السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2717. -- باب: ما يستدل به على أن الفقير أمس حاجة من المسكين
-- باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ فقیر مسکین کی نسبت زیادہ حاجت مند ہوتا ہے
حدیث نمبر: 13151
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ثنا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَتَوَفَّنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ» ”اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا تو مسکینوں میں اور اگر میری موت آئے تو مسکینوں میں اور مجھے (قیامت کے دن) اٹھانا تو مسکینوں کے ساتھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13151]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13152
وَحَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْمُظَفَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ أنبأنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمِسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ، فَإِنَّ اللهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ أَصْحَابُنَا: فَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفَقْرِ وَسَأَلَ الْمَسْكَنَةَ، وَقَدْ كَانَ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ يَدُلُّ ⦗١٩⦘ عَلَى أَنَّ الْمِسْكِينَ مَنْ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ" قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْمَسْكَنَةِ وَالْفَقْرِ، فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اسْتِعَاذَتُهُ مِنَ الْحَالِ الَّتِي شَرَّفَهَا فِي أَخْبَارٍ كَثِيرَةٍ، وَلَا مِنَ الْحَالِ الَّتِي سَأَلَ أَنْ يُحْيَى وَيُمَاتَ عَلَيْهَا، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَسْأَلَتُهُ مُخَالِفَةً لِمَا مَاتَ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَدْ مَاتَ مَكْفِيًّا بِمَا أَفَاءَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَوَجْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عِنْدِي، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَتِهِ الْفَقْرِ وَالْمَسْكَنَةِ اللَّذَيْنِ يَرْجِعُ مَعْنَاهُمَا إِلَى الْقِلَّةِ كَمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھنا اور میری موت بھی مسکینوں کے ساتھ آئے اور قیامت والے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے ساتھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کس لیے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ یہ لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ موڑ اگرچہ آدھی ہی کھجور کیوں نہ ہو، اے عائشہ! مسکینوں سے محبت کر اور ان کے قریب ہو، بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تجھے اپنے قریب کرے گا۔“
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکینی کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی جو روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو یہ جائز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت سے پناہ مانگی ہو جس کا شرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں بیان کیا ہے، اور نہ اس حالت سے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی اور موت کا سوال کیا ہے، اور یہ بھی جائز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کے مخالف ہو جس پر آپ فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کے ساتھ کفایت کی حالت میں فوت ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور مسکینی کے فتنے سے پناہ مانگی جن کا معنی قلت کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13152]
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکینی کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی جو روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو یہ جائز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت سے پناہ مانگی ہو جس کا شرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں بیان کیا ہے، اور نہ اس حالت سے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی اور موت کا سوال کیا ہے، اور یہ بھی جائز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کے مخالف ہو جس پر آپ فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کے ساتھ کفایت کی حالت میں فوت ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور مسکینی کے فتنے سے پناہ مانگی جن کا معنی قلت کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13152]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 13153
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهَذَا حَدِيثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ دُونَ حَالِ الْفَقْرِ، وَمَنْ فِتْنَةِ الْغِنَى دُونَ حَالِ الْغِنَى، وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنْ كَانَ قَالَهُ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، فَهُوَ إِنْ صَحَّ طَرِيقُهُ وَفِيهِ نَظَرٌ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّهُ حَالُهُ عِنْدَ وَفَاتِهِ أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْ حَالَ الْمَسْكَنَةِ الَّتِي يَرْجِعُ مَعْنَاهَا إِلَى الْقِلَّةِ، وَإِنَّمَا سَأَلَ الْمَسْكَنَةَ الَّتِي يَرْجِعُ مَعْنَاهَا إِلَى الْإِخْبَاتِ وَالتَّوَاضُعِ، فَكَأَنَّهُ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى أَنْ لَا يَجْعَلَهُ مِنَ الْجَبَّارِينَ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَأَنْ لَا يَحْشُرَهُ فِي زُمْرَةِ الْأَغْنِيَاءِ الْمُتْرَفِينَ قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: وَالْمَسْكَنَةُ حَرْفٌ مَأْخُوذٌ مِنَ السُّكُونِ يُقَالُ: تَمَسْكَنَ الرَّجُلُ إِذَا لَانَ وَتَوَاضَعَ وَخَشَعَ وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُصَلِّي:" تَيَأَّسْ وَتَمَسْكَنْ" يُرِيدُ تَخَشَّعَ وَتَوَاضَعَ لِلَّهِ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے، فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں آگ کے فتنے سے، قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے، اور غنیٰ کے فتنے کے شر اور فقر کے فتنے کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں دجال کے فتنے کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں“۔
(ب) یہ حدیث ثابت ہے، اسے بخاری و مسلم دونوں نے صحیح میں روایت کیا ہے، اور اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف فقر کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ فقر کی حالت سے، اور غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ غنیٰ کی حالت سے۔
(ج) رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا، اگر آپ نے فرمایا ہو: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا» ”مجھے مسکین زندہ رکھنا اور مجھے موت مسکین کی حالت میں دینا“ تو اگر اس کی سند صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جو وفات کے وقت تھی، اس پر دال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسکینی کا سوال نہیں کیا جس کا معنی قلت ہے بلکہ جس سے مراد عجز و انکساری اور تواضع ہے اس کا سوال کیا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظالم متکبر لوگوں میں سے نہ کرے اور نہ قیامت کے دن سرکش اغنیا میں اٹھائے۔
قعنبی کہتے ہیں: مسکنت کا لفظ سکون سے ماخوذ ہے، کہا جاتا ہے: «تَمَسْكَنَ الرَّجُلُ» جب آدمی نرم ہو جائے، تواضع اختیار کرے اور عاجزی کرے، اور اسی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازی سے یہ فرمان ہے: «تَبَأَّسْ وَتَمَسْكَنْ» یعنی اللہ کے لیے عاجزی اور تواضع اختیار کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13153]
(ب) یہ حدیث ثابت ہے، اسے بخاری و مسلم دونوں نے صحیح میں روایت کیا ہے، اور اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف فقر کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ فقر کی حالت سے، اور غنیٰ کے فتنے سے پناہ مانگی نہ کہ غنیٰ کی حالت سے۔
(ج) رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا، اگر آپ نے فرمایا ہو: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا» ”مجھے مسکین زندہ رکھنا اور مجھے موت مسکین کی حالت میں دینا“ تو اگر اس کی سند صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جو وفات کے وقت تھی، اس پر دال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسکینی کا سوال نہیں کیا جس کا معنی قلت ہے بلکہ جس سے مراد عجز و انکساری اور تواضع ہے اس کا سوال کیا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظالم متکبر لوگوں میں سے نہ کرے اور نہ قیامت کے دن سرکش اغنیا میں اٹھائے۔
قعنبی کہتے ہیں: مسکنت کا لفظ سکون سے ماخوذ ہے، کہا جاتا ہے: «تَمَسْكَنَ الرَّجُلُ» جب آدمی نرم ہو جائے، تواضع اختیار کرے اور عاجزی کرے، اور اسی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازی سے یہ فرمان ہے: «تَبَأَّسْ وَتَمَسْكَنْ» یعنی اللہ کے لیے عاجزی اور تواضع اختیار کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13153]
تخریج الحدیث: «بخاري 833۔ مسلم 589»
الحكم على الحديث: بخاري 833
حدیث نمبر: 13154
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: ⦗٢٠⦘ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللهَ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ الْغُرَّةُ عَلَى أَنْ تَطْلُبُوا الرِّزْقَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُمَّ احْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ، وَلَا تَحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْأَغْنِيَاءِ، فَإِنَّ أَشْقَى الْأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا، وَعَذَابُ الْآخِرَةِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور غفلت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم رزق کو اس کے حلال ذرائع کے علاوہ سے تلاش کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ احْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ، وَلَا تَحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْأَغْنِيَاءِ، فَإِنَّ أَشْقَى الْأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا وَعَذَابُ الْآخِرَةِ» ”اے اللہ! مجھے مسکینوں کی صف میں سے اٹھانا، غنی لوگوں کے ساتھ نہ اٹھانا، بیشک سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کا فقر اور آخرت کا عذاب جمع ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13154]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2718. -- باب: الفقير أو المسكين له كسب أو حرفة تغنيه وعياله فلا يعطى بالفقر والمسكنة شيئا
-- باب: فقیر یا مسکین کا ایسا روزگار یا پیشہ ہو جو اسے اور اس کے اہل و عیال کو غنی کر دے، تو اسے فقر اور مسکینی کی بنا پر کچھ نہیں دیا جائے گا
حدیث نمبر: 13155
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَا ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"،.
(الف) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی غنی اور طاقت ور صحت مند کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے“ (یعنی جو تندرست اور کمانے کی طاقت رکھتا ہے)۔
(ب) ابوداؤد طیالسی میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ مضبوط قوی کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13155]
(ب) ابوداؤد طیالسی میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ مضبوط قوی کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13155]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13156
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ومُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَا فِي الْحَدِيثِ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ،.
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ سے پچھلی روایت کی طرح الفاظ منقول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13156]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13157
وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، هَكَذَا مَرْفُوعًا وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي لَفْظِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ،.
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، جس میں یہ الفاظ مختلف ہیں: ” «وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ» “۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13157]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي رَفْعِهِ وَلَفْظِهِ ⦗٢١⦘ وَفِي رِوَايَةِ مَنْ رَفَعَهُ كِفَايَةٌ، وَمَعْنَى الْمِرَّةِ الْقُوَّةُ وَأَصْلُهَا مِنْ شِدَّةِ فَتْلِ الْحَبْلِ.
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی طاقت ور تندرست کے لیے جائز ہے کہ وہ صدقہ مانگے۔“ اسے ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان پر بھی اس کے مرفوع ہونے اور اس کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور جنہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے ان کی روایت (دلیل کے لیے) کافی ہے۔
«الْمِرَّةُ» ”المرۃ“ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13158]
«الْمِرَّةُ» ”المرۃ“ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13158]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الشُّمَيْطِ، ثنا أَبِي وَالْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ زُهَيْرٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّدَقَةِ، أِيُّ مَالٍ هِيَ؟ قَالَ: هِيَ شَرُّ مَالٍ، إِنَّمَا هِيَ مَالٌ لِلْعُمْيَانِ وَالْعُرْجَانِ وَالْكُسْحَانِ وَالْيَتَامَى وَكُلٌّ مُنْقَطِعٌ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا حَقًّا وَلِلْمُجَاهِدِينَ، فَقَالَ: لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا بِقَدْرِ عَمَالَتِهِمْ، وَلِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ قَدْرُ حَاجَتِهِمْ، أَوْ قَالَ: حَالِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ" الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
زہیر عامری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا کہ مجھے صدقے کے متعلق بتائیے، وہ کون سا مال ہے؟ انہوں نے کہا: «شَرُّ مَالٍ» ”یہ شر والا مال ہے“ (یعنی فتنہ و آزمائش ہے)۔ یہ مال اندھوں، لنگڑوں یا جس کے ہاتھ پاؤں حرکت نہ کرتے ہوں (معذور)، یتیموں اور جو ان تمام جیسا ہو ان کو دیا جائے۔ میں نے کہا: کیا عاملین اور مجاہدین کا صدقے میں کوئی حق ہے؟ تو انہوں نے کہا: عاملین کے لیے ان کی ڈیوٹی کی مقدار کے برابر ہے، مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ہے یا کہا: ان کی حالت کے مطابق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک صدقہ غنی کے لیے جائز نہیں اور نہ کسی صحت مند طاقت ور کے لیے جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13159]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13160
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَلَّهُ قَالَ:" لَا تَصْلُحُ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی غنی اور صحت اور کمانے کی طاقت والے کے لیے جائز نہیں۔“
سفیان سے پوچھا گیا: کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرفوع) ہے؟ انہوں نے کہا: شاید۔ اور حمیدی نے اسے سفیان سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ اسے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک) پہنچاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13160]
سفیان سے پوچھا گیا: کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرفوع) ہے؟ انہوں نے کہا: شاید۔ اور حمیدی نے اسے سفیان سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ اسے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک) پہنچاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13160]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره