🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2721. -- باب: العامل على الصدقة يأخذ منها بقدر عمله وإن كان موسرا
-- باب: صدقہ وصول کرنے والا اس میں سے اپنے کام کے بقدر حصہ لے گا خواہ وہ مالدار ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13171
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَلَّمَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَجُلًا اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَعْفَانِي مِنَ الْخُرُوجِ مَعَهُ، وَأَعْطَانِي رِزْقِي وَأَنَا مُقِيمٌ.
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میرے بارے میں ایک ایسے شخص سے بات کی جو صدقہ (لینے) پر عامل بنایا گیا تھا تو اس نے مجھے اپنے ساتھ (وصولی کے لیے) نکلنے سے معاف کر دیا اور مجھے میرا وظیفہ دیا؛ حالانکہ میں مقیم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13171]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2722. -- باب: لا يكتم منها شيء
-- باب: اس (صدقہ) میں سے کوئی چیز نہ چھپائی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ ⦗٢٥⦘ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا، فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَحَمَّلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَلْيَأْتِنَا بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُعْطِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى".
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے ہمارے ساتھ کوئی کام کیا، پھر اس نے اگر ایک سوئی بھی چھپالی یا اس سے بڑی کوئی چیز تو وہ خائن ہے، وہ قیامت والے دن آئے گا اور وہ چیز اس کے ساتھ (ہوگی)۔“ ایک سیاہ رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، جو انصار میں سے تھا، راوی کہتا ہے: گویا میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس نے کہا: اپنا کام مجھ سے واپس لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے کہا کہ ابھی آپ نے اس کے بارے میں وعید سنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس کو ہم نے کسی کام پر عامل بنایا وہ چھوٹی اور بڑی سب چیزیں لے کر آئے، جو اس کو دیا جائے اس کو لے لے اور جس چیز سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13172]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13173
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أُرَاهُ، فَقَالَ: دُونَكَ عَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنِ الْفَضْلِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اسی حدیث کی مثل ہے جو پیچھے گزری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13173]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13174
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ الْعَامِلُ حِينَ قَدِمَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ إِنْ كَانَ يُهْدَى لَكَ أَمْ لَا؟"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ" فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِيَنَا، فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ وَلَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا وَلَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ" قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاسْأَلُوهُ ⦗٢٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو صدقے پر عامل بنایا، جب عامل آیا تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہے، یہ میرے لیے جو مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہتا تو کیا تجھے یہ تحفے دیے جاتے یا نہ؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو منبر پر کھڑے ہوئے اور نماز کے بعد تشہد پڑھا اور اللہ کی تعریف اور ثنا بیان کی جو اس کے لائق تھی، پھر آپ نے فرمایا: ”عاملوں (صدقے لینے والوں) کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان کو صدقوں پر مقرر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے تحفے ہیں اور یہ صدقے کا مال ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر دیکھتا کہ کیا اس کو تحفے دیے جاتے ہیں یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی قبول کرے گا وہ قیامت والے دن اس کو لے کر آئے گا، اگر وہ اونٹ ہوں گے تو اس نے اپنے کندھوں پر اس کو اٹھایا ہوا ہو گا اور اس کی بلبلانے کی آواز ہو گی اور اگر وہ گائے ہو گی تو اس کے بولنے کی آواز آ رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہو گی تو وہ اس کو بھی لے کر آئے گا اور اس کی منمنانے کی آواز ہو گی، بے شک میں نے یہ تمام باتیں تم کو بتا دی ہیں۔“
ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ (اتنا) بلند کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سنا تو تم انہیں سے پوچھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13174]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم1832»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13175
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ"، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: يَعْنِي الْعَشَّارَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَالْمَكْسُ: هُوَ النُّقْصَانُ، فَإِذَا كَانَ الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَاتِ يَنْتَقِصُ مِنْ حُقُوقِ الْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِيهِمْ إِيَّاهَا بِالتَّمَامِ، فَهُوَ حِينَئِذٍ صَاحِبُ مَكْسٍ يُخَافُ عَلَيْهِ الْإِثْمُ وَالْعُقُوبَةُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”(ظلماً) ٹیکس لینے والا جنت میں کبھی بھی داخل نہ ہوگا۔“
ٹیکس سے مراد وہ نقصان ہے جو عامل مساکین کے حقوق میں کمی کرتا ہے اور انہیں ان کے پورے حقوق نہیں دیتا، (جب وہ یہ کام کرے گا) تو وہ صاحبِ ٹیکس ہوگا۔ اس پر جو گناہ ہے اور اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13175]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2723. -- باب: فضل العامل على الصدقة بالحق
-- باب: حق و دیانت کے ساتھ صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13176
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عامل جو حق کے ساتھ صدقہ وصول کرتا ہے اس کی فضیلت اس طرح ہے جس طرح اللہ کے راستے میں ایک غازی ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ آئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13176]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 4/ 172۔173۔ 174»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2724. -- باب: من يعطى من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح خمس الفيء والغنيمة ما يتألف به وإن كان مسلما
-- باب: مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب مقصود ہو) میں سے اس شخص کا بیان جسے مال فے اور غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے مصالح کے حصے میں سے تالیف قلب کے لیے دیا جائے اگرچہ وہ مسلمان ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13177
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَكَانَ هَمُّهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَأَحَاطَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ شَجَرَةٌ رِدَاءَهُ، فَقَالَ:" رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيَّ نَعَمًا مِثْلَ تَمْرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا" ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ ذِرْوَةِ سَنَامِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ:" مَالِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ، وَلَا مِثْلُ هَذِهِ، إِلَّا الْخُمُسَ، وَهُو مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ رُدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَشَنَارٌ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس لوٹے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے (اس غرض سے) اونٹنی کو گھیر لیا، آپ کی چادر درخت نے اچک لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر مجھے لوٹا دو۔ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں بخل کروں گا؟ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تہامہ کی کھجوروں جتنے جانور مالِ فے میں دیتا تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کی کوہان سے کچھ بال لیے اور فرمایا: ”جو مالِ فے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے میرے لیے اس (بال) کے برابر بھی کچھ نہیں سوائے خمس کے، اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے، تم دھاگا اور سوئی لوٹانا فرض سمجھو اس لیے کہ خیانت عار اور رسوائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13177]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٢٧⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحُمَيْدِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ جَلَّ وَعَزَّ عَلَيْكُمْ مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال فئی اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (بال) کے برابر بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے ”خمس“ کے، اور وہ بھی تم پر ہی لوٹایا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13178]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13179
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي بِالْخُمُسِ حَقُّهُ مِنَ الْخُمُسِ وَقَوْلُهُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ يَعْنِي: فِي مَصْلَحَتِكُمْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مالِ فے میں سے میرے لیے خمس کے سوا کچھ نہیں اور خمس بھی تم ہی میں لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خمس سے مراد خمس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”تم ہی میں لوٹا دیا جاتا ہے“ کا مطلب ہے: تمہاری مصلحتوں میں (خرچ کیا جاتا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13179]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح، قَالَ: وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ عُمَرُ أَوْ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ:.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان بن حرب، سیدنا صفوان بن امیہ، سیدنا عیینہ بن حصن اور سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہم کو سو سو اونٹ دیے اور سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13180]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1060»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں