكُوا حُقُوقَهُمْ.
... جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو اس طرح کہ وہ مالِ فے تھی تو انہوں نے اسے وقف کے طور پر (مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا، اور یا اس طرح کہ وہ مالِ غنیمت تھی تو انہوں نے ان لوگوں کی رضامندی حاصل کر لی جنہوں نے اس پر غلبہ پایا تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں (کو پانے والوں) کی رضامندی حاصل کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: Q13043]
حدیث نمبر: 13043
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْطَى بَجِيلَةَ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذُوهُ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْؤُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ"، فَرَدَّهُ وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بجیلہ کو سواد (عراق کی زرعی زمین) کا چوتھائی دیا، چند سال انہوں نے اسے رکھا، پھر جریر رضی اللہ عنہ وفد بن کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا جس سے (اس تقسیم کے بارے میں) سوال کیا جائے گا تو تم اسی پر رہتے جو تمہارے لیے تقسیم کیا گیا ہے، لیکن میرے خیال میں آپ اسے لوٹا دیں، پس انہوں نے اسے لوٹا دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی دینار انعام دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13043]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيَّانِ أَنَّ لَيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمَا قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: زَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَنِسَائَهَمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ"، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ"، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ" فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عروہ رحمہ اللہ کو گمان ہے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے اموال اور ان کی عورتیں انہیں لوٹا دی جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میرے ساتھ کتنے اور لوگ ہیں اور سچی بات مجھے زیادہ محبوب ہے، اس لیے تم ایک چیز پسند کر لو: مال یا قیدی۔ میں نے تمہاری وجہ سے تاخیر کی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر دس سے زائد راتیں ان کا انتظار کیا تھا، جب ان پر واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے ہے کہ ان کے قیدی واپس کر دیے جائیں۔ اس لیے جو شخص اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے، یہ بہتر ہے اور جو اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہیں، ان کا حق قائم رہے گا، وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے اللہ ہمیں غنیمت عطا فرمائے گا، اس میں سے ہم ان کو اس کا بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔“ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم خوشی سے واپس کرنا چاہتے ہیں“، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح ہمیں علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں۔ اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے بڑے لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں“، چنانچہ سب واپس آ گئے، ان کے بڑوں نے ان سے گفتگو کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”سب نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔“ یہی وہ حدیث ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2308»
الحكم على الحديث: صحيح
2699. -- باب: ما جاء في تعريف العرفاء
-- باب: عرفاء (لوگوں کے نگرانوں) کے مقرر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13045
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِلنَّاسِ فِي عِتْقَ سَبْيِ هَوْازِنَ قَالَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ" فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ہوازن کے قیدیوں سے متعلق اجازت چاہی تو کہا: ”میں نہیں جانتا تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ پس جاؤ اور ہماری طرف تمہارے بڑے لوگ معاملہ لے کر آئیں“، پس لوگ لوٹ گئے، انہوں نے اپنے بڑوں سے بات کی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13045]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13046
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْخِلَافَةَ فَرَضَ الْفَرَائِضَ، وَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ، وَعَرَّفَ الْعُرَفَاءَ، وَعَرَّفَنِي عَلَى أَصْحَابِي".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے حصے مقرر کیے اور دیوان (رجسٹر) مرتب کیے اور بڑوں کو مقرر کیا اور مجھے میرے ساتھیوں پر امیر بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13046]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2700. -- باب: ما جاء في كراهية العرافة لمن جار وارتشى وعدل عن طريق الهدى
-- باب: اس شخص کے لیے نگرانی کے عہدے کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے جو ظلم کرے، رشوت لے اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جائے
حدیث نمبر: 13047
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِهِ ثُمَّ قَالَ:" أَفْلَحْتَ يَا قَدِيمُ إِنْ مِتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا أَوْ كَاتِبًا أَوْ عَرِيفًا".
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر مارا اور فرمایا: ”اے قدیم! تو فلاح پا گیا۔ اگر تو اسی حالت میں فوت ہو کہ نہ تو امیر ہو، نہ کاتب اور نہ عریف۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13047]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13048
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَالَ:" لَمْ يَكُنْ أَمِيرًا وَلَا جَابِيًا وَلَا عَرَّافًا".
دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ”نہ تو امیر بن، نہ محصل اور نہ عراف۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13048]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى مَنْهَلٍ مِنَ الْمَنَاهِلِ، فَلَمَّا بَلَغَهُمُ الْإِسْلَامُ جَعَلَ صَاحِبُ الْمَاءِ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَقَسَمَ الْإِبِلَ بَيْنَهُمْ، وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، فَأَرْسَلَ ابْنَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ⦗٥٨٧⦘ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَإِنَّهُ جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا فَأَسْلَمُوا وَقَسَّمُوا الْإِبِلَ بَيْنَهُمْ، وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ أَوْ لَا، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ، وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِيَ الْعَرَافَةَ بَعْدَهُ. فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ"، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ قَالَ:" إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُسْلِمَهَا لَهُمْ فَيُسْلِمُهَا، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُمْ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَلَهُمْ إِسْلَامُهُمْ، وَإِنْ لَمْ يُسْلِمُوا قُوتِلُوا عَلَى الْإِسْلَامِ"، قَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ، وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِيَ الْعَرَافَةَ بَعْدَهُ، فَقَالَ:" الْعَرَافَةُ حَقٌّ، وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنَ الْعُرَفَاءِ، وَلَكِنَّ الْعُرَفَاءَ فِي النَّارِ".
غالب قطان نے ایک آدمی سے سنا، اس نے اپنے والد سے سنا، اس نے اپنے دادا سے سنا کہ کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے۔ جب دین اسلام کی خبر پہنچی تو چشمے والے نے اپنی قوم کو ایک سو اونٹ دیے اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں، تو وہ مسلمان ہو گئے، اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو پھیرنا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہنا، میرے باپ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے اپنی قوم کو سو اونٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ وہ مسلمان ہو گئے اور میرے باپ نے اونٹ ان میں تقسیم کر دیے۔ اب وہ ان سے اپنے اونٹ پھیرنا چاہتا ہے تو کیا وہ پھیر سکتا ہے یا نہیں؟ آپ ہاں یا ناں جو بھی کہیں۔ پھر فرمایا: میرا باپ ضعیف ہے اور وہ اس چشمے کا عریف ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد آپ مجھ کو وہاں کا عریف بنا دیں۔ خیر بیٹا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے آپ کو سلام کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ» ”اور تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلامتی ہو۔“ پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے باپ نے میری قوم کو سو اونٹ دینے کا وعدہ کیا تھا، اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور وہ مسلمان ہو گئے، اچھی طرح اب میرا باپ ان سے ان اونٹوں کو پھیرنا چاہتا ہے، کیا میرا باپ ان کا حق دار ہے یا وہی لوگ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرا باپ چاہے تو ان کو دے دے اور اگر پھیرنا چاہے تو وہ ان کا حق دار ہے اور وہ جو مسلمان ہوئے وہ اپنے اسلام کا فائدہ اٹھائیں گے۔ اگر مسلمان نہ ہوں گے تو اسلام پر قتل کیے جائیں گے۔“ پھر اس نے کہا: میرا باپ بوڑھا ہے اور اس چشمے کا عریف ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرافت تو ضرور ہے اور لوگوں کے لیے ضروری بھی ہے مگر عریف جہنم میں جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13049]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2701. -- باب: ما جاء في شعار القبائل ونداء كل قبيلة بشعارها
-- باب: قبائل کے شعار (پہچان کے لیے مخصوص علامتی الفاظ) اور ہر قبیلے کو اس کے شعار کے ساتھ پکارنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعَارَ الْمُهَاجِرِينَ يَوْمَ بَدْرٍ: يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَشِعَارَ الْخَزْرَجِ: يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، وَشِعَارَ الْأَوْسِ: يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ، وَسَمَّى خَيْلَهُ: يَا خَيْلَ اللهِ" هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن مہاجرین کا شعار «يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ”اے بنی عبدالرحمن!“ بنایا اور خزرج کا شعار «يَا بَنِي عَبْدِ اللَّهِ» ”اے بنی عبداللہ!“ اور اوس کا شعار «يَا بَنِي عُبَيْدِ اللَّهِ» ”اے بنی عبیداللہ!“ اور اس کے گھوڑوں کا نام «يَا خَيْلَ اللَّهِ» ”اے اللہ کے گھوڑو!“ مقرر فرمایا۔
یہ روایت مرسل ہے، اور متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13050]
یہ روایت مرسل ہے، اور متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13050]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف