🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2724. -- باب: من يعطى من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح خمس الفيء والغنيمة ما يتألف به وإن كان مسلما
-- باب: مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب مقصود ہو) میں سے اس شخص کا بیان جسے مال فے اور غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے مصالح کے حصے میں سے تالیف قلب کے لیے دیا جائے اگرچہ وہ مسلمان ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13181
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: ⦗٢٨⦘ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ يَوْمَ حُنَيْنٍ طَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قَوْمِهِ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدَعْ مَعَهُمْ أَحَدًا، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو الرَّأْيِ مِنَّا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأُعْطِي رَجُلًا حَدِيثَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، فَأَتَأَلَّفَهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" إِنَّكُمْ سَتَنْقَلِبُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ" قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمْ نَصْبِرْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مالِ فے عطا کیا جو ہوازن قبیلے کے مال میں سے حنین والے دن حاصل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیے تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اللہ پاک اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیا ہے، یعنی محروم کر دیا ہے اور ہماری تلواریں ابھی تک خون کے قطرے بہا رہی ہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار والوں کو بلا کر چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے ساتھ کسی اور کو نہ رہنے دیا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف سے بات پہنچی تھی تو انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو ہم میں سے سمجھدار لوگ ہیں، انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ یہ بات ان لوگوں نے کی ہے جو نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو محروم کر دیا ہے؛ حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون بہہ رہا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو کفر کو چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، تاکہ ان کی دل جوئی ہو، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ گھر مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر جاؤ؟“ فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے۔“ پھر انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد (دوسروں کو تم پر) سخت ترجیح دیکھو گے، پس تم بس صبر کرنا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملو، بیشک میں حوض پر ہوں گا۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم صبر نہ کر سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13181]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1059»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ، فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا، فَقَالَ:" إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُهُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِيهِ، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ" مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَقَالَ عَمْرٌو: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُرَ النَّعَمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ.
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو دیا اور دوسروں کو محروم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی آدمی کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں، جس کو میں محروم کرتا ہوں میں اس سے زیادہ محبت کرتا ہوں، اس کی نسبت جس کو میں دیتا ہوں، مال ان کو دیتا ہوں جن کے دل میں جزع و فزع، بے صبری ہوتی ہے اور محروم ان لوگوں کو کرتا ہوں جن کے دل کو اللہ پاک نے بے پروا کر دیا ہے“، ان میں سے سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ کلمات پیارے لگے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13182]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 923۔ 3145»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدُ ⦗٢٩⦘ بَنِي نَبْهَانَ، فَغَضِبَتْ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ"، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ يُطِعِ اللهَ إَنْ عَصَيْتُهُ يُأَمِّنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تُأَمِّنُونِي"، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إَنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چار بندوں میں تقسیم کیا: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری اور زید الخیل طائی میں، تو قریش کے سردار ناراض ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نجد والوں کو دیتے ہیں لیکن ہم کو محروم کر دیا ہے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔“ ایک آدمی آیا جو گھنی داڑھی والا، پھولے ہوئے گال والا، دھنسی ہوئی آنکھوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا اور گنجے سر والا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کی اطاعت کون کرتا ہے؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا۔ قوم میں سے ایک آدمی نے اجازت طلب کی کہ میں اس کو قتل کر دوں (اور شاید وہ آدمی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اس کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو وہ چھوڑ دیں گے اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان لوگوں کو پا لیا تو میں ان کو قوم عاد کی طرح ضرور قتل کر دوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13183]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم90»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2725. -- باب: من يعطي من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح رجاء أن يسلم
-- باب: مؤلفۃ القلوب میں سے کسی شخص کو مصالح کے حصے میں سے اس امید پر دینے کا بیان کہ وہ اسلام لے آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ سِلَاحٌ؟" قَالَ: عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا؟ قَالَ:" بَلْ عَارِيَةٌ" قَالَ فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا، وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ، فَفُقِدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ:" إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ".
آلِ عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس اسلحہ ہے؟“ صفوان نے کہا: «عَارِيَّةً» ”عاریتاً“ یا زبردستی (غصب کے طور پر)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھار۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے ادھار میں چالیس اور تیس کے درمیان زرہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کیا، جب مشرکین کو شکست ہوئی تو صفوان کی زرہوں کو جمع کیا گیا، کچھ زرہیں گم ہو گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفوان! تیری زرہیں ہم سے گم ہو گئی ہیں، کیا ہم پر کوئی چٹی وغیرہ ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں، اس لیے کہ آج میرے دل میں وہ چیز ہے جو اس دن نہیں تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13184]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13185
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ غِيَاثٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَظُنُّهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي أَدَاةٍ ذُكِرَتْ لَهُ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَيْنَ الْأَمَانُ؟ أَتَأْخُذُهَا غَصْبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمْسِكَ أَدَاتَكَ فِامْسِكْهَا، وَإِنْ أَعَرْتَنِيهَا، فَهِيَ ضَامِنَةٌ عَلَيَّ حَتَّى نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ"، فَقَالَ صَفْوَانُ: لَيْسَ بِهَذَا بَأْسٌ وَقَدْ أَعَرْتُكَهَا، فَأَعْطَاهُ يَوْمَئِذٍ زَعَمُوا مِائَةَ دِرْعٍ وَأَدَاتَهَا، وَكَانَ صَفْوَانُ ⦗٣٠⦘ كَثِيرَ السِّلَاحِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْفِنَا حَمْلَهَا" فَحَمَلَهَا صَفْوَانُ ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي حَرْبِ حُنَيْنٍ قَالَ فِيهَا: وَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَقَالَ: أَبْشِرْ بِهَزِيمَةِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: أَبَشَّرْتَنِي بِظُهُورِ الْأَعْرَابِ، فَوَاللهِ لَرَبٌّ مِنْ قُرَيْشٍ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَبٍّ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَبَعَثَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: اسْمَعْ لِمَنِ الشِّعَارُ، فَجَاءَهُ الْغُلَامُ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ، فَقَالَ: ظَهَرَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ ذَلِكَ شِعَارُهُمْ فِي الْحَرْبِ" لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَحَدِيثِ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کی طرف کچھ ہتھیاروں کے بارے میں پیغام بھیجا جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا تھا کہ وہ ان کے پاس ہیں، اور ان سے وہ مانگے، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ضامن کہاں ہے؟ کیا آپ انہیں زبردستی لیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اپنا اسلحہ روک لے، اگر تو مجھے عاریتاً دے دے تو واپس لوٹانے تک میں اس کا ضامن ہوں۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی حرج نہیں، میں آپ کو عاریتاً دیتا ہوں، اس نے اس دن آپ کو وہ (ہتھیار) دے دیے۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سو زرہیں اور ان کا ساز و سامان۔ صفوان رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا اسلحہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اٹھا کر لے جانے میں ہماری کفایت کرو۔“ تو صفوان رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا، پھر غزوہ حنین کا ذکر کیا، جس میں ہے کہ قریش کا کوئی آدمی صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اس نے کہا: تجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی ہزیمت مبارک ہو، صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو مجھے دیہاتی عربوں کے غلبہ کی خوشخبری دیتا ہے؟ اللہ کی قسم! قریش کا کوئی سردار مجھے دیہاتیوں کے سردار سے زیادہ پسند ہے، صفوان رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا اور کہا: سن شعار کون سا ہے؟ غلام آیا، اس نے کہا: میں نے انہیں «يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ» ”اے بنو عبدالرحمن، اے بنو عبداللہ، اے بنو عبیداللہ“ کہتے ہوئے سنا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے۔ لڑائی میں یہ ان کا شعار تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13185]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَكْفَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلِيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلِيَّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں مدینے سے نکلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو دیے، پھر سو دیے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی دیا، وہ میرے نزدیک تمام لوگوں میں سے ناپسندیدہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مجھے دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک تمام لوگوں سے پسندیدہ ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13186]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2313»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13187
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حُمَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ:" يَا قَوْمُ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا أَعْطَى عَطِيَّةً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ.
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ضرور دیتے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان جو بکریاں تھیں دینے کا حکم دیا اور جب وہ اپنی قوم کے پاس گیا تو اس نے کہا: ”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا دیتے ہیں کہ وہ تو فاقے سے بھی نہیں ڈرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13187]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2312»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13188
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، وَاللَّفْظُ، لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ:" أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ: إنْ ⦗٣١⦘ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان جو بکریاں تھیں مانگ لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دیں، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مسلمان ہو جاؤ، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا دیتے ہیں جیسے انہیں فقر کا کوئی ڈر نہیں“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام قبول کرتا تھا، پھر وہ اسلام قبول کرتے ہی (تھوڑے عرصے میں) ایسا ہو جاتا کہ اسلام اسے دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2726. -- باب: من يعطى من المؤلفة قلوبهم من سهم الصدقات
-- باب: مؤلفۃ القلوب میں سے جنہیں صدقات کے حصے سے دیا جائے گا ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13188M
Not Found.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقات کی اقسام میں تالیفِ قلب کے لیے حصہ ہے، جس کو سب نے پچھلی حدیث سے یاد رکھا ہے کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: صدقات کے تین سو اونٹ اس کی قوم نے دیے ہیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیس اونٹ دیے اور حکم دیا کہ انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، چونکہ ان کی قوم نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے تو وہ ایک ہزار افراد کی ٹولی کے پاس آئے۔ حدیث میں یہ وضاحت نہیں کہ انہوں نے کہاں سے دیے تو لگتا ہے کہ صرف احادیث سے استدلالات ہیں۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔ انہوں نے خاص «مُؤَلَّفَةِ الْقُلُوبِ» ”تالیفِ قلب والوں“ والے حصے سے دیا اور انہیں زیادہ دیا، تاکہ ان کی اس میں رغبت زیادہ ہو۔ ان کے علاوہ دوسری قوم کو تالیفِ قلب کے لیے دیا؛ کیونکہ وہ قوم عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی قوم کی طرح پختہ مسلمان نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13188M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2727. -- باب: سقوط سهم المؤلفة قلوبهم وترك إعطائهم عند ظهور الإسلام، والاستغناء عن التألف عليه
-- باب: اسلام کے غلبہ اور تالیف قلب سے بے نیاز ہو جانے کے وقت مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہونے اور انہیں نہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13189
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: جَاءَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِنْدَنَا أَرْضًا سَبِخَةً لَيْسَ فِيهَا كَلَأٌ وَلَا مَنْفَعَةٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَقْطَعَنَاهَا لَعَلَّنَا نَزْرَعَهَا وَنَحْرُثَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْإِقْطَاعِ، وَإِشْهَادِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ وَمَحْوِهِ إِيَّاهُ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَأَلَّفُكُمَا وَالْإِسْلَامُ يَوْمَئِذٍ ذَلِيلٌ، وَإِنَّ اللهَ قَدْ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ فَاذْهَبَا، فَأَجْهِدَا جَهْدَكُمَا لَا أَرْعَى الله عَلَيْكُمَا إِنْ رَعَيْتُمَا" وَيُذْكَرُ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ أَحَدٌ، إِنَّمَا كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْقَطَعَتِ الرِّشَا، وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: أَمَّا الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ فَلَيْسَ الْيَوْمَ".
عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! ہمارے پاس بنجر زمین ہے جس میں کوئی انگوری نہیں اور نہ کوئی نفع مند چیز، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان میں کھیتی اور زراعت وغیرہ کریں تو آپ ہمیں وہ زمین دے دیں۔“ آگے لمبی حدیث ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو اس لیے دی تھی کہ تمہاری تالیفِ قلبی ہو اور اسلام ان دنوں پسماندہ حالات میں تھا، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دی ہے اس لیے تم جاؤ اور پوری محنت مشقت کرو، اگر تم نے (اپنے آپ سے) رعایت کی تو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رعایت نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13189]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں