السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2738. -- باب: لا يأخذون من سهم العاملين بالعمالة شيئا
-- باب: وہ صدقہ وصول کرنے والوں کے حصے میں سے اجرت کے طور پر کچھ نہیں لیں گے
حدیث نمبر: 13240
وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ لَنَا:" إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ".
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور نہ تو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز ہے اور نہ ہی ان کی آل کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13240]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13241
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13241]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2739. -- باب: موالي بني هاشم، وبني المطلب
-- باب: بنو ہاشم اور بنو مطلب کے موالی (آزاد کردہ غلاموں) کا بیان
حدیث نمبر: 13242
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبُ مِنْهَا قَالَ: لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّ" الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم میں سے ایک شخص کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا تو اس نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میرا ساتھی بن جا، جو حصہ مجھے ملے گا، تجھے بھی ملے گا۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں۔ یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔“ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، جو قوم کے غلام ہوتے ہیں وہ اسی قوم میں سے ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13242]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13243
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، وَالْحَوْضِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا: أنبأ شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13243]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: اسْتُعْمِلَ أَرْقَمُ الزُّهْرِيُّ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَاسْتَتْبَعَ أَبَا رَافِعٍ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا رَافِعٍ، إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" ⦗٥١⦘ رِوَايَةُ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَانَ سَيِّئَ الْحِفْظِ كَثِيرَ الْوَهْمِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ارقم زہری کو صدقات پر عامل مقرر کیا گیا تو انہوں نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو ساتھ چلنے کو کہا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو رافع! صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے، اور قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے۔“
شعبہ کی حکم سے روایت ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے زیادہ درست ہے، اور یہ ابن ابی لیلیٰ کمزور حافظے والے اور بہت زیادہ وہم کرنے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13244]
شعبہ کی حکم سے روایت ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے زیادہ درست ہے، اور یہ ابن ابی لیلیٰ کمزور حافظے والے اور بہت زیادہ وہم کرنے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13244]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13245
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَيْتُهَا بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَتْ: احْذَرْ شَبَابَنَا وَمَوَالِيَنَا، فَإِنَّ مَيْمُونًا، أَوْ مِهْرَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِيَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، فَلَا تَأْكُلُوا الصَّدَقَةَ".
عطاء بن سائب فرماتے ہیں: میں ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے پاس صدقہ کا مال لایا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے جوانوں اور غلاموں کو اس سے بچانا، حضرت میمون یا مہران رضی اللہ عنہما جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہم اہل بیت صدقہ سے روک دیے گئے ہیں اور ہمارے غلام ہم میں سے ہیں پس تم صدقہ نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13245]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق 6942»
الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزاق 6942
حدیث نمبر: 13246
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: أَوْصَى إِلِيَّ رَجُلٌ بِوَصِيَّةٍ مِنَ الزَّكَاةِ أَوْ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَتْ:" احْذَرْ عَلَى شَبَابِنَا أَنْ يَأْخُذُوا مِنْهَا" ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.
دوسری روایت میں یوں الفاظ ہیں: «اِحْذَرْ عَلَىٰ شَبَابِنَا أَنْ يَأْخُذُوا مِنْهَا» ”ہمارے نوجوانوں کے متعلق ڈرو کہ وہ اس میں سے کچھ لے لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13246]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2740. -- باب: لا تحرم على آل محمد صلى الله عليه وسلم صدقة التطوع
-- باب: آل محمد ﷺ پر نفلی صدقہ حرام نہیں ہے
حدیث نمبر: Q13247
رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ قَالَ الشَّافِعِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَتَصَدَّقَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ بِأَمْوَالِهِمَا وَذَلِكَ أَنَّ هَذَا تَطَوُّعٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى بَرِيرَةَ، وَذَلِكَ أَنَّهَا مِنْ بَرِيرَةَ تَطَوُّعٌ لَا صَدَقَةٌ.
ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر) رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم پر صرف فرض صدقہ (زکاۃ) حرام کیا گیا ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما نے بنو ہاشم اور بنو مطلب پر اپنے اموال صدقہ کیے، اور یہ اس لیے (جائز تھا) کہ یہ نفلی صدقہ تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ (روایت) گزر چکی ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے میں سے ہدیہ قبول فرمایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور یہ اس لیے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے وہ نفلی عطیہ تھا، صدقہ نہیں تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: Q13247]
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما نے بنو ہاشم اور بنو مطلب پر اپنے اموال صدقہ کیے، اور یہ اس لیے (جائز تھا) کہ یہ نفلی صدقہ تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ (روایت) گزر چکی ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے میں سے ہدیہ قبول فرمایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور یہ اس لیے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے وہ نفلی عطیہ تھا، صدقہ نہیں تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: Q13247]
حدیث نمبر: 13247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُتِيَ ⦗٥٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا: ”اے اللہ کے نبی! یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ پر صدقہ کیا گیا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13247]
تخریج الحدیث: «مسلم 1504»
الحكم على الحديث: مسلم 1504
حدیث نمبر: 13248
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَعَلَيْهَا صَدَقَةٌ" قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے اور اس کے لیے صدقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13248]
تخریج الحدیث: «بخاري 2577۔ مسلم 1074»
الحكم على الحديث: بخاري 2577