🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2727. -- باب: سقوط سهم المؤلفة قلوبهم وترك إعطائهم عند ظهور الإسلام، والاستغناء عن التألف عليه
-- باب: اسلام کے غلبہ اور تالیف قلب سے بے نیاز ہو جانے کے وقت مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہونے اور انہیں نہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13190
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ وَأَبَا بُرْدَةَ بِالزَّكَاةِ وَهُمَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ فَأَخَذَاهَا، ثُمَّ جِئْتُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْتُ أَبَا وَائِلٍ وَحْدَهُ، فَقَالَ: رُدَّهَا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، قُلْتُ: فَمَا أَصْنَعُ بِنَصِيبِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ قَالَ:" رُدَّهُ عَلَى آخَرِينَ".
ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابو وائل اور ابوبردہ رحمہما اللہ کے پاس زکاۃ لے کر آیا اور ان دونوں کی ذمہ داری بیت المال پر تھی اور انہوں نے اس مال کو وصول کر لیا۔ پھر میں دوسری مرتبہ جب زکاۃ لے کر آیا تو صرف ابو وائل رحمہ اللہ تھے، انہوں نے کہا کہ اس مال کو لے جاؤ اور اس کو مستحق میں تقسیم کر دو تو میں نے کہا: میں ان لوگوں کے حصے کا کیا کروں جن کو تالیفِ قلبی کے لیے دیا جاتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: اس کو دوسروں پر لوٹا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13190]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2728. -- باب: سهم الرقاب
-- باب: گردنیں (غلام) آزاد کرانے کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13191
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهَيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا مُؤَمَّلٍ، أَوَّلُ مُكَاتَبٍ كُوتِبَ ⦗٣٣⦘ فِي الْإِسْلَامِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِينُوا أَبَا مُؤَمَّلٍ" فَأُعِينَ مَا أَعْطَى كِتَابَتَهُ، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَاسْتَفْتَى فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ.
ابو مؤمل رضی اللہ عنہ وہ شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مکاتبت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو مؤمل کی مدد کرو“، پس میری مدد کی گئی، مجھے اتنا مال دیا گیا کہ مکاتبت کے بعد کچھ زائد (بچ) بھی ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13191]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13192
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، أَنَّ فُلَانًا الْحَنَفِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: شَهِدْتُ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَقَامَ مُكَاتَبٌ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ أَوَّلَ سَائِلٍ رَأَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنِّي إِنْسَانٌ مُثْقَلٌ مُكَاتَبٌ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَيْهِ، فَقُذِفَتْ إِلَيْهِ الثِّيَابُ وَالدَّرَاهِمُ، حَتَّى قَالَ: حَسْبِي، فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَهُمْ قَدْ أَعْطَوْهُ مُكَاتَبَتَهُ وَفَضَلَ ثَلَاثُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي نَحْوِهِ مِنَ النَّاسِ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِصَّةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ، وَهِيَ مُخَرَّجَةٌ فِي كِتَابِ الْمُكَاتَبِ".
راوی کہتا ہے کہ میں جمعہ کے دن گیا، ایک مکاتب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ پہلا سائل تھا جس کو میں نے دیکھا تھا، اس نے کہا: میں تنگدست مکاتب انسان ہوں۔ انہوں نے لوگوں کو ترغیب دلائی اور اس کی مدد کی۔ پھر اس کی مدد کے لیے کپڑے اور درہم دیے جانے لگے، یہاں تک کہ اس نے کہا: بس یہی کافی ہیں، تو وہ اپنے اہل کے پاس گیا تو انہوں نے اس کی مکاتبت کی اور اس کے پاس تین سو درہم بچ گئے، تو وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے جیسے لوگوں پر خرچ کر دے۔
ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس سے ملتا جلتا قصہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: انہیں مکاتبین پر خرچ کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2729. -- باب: سهم الغارمين
-- باب: غارمین (قرض داروں) کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13193
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا هَارُونُ بْنُ ⦗٣٤⦘ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍّ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ، فَهُوَ سُحْتٌ".
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ میں آپ سے اپنے قرض کے بارے میں سوال کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”سوال کرنا حرام ہے، سوائے تین اشخاص کے: ایک وہ بندہ جس پر قرض کا بوجھ ہے اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے قرض کو ادا کرلے، پھر وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آگئی اور اس کا مال سارا تباہ ہو گیا اس کے لیے بھی سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ آسودہ حال ہو جائے تو وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کو کوئی ضرورت پڑ گئی ہو یا اس کو فاقہ پہنچا ہو اور تین معتبر افراد اس کی قوم میں سے گواہی دے دیں تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13193]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13194
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زِيدٍ، ح وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ثنا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صلح کرانے کے لیے) ایک قرض کا بوجھ اٹھایا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ اس کے بارے میں آپ سے سوال کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو ہم اسے تمہیں دینے کا حکم دیں گے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (صلح کے لیے) قرض کا بوجھ اٹھایا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے وہ مل جائے، پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی اور اس نے اس کا مال تباہ کر دیا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا مل جائے، یا فرمایا: ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے صدقہ حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا یا ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13194]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَسْأَلُ أَمْوَالَنَا، فَقَالَ:" لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ فِي الْحَاجَةِ أَوْ لِفَتْقٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرُبَ اسْتَعَفَّ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَتْقُ الْحَرْبُ يَكُونُ بَيْنَ الْفَرِيقَيْنِ، فَتَقَعُ بَيْنَهُمَا الدِّمَاءُ وَالْجِرَاحَاتُ، فَيَتَحَمَّلُهَا رَجُلٌ لِيُصْلِحَ بِذَلِكَ، فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ وَقَوْلُهُ: اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ، يَقُولُ: دَنَا مِنْ ذَلِكَ وَقَرُبَ مِنْهُ، وَقَوْلُهُ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ: هُوَ بِكَسْرِ السِّينِ، وَكُلُّ شَيْءٍ سَدَدْتَ بِهِ خَلَلًا فَهُوَ سِدَادٌ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ہم سے مانگنے والے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک ضرورت کے وقت یا لڑائی کے وقت مانگے تاکہ اس مال کے ذریعے اپنی قوم میں صلح کروائے۔ جب معاملہ ختم ہو جائے یا ختم ہونے کے قریب ہو جائے تو رک جائے۔“ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں، «الْفَتْقُ» کا معنی جنگ ہے، جس سے دو گروہ ہلاک و زخمی ہوتے ہیں تو وہ آدمی صلح کے لیے مانگتا ہے، «اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ» کا معنی نزدیک ہونا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13195]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13196
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا، فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ مال دار اشخاص کے علاوہ صدقہ کسی مال دار پر جائز نہیں ہے: (1) صدقہ لینے والا (عامل)، (2) کسی آدمی نے اپنے مال سے صدقے کی چیز کو خریدا، (3) کوئی چٹی شدہ آدمی، (4) اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والا غازی اور (5) وہ مال دار کہ کسی مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے تحفے میں کسی مال دار کو دے دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13196]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13197
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْمُقْرِئُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سَعِيدٌ، نا عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا وَجَهَدَ فِي قَضَائِهِ، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ، فَأَنَا وَلِيُّهُ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس بندے نے کوئی قرض چھوڑا اور اس نے اس کے ادا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ادائیگی سے پہلے فوت ہو گیا تو میں اس کا ولی ہوں (یعنی ادا کرنے والا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13197]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 6/ 74، ح: 154»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2730. -- باب: سهم سبيل الله
-- باب: فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے) کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13198
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ، فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ، فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے مگر پانچ کے لیے: مجاہد فی سبیل اللہ، عامل، چٹی دینے والا، مشتری، ایسا آدمی جس کا پڑوسی مسکین ہو اور اسے صدقہ ملے پھر وہ اپنے پڑوسی کو ہدیہ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13198]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ، فَيُهْدِي لَكَ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، علاوہ اس غنی کے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے یا وہ مسافر ہے یا کوئی تیرا پڑوسی محتاج ہے، اس کو صدقہ دیا جاتا ہے تو وہ تجھے تحفہ دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13199]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں