السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2730. -- باب: سهم سبيل الله
-- باب: فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13200
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِلْغَنِيِّ إِذَا كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، علاوہ اس غنی کے جو اللہ کے راستے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13200]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13201
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ يُخَالِفُونَ وَلَا يُجَاهِدُونَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ" قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَقُمْتُ إِلَى أُسَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا حَدَّثَنِي بِهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ وَحَدَّثْتُهُ بِهِ؟ فَقَالَ: صَدَقَ جَاءَنَا بِهِ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عمرو بن ابی قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، اس میں لکھا تھا کہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑنے کے لیے مال لے لیتے ہیں، پھر وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے، جس نے یہ کام کیا ہم زیادہ حق دار ہیں اس مال کے یہاں تک کہ ہم ان سے وہ مال لے لیں جو انہوں نے جہاد کے نام پر لیا۔
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13201]
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13201]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن ابي شيبه 32826»
الحكم على الحديث: حسن
2731. -- باب: سهم ابن السبيل
-- باب: ابن السبیل (مسافر) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي يَعْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، أَوْ يَكُونُ لَكَ جَارٌ مِسْكِينٌ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ ابْنَ سَبِيلٍ غَنِيًّا فِي بَلَدِهِ مُحْتَاجًا فِي سَفَرِهِ، وَحَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ طَرِيقًا، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ ابْنِ السَّبِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے اس بندے کے علاوہ جو اللہ کے راستے میں ہے اور مسافر بندہ یا تیرا کوئی پڑوسی جو مسکین ہو اس کو صدقہ دیا گیا ہو اور وہ تجھے تحفہ دے دے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، وہ مسافر ہے جو اپنے شہر میں مال دار ہو اور سفر میں محتاج ہو۔ اور عطاء بن یسار کی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے اور اس میں مسافر کا ذکر نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13202]
اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، وہ مسافر ہے جو اپنے شہر میں مال دار ہو اور سفر میں محتاج ہو۔ اور عطاء بن یسار کی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے اور اس میں مسافر کا ذکر نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13202]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2732. -- باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة
-- باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
حدیث نمبر: 13203
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ هَارُونَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ إنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَهَا بِهَا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالُوا: أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ أَوْ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ ⦗٣٧⦘ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ كَمَا مَضَى.
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مقروض ہوگیا، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو ہم تمہارے لیے اس کا حکم دیں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے قبیصہ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: وہ آدمی جس کو چٹی پڑگئی تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ وہ قرض ادا ہوگیا، پھر وہ رک جائے؛ وہ آدمی جسے اچانک آفت پہنچی اور اس کا مال برباد ہوگیا اس نے مانگا، یہاں تک کہ اس کا معاملہ سیدھا ہوگیا، پھر وہ رک گیا؛ تیسرا سخت ضرورت مند آدمی جس کے متعلق اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ گزر بسر آسان ہوگئی، پھر وہ رک گیا، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، (جو ایسا کرتا ہے) وہ حرام کھاتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13203]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13204
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَعْلَى مَوْلًى لِفَاطِمَةَ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلسَّائِلِ حَقٌّ، وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ"، وَفِي رِوَايَةِ الْفِرْيَابِيِّ" وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسِهِ".
فاطمہ بنت حسین بن علی رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنے والے کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر ہی کیوں نہ سوار ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13204]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13205
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13205]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13206
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ مَا يَكْفِي فُقَرَاءَهُمْ، فَإِنْ جَاعُوا وَعَرُوا جَهَدُوا فِي مَنْعِ الْأَغْنِيَاءِ، فَحَقٌّ عَلَى اللهِ أَنْ يُحَاسِبَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُعَذِّبَهُمْ عَلَيْهِ" مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ هَذَا هُوَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ وَأَبُو جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدُ بِنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي أَبَا جَعْفَرٍ، فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مال دار لوگوں پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ اپنے مال کی اتنی مقدار سے فقیر لوگوں کی مدد کریں جو ان کو کفایت کر جائے، اگر وہ بھوکے ہوں یا وہ ننگے ہوں اور اگر مال داروں نے ایسا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ قیامت والے دن ان کا محاسبہ کرے گا اور ان کو اس بات پر عذاب دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13206]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ"، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا ⦗٣٨⦘ الْغِنَى؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ" قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ: حِفْظِي أَنَّ شُعْبَةَ كَانَ لَا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ، فَقَدْ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس اتنا مال تھا جو اسے کفایت کرے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر نوچنے، دانت لگانے اور زخموں کے نشانات ہوں گے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! غنی کیا ہے؟ فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔“
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: یہ حدیث ہمیں زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13207]
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: یہ حدیث ہمیں زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13207]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13208
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذِهِ الْحِكَايَةِ بَلْ إِنَّمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ: هِيَ حِكَايَةٌ بَعِيدَةٌ وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ مَا خَفِيَ عَلَى أَهْلِ الْعِلْمِ.
یعقوب کہتے ہیں کہ یہ بعید از قیاس حکایت ہے، اگر حکیم بن جبیر کی حدیث «عَنْ زُبَیْدٍ» ہوتی تو یہ اہل علم پر مخفی نہ رہتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13208]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُو مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ تُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنِّي لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيهِ،" مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ:" اللِّقْحَةُ لَكَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ، فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ، هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
بنو اسد کا ایک آدمی کہتا ہے کہ میں اور میری گھر والی بقیع الغرقد میں آئے، مجھے میری گھر والی نے کہا کہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے کوئی چیز مانگ کر لا (تاکہ) ہم کھائیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو سوال کر رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو میں تجھے دوں۔“ وہ آدمی جب گیا تو وہ غصے میں تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اللہ کی قسم! تو اس کو دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غصہ ہو رہا ہے اور میرے پاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میں اسے دوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے سوال کیا اور حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر کی کوئی چیز ہے تو اس نے چمٹ کر سوال کیا ہے۔“ اسدی کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: ہماری دودھ والی اونٹنی اوقیہ سے بہتر ہے اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس (آدمی) نے کہا: تو میں لوٹا اور اس کے متعلق کوئی سوال نہ کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور کشمش پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 2111»
الحكم على الحديث: صحيح