السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13071
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ، فَقَالَ:" بِمَنْ تَرَوْنَ أَنْ أَبْدَأَ؟" فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ بِكَ، قَالَ:" بَلْ أَبْدَأُ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن علی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب رجسٹر مرتب کیا تو کہا: کس سے تمہارے خیال میں ابتدا کروں؟ کہا گیا: اپنے قریبی سے ابتدا کرو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی سے ابتدا کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13071]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13072
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالصِّدْقِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ وَمِنْ غَيْرِهِمْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ أَحْسَنَ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ مِنْ بَعْضٍ، وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ قَالَ:" أَبْدَأُ بِبَنِي هَاشِمٍ"، ثُمَّ قَالَ:" حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَإِذَا كَانَ الْمُسِنُّ فِي الْهَاشِمِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْمُطَّلِبِيِّ، وَإِذَا كَانَ فِي الْمُطَّلِبِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْهَاشِمِيِّ. فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَعْطَاهُمْ عَطَاءَ الْقَبِيلَةِ الْوَاحِدَةِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ فِي جِذْمِ النَّسَبِ"، فَقَالَ:" عَبْدُ شَمْسٍ إِخْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ نَوْفَلٍ"، فَقَدَّمَهُمْ، ثُمَّ دَعَا بَنِي نَوْفَلٍ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ، فَقَالَ فِي بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى:" أَصْهَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَفِيهِمْ:" إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ"، وَقَالَ: بَعْضُهُمُ: هُمْ حِلْفٌ مِنَ الْفُضُولِ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ انْفَرَدَتْ لَهُ زُهْرَةُ، فَدَعَاهَا تِلْوَ عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ تَيْمٌ وَمَخْزُومٌ، فَقَالَ فِي بَنِي تَيْمٍ:" إِنَّهُمْ مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيِّبِينَ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، وَقِيلَ: ذَكَرَ صِهْرًا، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى مَخْزُومٍ، ثُمَّ دَعَا مَخْزُومًا يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ سَهْمٌ وَجُمَحٌ وَعَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بَعَدِيٍّ، فَقَالَ:" بَلْ أُقِرُّ نَفْسِي حَيْثُ كُنْتُ؛ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ، وَلَكِنِ انْظُرُوا بَنِي جُمَحٍ وَسَهْمٍ"، فَقِيلَ قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَهْمٍ، وَكَانَ دِيوَانُ عَدِيٍّ وَسَهْمٍ مُخْتَلِطًا كَالدَّعْوَةِ الْوَاحِدَةِ، فَلَمَّا خَلَصَتْ إِلَيْهِ دَعْوَتُهُ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَالِيَةً ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْصَلَ إِلِيَّ حَظِّيَ مِنْ رَسُولِهِ"، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ أَبَا ⦗٥٩٣⦘ عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بن الْجَرَّاحَ الْفِهْرِيَّ لَمَّا رَأَى مَنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: أَكُلَّ هَؤُلَاءِ تَدْعُو أَمَامِي؟ فَقَالَ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، اصْبِرْ كَمَا صَبَرْتَ، أَوْ كَلِّمْ قَوْمَكَ، فَمَنْ قَدَّمَكَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ لَمْ أَمْنَعْهُ، فَأَمَّا أَنَا وَبَنُو عَدِيٍّ فَنُقَدِّمُكَ إِنْ أَحْبَبْتَ عَلَى أَنْفُسِنَا. قَالَ: فَقَدَّمَ مُعَاوِيَةُ بَعْدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، فَصَلَ بِهِمْ بَيْنَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَشَجَرَ بَيْنَ بَنِي سَهْمٍ وَعَدِيٍّ شَيْءٌ فِي زَمَانِ الْمَهْدِيِّ فَافْتَرَقُوا، فَأَمَرَ الْمَهْدِيُّ بِبَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ.
امام شافعی رحمہ اللہ کو اہل مدینہ اور مکہ میں سے، قبائلِ قریش اور دوسرے لوگوں میں سے کئی اہلِ علم و صدق نے خبر دی، ان میں سے بعض دوسروں سے بہتر انداز میں واقعہ بیان کرتے تھے اور بعض نے دوسروں پر کچھ اضافہ کیا، کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب رجسٹر تیار کروائے تو کہا: ”میں بنو ہاشم سے ابتدا کرتا ہوں“، پھر کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اور بنو مطلب کو عطا فرما رہے تھے، جب عمر رسیدہ آدمی ہاشمیوں میں ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطلبی پر مقدم کرتے اور جب مطلبیوں میں ہوتا تو اسے ہاشمی پر مقدم کرتے“، تو انھوں نے اسی طرز پر رجسٹر مرتب کیا اور انھیں ایک قبیلے کا عطیہ دیا۔ پھر نسب کی جڑ میں عبد شمس اور نوفل ان کے سامنے برابر آئے تو انھوں نے کہا: ”عبد شمس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ اور ماں دونوں کی طرف سے بھائی ہیں، نوفل نہیں“، تو انھیں مقدم کیا، پھر بنو نوفل کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر عبدالعزیٰ اور عبدالدار برابر آئے تو انھوں نے بنو اسد بن عبدالعزیٰ کے بارے میں کہا: ”یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہیں“ اور ان کے بارے میں کہا: ”یہ مطیبین میں سے ہیں“، اور بعض نے کہا: یہ حلف الفضول والے ہیں اور ان دونوں (معاہدوں) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے، اور ایک قول ہے کہ انھوں نے (اسلام میں) سبقت کا ذکر کیا، تو انھیں بنو عبدالدار پر مقدم کیا، پھر بنو عبدالدار کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر زہرہ اکیلے رہ گئے تو انھیں عبدالدار کے بعد بلایا۔ پھر تیم اور مخزوم برابر آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو تیم کے بارے میں کہا: ”یہ حلف الفضول اور مطیبین میں سے ہیں اور ان دونوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے“، ایک قول ہے کہ انھوں نے سبقت کا ذکر کیا اور ایک قول ہے کہ سسرالی رشتے کا ذکر کیا، تو انھیں مخزوم پر مقدم کیا، پھر مخزوم کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر سہم، جمح اور عدی بن کعب برابر آئے تو ان سے کہا گیا: عدی سے ابتدا کریں، انھوں نے کہا: ”بلکہ میں اپنے آپ کو وہیں رکھوں گا جہاں میں تھا، کیونکہ اسلام آیا تو ہمارا اور بنو سہم کا معاملہ ایک تھا، لیکن بنو جمح اور سہم کو دیکھو“، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بنو جمح کو مقدم کیا، پھر بنو سہم کو بلایا۔ عدی اور سہم کا رجسٹر ملا ہوا تھا گویا ایک ہی پکار ہو، جب ان کی اپنی پکار الگ ہو کر ان تک پہنچی تو انھوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی، پھر کہا: ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا حصہ مجھ تک پہنچایا“، پھر بنو عامر بن لؤی کو بلایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کیا گیا ہے تو کہا: ”کیا ان سب کو آپ مجھ سے پہلے بلا رہے ہیں؟“ تو انھوں نے کہا: ”اے ابوعبیدہ! صبر کرو جیسے تم نے صبر کیا ہے، یا اپنی قوم سے بات کرو، ان میں سے جو تمہیں اپنے آپ پر مقدم کرے میں اسے نہیں روکوں گا، رہا میں اور بنو عدی، تو اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اپنے آپ پر مقدم کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے بنو حارث بن فہر کو مقدم کیا اور ان کے ذریعے بنو عبد مناف اور اسد بن عبدالعزیٰ کے درمیان فاصلہ کیا۔ اور مہدی کے زمانے میں بنو سہم اور عدی کے درمیان کچھ اختلاف ہو گیا تو وہ الگ ہو گئے، پس مہدی نے بنو عدی کے بارے میں حکم دیا تو انھیں ان میں موجود سبقت کی وجہ سے سہم اور جمح پر مقدم کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13072]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کیا گیا ہے تو کہا: ”کیا ان سب کو آپ مجھ سے پہلے بلا رہے ہیں؟“ تو انھوں نے کہا: ”اے ابوعبیدہ! صبر کرو جیسے تم نے صبر کیا ہے، یا اپنی قوم سے بات کرو، ان میں سے جو تمہیں اپنے آپ پر مقدم کرے میں اسے نہیں روکوں گا، رہا میں اور بنو عدی، تو اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اپنے آپ پر مقدم کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے بنو حارث بن فہر کو مقدم کیا اور ان کے ذریعے بنو عبد مناف اور اسد بن عبدالعزیٰ کے درمیان فاصلہ کیا۔ اور مہدی کے زمانے میں بنو سہم اور عدی کے درمیان کچھ اختلاف ہو گیا تو وہ الگ ہو گئے، پس مہدی نے بنو عدی کے بارے میں حکم دیا تو انھیں ان میں موجود سبقت کی وجہ سے سہم اور جمح پر مقدم کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13072]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى بَنِي كِنَانَةَ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْبِدَايَةُ فِي الْعَطَاءِ إِنَّمَا وَقَعَتْ بِبَنِي هَاشِمٍ لِقُرْبِهِمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصِيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ بْنِ أَدَّ بْنِ الْمُقَوِّمِ بْنِ نَاحُورَ بْنِ تَارِحِ بْنِ يَعْرُبَ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ نَابِتِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ آزَرَ، وَهُوَ فِي التَّوْرَاةِ تَارِحُ بْنُ نَاحُورَ بْنِ أَرْعُوَا بْنِ شَارِخِ بْنِ فَالِخِ بْنِ عَابِرِ بْنِ شَالِخِ بْنِ أَرْفَخْشَذَ بْنِ سَامِ بْنِ نُوحِ بْنِ لَمْكَ بْنِ مِتُوشَلْخَ بْنِ أَخْنُوخَ بْنِ بُرْدَ بْنِ مِهْلَائِيَلَ بْنِ قَمْعَانَ بْنِ قَوْشِ بْنِ شِيثِ بْنِ آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَنْبِيَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ..
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بنی کنانہ کو بنی اسماعیل سے چنا اور بنی کنانہ سے قریش کو چنا اور قریش سے بنی ہاشم کو اور مجھے بنی ہاشم سے چن لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13073]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2276»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13074
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِهْرُ بْنُ مَالِكٍ أَصْلُ قُرَيْشٍ فِي أَقَاوِيلِ أَكْثَرِهِمْ فَبَنُو هَاشِمٍ يَجْمَعُهُمْ أَبُو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثُ، وَسَائِرُ قُرَيْشٍ يَجْمَعُ بَعْضَهُمُ الْأَبُ الرَّابِعُ عَبْدُ مَنَافٍ، وَبَعْضَهُمُ الْأَبُ الْخَامِسُ قُصَيٌّ، وَهَكَذَا إِلَى فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ؛ فَلِذَلِكَ وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي هَاشِمٍ، وَإِنَّمَا جَمَعَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ فِي الْعَطِيَّةِ لِمَا رَوَيْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا ⦗٥٩٤⦘ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر سے رشتہ داروں، یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو حصہ دیا تو میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے بھائی بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، لیکن بنی مطلب سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا اور ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجہ میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہ ہم سے جاہلیت میں علیحدہ تھے اور نہ اسلام میں اور بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13074]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13075
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13075]
حدیث نمبر: 13076
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ أَصَابِعَهُ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ - لَعَنَ اللهُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ كِبَارًا" قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ عُثْمَانُ وَجُبَيْرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛ لِأَنَّ عُثْمَانَ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَجُبَيْرٌ هُوَ ابْنُ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ كَانُوا إِخْوَةً، فَأَعْطَى سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ دُونَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ وَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ" وَفِي الرِّوَايَةِ الْمُرْسَلَةِ:" رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ" أَوْ قَالَ:" وَحَمَلُونَا كِبَارًا" وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ هَاشِمَ بْنَ عَبْدِ مَنَافٍ تَزَوَّجَ سَلْمَى بِنْتَ عَمْرِو بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ بِالْمَدِينَةِ، فَوَلَدَتْ لَهُ شَيْبَةَ الْحَمْدِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ هَاشِمٌ وَهُوَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَيْفَعَ وَتَرَعْرَعَ خَرَجَ إِلَيْهِ عَمُّهُ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ فَأَخَذَهُ مِنْ أُمِّهِ وَقَدِمَ بِهِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُرْدِفُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقِيلَ: عَبْدٌ مَلَكَهُ الْمُطَّلِبُ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الِاسْمُ، فَقِيلَ: عَبْدُ الْمُطَّلِبِ، وَحِينَ بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ آذَاهُ قَوْمُهُ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَامَتْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ؛ مُسْلِمُهُمْ وَكَافِرُهُمْ، دُونَهُ، وَأَبَوْا أَنْ يُسْلِمُوهُ، فَلَمَّا عَرَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا سَبِيلَ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَكْتُبُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنْكِحُوهُمْ وَلَا يُنْكِحُوا إِلَيْهِمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يَبْتَاعُوا مِنْهُمْ، وَعَمَدَ أَبُو طَالِبٍ فَأَدْخَلَهُمُ الشِّعْبَ شِعْبَ أَبِي طَالِبٍ فِي نَاحِيَةٍ مِنْ مَكَّةَ، وَأَقَامَتْ قُرَيْشٌ عَلَى ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ فِي بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، حَتَّى جَهِدُوا جَهْدًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ أَرْسَلَ عَلَى صَحِيفَةِ قُرَيْشٍ الْأَرَضَةَ فَلَمْ تَدَعْ فِيهَا اسْمًا لِلَّهِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، وَبَقِيَ فِيهَا الظُّلْمُ وَالْقَطِيعَةُ وَالْبُهْتَانُ، وَأَخْبَرَ بِذَلِكَ رَسُولَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ، وَاسْتَنْصَرَ بِهِ ⦗٥٩٥⦘ أَبُو طَالِبٍ عَلَى قَوْمِهِ، وَقَامَ هِشَامُ بْنُ عَمْرِو بْنِ رَبِيعَةَ فِي جَمَاعَةٍ ذَكَرَهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي الْمَغَازِي بِنَقْضِ مَا فِي الصَّحِيفَةِ وَشَقِّهَا؛ فَلِذَلِكَ جَمَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَائِرِ الْعَطِيَّةِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَدَّمَهُمَا عَلَى بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ، وَإِنَّمَا وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ قَبْلَ نَوْفَلٍ؛ لِأَنَّ هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ وَعَبْدَ شَمْسٍ كَانُوا إِخْوَةً لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ، وَنَوْفَلٌ كَانَ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ، وَأُمُّهُ وَاقِدَةُ بِنْتُ حَرْمَلٍ، وَعَبْدُ مَنَافٍ وَعَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ بَنُو قُصَيٍّ كَانُوا إِخْوَةً، وَالْبِدَايَةُ بَعْدَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا وَقَعَتْ بِبَنِي عَبْدِ الْعُزَّى؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ قَبِيلَةَ خَدِيجَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهَا بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: وَفِيهِمْ:" إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ".
زید بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاشم اور مطلب ان دونوں کی طرح ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا اور ایک دوسرے میں ڈالا۔ ”اللہ لعنت کرے اس پر جو ان میں فرق کرے، انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی اور ہم نے بڑے ہو کر ان کا بوجھ اٹھایا۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں سیدنا عثمان اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہما نے بات کی تھی، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، اور ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل بھائی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا اور فرمایا: ”وہ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں مجھ سے الگ نہیں ہوئے، بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“ مرسل روایت میں ہے: ”انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی اور ہم نے ان کا بوجھ اٹھایا“ یا فرمایا: ”اور انہوں نے بڑے ہو کر ہمارا بوجھ اٹھایا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات، واللہ اعلم، اس لیے فرمائی کہ ہاشم بن عبد مناف نے مدینہ میں بنو نجار کی سلمیٰ بنت عمرو بن لبید بن حرام سے شادی کی، اس سے شیبۃ الحمد پیدا ہوئے، پھر ہاشم فوت ہو گئے اور بچہ اپنی ماں کے پاس تھا، جب وہ لڑکپن کو پہنچا اور نشو و نما پا گیا تو اس کے چچا مطلب بن عبد مناف اس کے پاس گئے، اسے اس کی ماں سے لیا اور مکہ لے آئے، وہ اسے اپنی سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، تو کہا گیا: یہ غلام ہے جس کا مالک مطلب ہے، پس یہ نام اس پر غالب آ گیا اور اسے عبدالمطلب کہا جانے لگا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برا ارادہ کیا، تب بنو ہاشم اور بنو مطلب، ان کے مسلمان بھی اور کافر بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب قریش کو معلوم ہو گیا کہ ان کے ہوتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تو وہ اس پر متفق ہو گئے کہ آپس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ تحریر لکھیں کہ نہ ان سے نکاح کریں گے، نہ انہیں نکاح میں دیں گے، نہ انہیں کچھ بیچیں گے اور نہ ان سے کچھ خریدیں گے، تو ابو طالب نے انہیں مکہ کے ایک کنارے میں شعب ابی طالب نامی گھاٹی میں داخل کر دیا، اور قریش بنو ہاشم اور بنو مطلب کے بارے میں دو یا تین سال اپنے اس معاملے پر قائم رہے، یہاں تک کہ وہ سخت مشقت میں پڑ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے قریش کے صحیفے پر دیمک بھیج دی، اس نے اس میں اللہ کا جو بھی نام تھا اسے کھا لیا اور اس میں ظلم، قطع رحمی اور بہتان باقی رہ گیا، اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو خبر دی اور ابو طالب نے اس کے ذریعے اپنی قوم کے خلاف مدد چاہی، اور ہشام بن عمرو بن ربیعہ ایک جماعت کے ساتھ، جن کا ذکر ابن اسحاق نے مغازی میں کیا ہے، صحیفے کے مضمون کو توڑنے اور اسے پھاڑنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام عطیات میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اکٹھا رکھا اور انہیں بنو عبدشمس اور بنو نوفل پر مقدم کیا، اور نوفل سے پہلے بنو عبدشمس سے ابتدا اس لیے ہوئی کہ ہاشم، مطلب اور عبدشمس ماں باپ دونوں کی طرف سے بھائی تھے اور ان کی ماں عاتکہ بنت مرہ تھیں، جبکہ نوفل ان کے صرف باپ کی طرف سے بھائی تھے اور ان کی ماں واقدہ بنت حرمل تھیں۔ اور عبد مناف، عبدالعزیٰ اور عبدالدار، قصی کے بیٹے اور آپس میں بھائی تھے، اور بنو عبد مناف کے بعد ابتدا بنو عبدالعزیٰ سے اس لیے ہوئی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ تھا، کیونکہ وہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ اور ان کے بارے میں کہا: ”یہ مطیبین میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13076]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں سیدنا عثمان اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہما نے بات کی تھی، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، اور ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل بھائی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا اور فرمایا: ”وہ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں مجھ سے الگ نہیں ہوئے، بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“ مرسل روایت میں ہے: ”انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی اور ہم نے ان کا بوجھ اٹھایا“ یا فرمایا: ”اور انہوں نے بڑے ہو کر ہمارا بوجھ اٹھایا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات، واللہ اعلم، اس لیے فرمائی کہ ہاشم بن عبد مناف نے مدینہ میں بنو نجار کی سلمیٰ بنت عمرو بن لبید بن حرام سے شادی کی، اس سے شیبۃ الحمد پیدا ہوئے، پھر ہاشم فوت ہو گئے اور بچہ اپنی ماں کے پاس تھا، جب وہ لڑکپن کو پہنچا اور نشو و نما پا گیا تو اس کے چچا مطلب بن عبد مناف اس کے پاس گئے، اسے اس کی ماں سے لیا اور مکہ لے آئے، وہ اسے اپنی سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، تو کہا گیا: یہ غلام ہے جس کا مالک مطلب ہے، پس یہ نام اس پر غالب آ گیا اور اسے عبدالمطلب کہا جانے لگا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برا ارادہ کیا، تب بنو ہاشم اور بنو مطلب، ان کے مسلمان بھی اور کافر بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب قریش کو معلوم ہو گیا کہ ان کے ہوتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تو وہ اس پر متفق ہو گئے کہ آپس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ تحریر لکھیں کہ نہ ان سے نکاح کریں گے، نہ انہیں نکاح میں دیں گے، نہ انہیں کچھ بیچیں گے اور نہ ان سے کچھ خریدیں گے، تو ابو طالب نے انہیں مکہ کے ایک کنارے میں شعب ابی طالب نامی گھاٹی میں داخل کر دیا، اور قریش بنو ہاشم اور بنو مطلب کے بارے میں دو یا تین سال اپنے اس معاملے پر قائم رہے، یہاں تک کہ وہ سخت مشقت میں پڑ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے قریش کے صحیفے پر دیمک بھیج دی، اس نے اس میں اللہ کا جو بھی نام تھا اسے کھا لیا اور اس میں ظلم، قطع رحمی اور بہتان باقی رہ گیا، اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو خبر دی اور ابو طالب نے اس کے ذریعے اپنی قوم کے خلاف مدد چاہی، اور ہشام بن عمرو بن ربیعہ ایک جماعت کے ساتھ، جن کا ذکر ابن اسحاق نے مغازی میں کیا ہے، صحیفے کے مضمون کو توڑنے اور اسے پھاڑنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام عطیات میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اکٹھا رکھا اور انہیں بنو عبدشمس اور بنو نوفل پر مقدم کیا، اور نوفل سے پہلے بنو عبدشمس سے ابتدا اس لیے ہوئی کہ ہاشم، مطلب اور عبدشمس ماں باپ دونوں کی طرف سے بھائی تھے اور ان کی ماں عاتکہ بنت مرہ تھیں، جبکہ نوفل ان کے صرف باپ کی طرف سے بھائی تھے اور ان کی ماں واقدہ بنت حرمل تھیں۔ اور عبد مناف، عبدالعزیٰ اور عبدالدار، قصی کے بیٹے اور آپس میں بھائی تھے، اور بنو عبد مناف کے بعد ابتدا بنو عبدالعزیٰ سے اس لیے ہوئی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ تھا، کیونکہ وہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ اور ان کے بارے میں کہا: ”یہ مطیبین میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13076]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13077
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، أنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَهِدْتُ غُلَامًا حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، فَمَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَإِنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بچپن میں حلف المطیبین (کے معاہدے) میں شریک ہوا ہوں، میں نہیں پسند کرتا کہ میں اس سے پیچھے ہٹوں، اگرچہ میرے لیے سرخ اونٹ ہی کیوں نہ ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13077]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13078
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَدِيبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ عُمُومَتِي".
ایک سند میں ہے، میں اپنے چچوں کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13078]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13079
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَهِدْتُ حِلْفًا إِلَّا حِلْفَ قُرَيْشٍ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي كُنْتُ نَقَضْتُهُ" وَالْمُطَيَّبُونَ: هَاشِمٌ، وَأُمَيَّةُ، وَزُهْرَةُ، وَمَخْزُومٌ. قَالَ الشَّيْخُ: لَا أَدْرِي هَذَا التَّفْسِيرَ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ مَنْ دُونَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا قِيلَ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّهُمْ غَمَسُوا أَيْدِيَهِمْ فِي طِيبٍ يَوْمَ تَحَالَفُوا وَتَصَافَقُوا بِإِيمَانِهِمْ، وَذَلِكَ حِينَ وَقَعَ التَّنَازُعُ بَيْنَ عَبْدِ مَنَافٍ وَبَنِي عَبْدِ الدَّارِ فِيمَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنَ السِّقَايَةِ وَالْحِجَابَةِ وَالرِّفَادَةِ وَاللِّوَاءِ وَالنَّدْوَةِ، فَكَانَ بَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ تَبَعًا لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، فَكَانَ لَهُمْ بِذَلِكَ شَرَفٌ وَفَضِيلَةٌ وَصَنِيعَةٌ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. وَقَدْ سَمَّاهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فَقَالَ: الْمُطَيَّبُونَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ: بَنُو ⦗٥٩٦⦘ عَبْدِ مَنَافٍ؛ هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ، وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ، وَبَنُو زُهْرَةَ وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَبَنُو تَيْمٍ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، خَمْسُ قَبَائِلَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُمْ حِلفٌ مِنَ الْفُضُولِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی معاہدے میں شریک نہیں ہوا سوائے قریش کے معاہدے حلف المطیبین کے، اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے بدلے میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں نے اسے توڑ دیا ہو۔“ اور «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ ہاشم، امیہ، زہرہ اور مخزوم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا ان سے نیچے کسی راوی کا۔ شیخ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اسے «حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ» ”حلف المطیبین“ کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انہوں نے معاہدہ کیا تھا، اس دن انہوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانا)، حجابہ (کعبہ کی دربانی)، رفادہ (حاجیوں کی میزبانی)، جھنڈا اور دار الندوہ کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان کا نام لیا، پس کہا: «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ قریش کے قبائل تھے؛ بنو عبدمناف سے ہاشم اور مطلب، عبدشمس، نوفل، بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13079]
شیخ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا ان سے نیچے کسی راوی کا۔ شیخ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اسے «حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ» ”حلف المطیبین“ کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انہوں نے معاہدہ کیا تھا، اس دن انہوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانا)، حجابہ (کعبہ کی دربانی)، رفادہ (حاجیوں کی میزبانی)، جھنڈا اور دار الندوہ کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان کا نام لیا، پس کہا: «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ قریش کے قبائل تھے؛ بنو عبدمناف سے ہاشم اور مطلب، عبدشمس، نوفل، بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13079]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ" قَالَ الْقُتَيْبِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: وَكَانَ سَبَبُ الْحِلْفِ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَتَظَالَمُ بِالْحَرَمِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جُدْعَانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَعَاهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ عَلَى التَّنَاصُرِ، وَالْأَخْذِ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ، فَأَجَابَهُمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَعْضُ الْقَبَائِلِ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ سَمَّاهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بْنُو هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَبَنُو زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَبَنُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: فَتَحَالَفُوا فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ، فَسَمَّوْا ذَلِكَ الْحِلْفَ حِلْفَ الْفُضُولِ تَشْبِيهًا لَهُ بِحِلْفٍ كَانَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ جُرْهُمٍ عَلَى التَّنَاصُفِ وَالْأَخْذِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، وَلِلْغَرِيبِ مِنَ الْقَاطِنِ، قَامَ بِهِ رِجَالٌ مِنْ جُرْهُمٍ يُقَالُ لَهُمُ: الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلُ بْنُ وَدَاعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ فَضَالَةَ، فَقِيلَ حِلْفُ الْفُضُولِ جَمْعًا لِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ. قَالَ غَيْرُ الْقُتَيْبِيِّ فِي أَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ: فَضْلٌ وَفَضَالٌ وَفُضَيْلٌ وَفَضَالَةُ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: وَالْفُضُولُ جَمْعُ فَضْلٍ، كَمَا يُقَالُ: سَعْدٌ وَسُعُودٌ، وَزَيْدٌ وَزُيُودٌ، وَالَّذِي فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: أَحْسِبُهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ؛ لِلْحَدِيثِ الْآخَرِ، وَلِأَنَّ الْمُطَيَّبِينَ هُمُ الَّذِينَ عَقَدُوا حِلْفَ الْفُضُولِ. قَالَ: وَأِيُّ فَضْلٍ يَكُونُ فِي مِثْلِ التَّحَالُفِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَأَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ" وَلَكِنَّهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ الَّذِي عَقَدَهُ الْمُطَيَّبُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالسِّيَرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ: إِنَّ قَوْلَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ، غَلَطٌ، إِنَّمَا هُوَ حِلْفُ الْفُضُولِ؛ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُدْرِكْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَدِيمًا قَبْلَ أَنْ يُولَدَ بِزَمَانٍ، ⦗٥٩٧⦘ وَأَمَّا السَّابِقَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَا سَابِقَةَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّهَا أَوَّلُ امْرَأَةٍ أَسْلَمَتْ.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک معاہدے میں شریک ہوا، مجھے پسند نہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ ملیں، اور اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔“ قتیبی کہتے ہیں: اس معاہدے کا سبب یہ تھا کہ قریش حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے تھے، تو عبداللہ بن جدعان اور زبیر بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مظلوم کا حق ظالم سے لینے کے معاہدے کی دعوت دی، تو بنو ہاشم اور قریش کے بعض قبائل نے ان دونوں کی بات مان لی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن اسحاق بن یسار نے ان کے نام ذکر کیے ہیں، کہتے ہیں: بنو ہاشم بن عبد مناف، بنو مطلب بن عبد مناف، بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنو زہرہ بن کلاب اور بنو تیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: انہوں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں معاہدہ کیا اور اس معاہدے کا نام حلف الفضول رکھا، اسے اس معاہدے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو جرہم کے زمانے میں مکہ میں انصاف کرنے، کمزور کا حق طاقتور سے اور پردیسی کا حق مقامی سے لے کر دینے پر ہوا تھا، اسے جرہم کے کچھ لوگوں نے قائم کیا تھا جنہیں فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ کہا جاتا تھا، تو ان کے ناموں کو جمع کرتے ہوئے اسے حلف الفضول کہا گیا۔ قتیبی کے علاوہ دوسروں نے ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ بتائے ہیں۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول، فضل کی جمع ہے، جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطیبین ہے۔ قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے، دوسری حدیث کی وجہ سے، اور اس لیے کہ مطیبین ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: پہلے معاہدے جیسے معاہدے میں کون سی فضیلت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اسے توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ ملیں“؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطیبین نے طے کیا تھا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیرت اور لوگوں کی تاریخ کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس حدیث میں حلف المطیبین کہنا غلطی ہے، وہ حلف الفضول ہی ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف المطیبین کا زمانہ نہیں پایا، کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا تھا۔ اور جس سبقت کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے اس سے مراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام میں سبقت کرنا ہو، کیونکہ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والی عورت تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13080]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن اسحاق بن یسار نے ان کے نام ذکر کیے ہیں، کہتے ہیں: بنو ہاشم بن عبد مناف، بنو مطلب بن عبد مناف، بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنو زہرہ بن کلاب اور بنو تیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: انہوں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں معاہدہ کیا اور اس معاہدے کا نام حلف الفضول رکھا، اسے اس معاہدے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو جرہم کے زمانے میں مکہ میں انصاف کرنے، کمزور کا حق طاقتور سے اور پردیسی کا حق مقامی سے لے کر دینے پر ہوا تھا، اسے جرہم کے کچھ لوگوں نے قائم کیا تھا جنہیں فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ کہا جاتا تھا، تو ان کے ناموں کو جمع کرتے ہوئے اسے حلف الفضول کہا گیا۔ قتیبی کے علاوہ دوسروں نے ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ بتائے ہیں۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول، فضل کی جمع ہے، جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطیبین ہے۔ قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے، دوسری حدیث کی وجہ سے، اور اس لیے کہ مطیبین ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: پہلے معاہدے جیسے معاہدے میں کون سی فضیلت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اسے توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ ملیں“؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطیبین نے طے کیا تھا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیرت اور لوگوں کی تاریخ کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس حدیث میں حلف المطیبین کہنا غلطی ہے، وہ حلف الفضول ہی ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف المطیبین کا زمانہ نہیں پایا، کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا تھا۔ اور جس سبقت کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے اس سے مراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام میں سبقت کرنا ہو، کیونکہ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والی عورت تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13080]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف