السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2744. -- باب: ما جاء في موضع الوسم وفي صفة الوسم
-- باب: داغنے کی جگہ اور داغنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ فَقَالَ:" لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَلَمْ أَنْهَ أَنَّهُ لَا يَسِمُ أَحَدٌ الْوَجْهَ وَلَا يَضْرِبُ أَحَدٌ الْوَجْهَ؟".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنے جلائے گئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کام کیا ہے، کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چہرے پر نہ داغے اور نہ چہرے پر مارے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13259]
تخریج الحدیث: «مسلم 2116»
الحكم على الحديث: مسلم 2116
حدیث نمبر: 13260
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مُوسَمَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَوَاللهِ لَا أَسِمُهَا إِلَى أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ" فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى فِي الْجَاعِرَتَيْنِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى وَلَيْسَ فِيهِ مَنِ الْقَائِلُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا۔ (ایک شخص نے، جس کا نام اس روایت میں مذکور نہیں) کہا: ”اللہ کی قسم! میں اسے چہرے سے سب سے دور والی جگہ پر ہی داغوں گا۔“ پھر اس نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کے سرینوں پر داغ دیا گیا، اور وہ پہلا شخص تھا جس نے سرینوں پر داغا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13260]
تخریج الحدیث: «مسلم 2118»
الحكم على الحديث: مسلم 2118
حدیث نمبر: 13261
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، صَاحِبُ ابْنِ سَوَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:" أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَذَا؟"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: لَا جَرَمَ لَا أَسِمُ، إِلَّا فِي أَبْعَدِ مَكَانٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَوَسَمَ فِي الْجَاعِرَتَيْنِ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا، فرمایا: ”کیا میں نے منع نہیں کیا تھا؟“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً اب میں چہرے سے سب سے دور جگہ پر ہی داغ لگاؤں گا، پھر انہوں نے اس کے سرین پر داغا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13261]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13262
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَسِمُ فِي الْوَجْهِ، فَلَمَّا" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ قَالَ: لَا أَسِمُ، إِلَّا فِي أَسْفَلِ مَكَانٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَوَسَمَ فِي الْجَاعِرَتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ چہرے پر نشان لگاتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”چہرے پر نہ داغا جائے“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں داغ نہیں لگاتا مگر چہرے کی نچلی طرف“، پھر انہوں نے اس کے سرین پر داغا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13262]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13263
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَوْنُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ قُرَيْعٍ، أَخْبَرَنِي غَيْلَانُ بْنُ جُنَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادٍ، أَحَدِ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جَاوَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُهَا فِي أَنْفِهَا، فَقَالَ:" يَا جُنَادَةُ أَمَا وَجَدْتَ عَظْمًا تَسِمُهَا فِيهِ، إِلَّا الْوَجْهَ أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقِصَاصَ" قَالَ: أَمْرُهَا إِلَيْكَ قَالَ:" ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ ⦗٥٧⦘ وَسْمٌ"، فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ، وَابْنَةِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ، فَقَالَ:" أَتَبِيعُنِي نَارَهَا أَشْتَرِي نَارَهَا بِصَدَقَتِهَا؟" قَالَ: أَمْرُهَا إِلَيْكَ، فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخِّرْ"، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ:" أَخِّرْ أَخِّرْ" حَتَّى بَلَغْتُ الْفَخِذَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِمْ عَلَى بَرَكَةٍ" قَالَ: فَوَسَمْتُهَا فِي أَفْخَاذِهَا وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَانِ فَكَانَتْ تِسْعِينَ".
سیدنا جنادہ بن جراد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لے کر آیا اور میں نے اس کی ناک پر داغا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جنادہ! تجھے چہرے کے علاوہ کوئی اور عضو نہیں ملا جس کو تو داغتا؟ تیرے آگے حساب کتاب ہے۔“ انہوں نے کہا: معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کوئی لے کر آ جس پر کوئی نشان نہ ہو۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ابن لبون، بنت لبون اور حقہ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے ان کا داغ (نشان) بیچے گا؟ میں ان کا داغ ان کے صدقے کے بدلے خریدتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: معاملہ آپ کے سپرد ہے، میں نے داغنے کا آلہ پکڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیچھے کر۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کہتے رہے: ”اور پیچھے، اور پیچھے“، یہاں تک کہ میں ران تک پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت والی جگہ پر داغ۔“ تو میں نے اس کی رانوں پر داغا، اس کا صدقہ دو حقے تھے اور وہ نوے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13263]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13264
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" دَخَلْتُ بِأَخٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ، فَرَأَيْتُهُ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ شَاءً أَحْسَبُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھٹی دیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باڑے کے اندر بکریوں کو نشان (داغ) لگاتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتا ہے کہ میرے خیال میں انہوں نے کہا: ان کے کانوں میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13264]
تخریج الحدیث: «بخاري، مسلم 2119»
الحكم على الحديث: بخاري، مسلم 2119
حدیث نمبر: 13265
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:" كُنْتُ بِبَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ مَكْتُوبٌ عَلَى أَفْخَاذِهَا عِدَّةٌ لِلَّهِ" قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ الْكَلَامُ عَلَى مَا رُوِيَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرِّكَازِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِهَذَا الْكِتَابِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
صفوان بن عمر کہتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دروازے پر تھا کہ ہم پر ایسا گھوڑا نکلا کہ اس کی رانوں پر لکھا ہوا تھا: «عُدَّةٌ لِلَّهِ» ”اللہ کے لیے سامانِ جنگ“۔
شیخ فرماتے ہیں: رکاز کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو منقول ہے، اس پر کتاب الزکوٰۃ میں بحث گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13265]
شیخ فرماتے ہیں: رکاز کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو منقول ہے، اس پر کتاب الزکوٰۃ میں بحث گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13265]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن