السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2715. -- باب: من قال: لا يخرج صدقة قوم منهم من بلدهم وفي بلدهم من يستحقها
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
حدیث نمبر: 13141
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأنبأ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى" أَيُّمَا رَجُلٍ انْتَقَلَ مِنْ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ إِلَى غَيْرِ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ، فَعُشْرُهُ وَصَدَقَتُهُ إِلَى مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ".
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ جو آدمی اپنے قبیلے کے ضلع سے کسی دوسرے ضلع کی طرف منتقل ہو جائے تو اس کا عشر اور صدقہ اس کے قبیلے کے ضلع ہی کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13141]
تخریج الحدیث: «الام للشافعي 2/ 72»
الحكم على الحديث: الام للشافعي 2/ 72
حدیث نمبر: 13142
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا تَخْرُجُ الزَّكَاةُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ، إِلَّا لِذِي قَرَابَةٍ" مَوْقُوفٌ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قریبی رشتہ داروں کے سوا (کسی اور کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر زکاۃ منتقل نہیں کی جائے گی۔)“
یہ موقوف ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13142]
یہ موقوف ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13142]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
2716. -- باب: نقل الصدقة إذا لم يكن حولها من يستحقها
-- باب: جب اردگرد کوئی مستحق نہ ہو تو صدقہ (دوسری جگہ) منتقل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13143
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنِ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي، فَجَعَلَ يَفْرِضُ رِجَالًا مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ، قَالَ:" نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، قَدْ آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَأَوْفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّءٍ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ قَالَ:" إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَاقَةُ وَهُمْ فَاقَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ (قبیلہ) طے کے آدمیوں کے لیے دو دو ہزار وظیفہ مقرر کرنے لگے اور مجھ سے اعراض کیا تو میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ عدی کہتے ہیں کہ وہ ہنس پڑے یہاں تک کہ پیچھے کی طرف لیٹ گئے، انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تجھے جانتا ہوں، جب انہوں نے کفر کیا تو تو ایمان لایا، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو تو آگے بڑھا، جب انہوں نے غداری کی تو تو نے وفا کی، سب سے پہلا صدقہ (جس کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے چہرے چمک اٹھے تھے وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تھا، پھر وہ معذرت کرنے لگے اور کہا: میں نے تو ایسے لوگوں کے لیے (وظیفہ) مقرر کیا ہے جنہیں فاقے نے تباہ کر دیا ہے، اور وہ اپنے قبیلوں کے محتاج لوگ ہیں، ان حقوق کی وجہ سے جو ان پر آ پڑتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ آجد 1/ 45۔ رقم الحديث 316»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13144
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَأَوَّلُ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتَ: أَمَا إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوَّلَ كَمَا أَتَيْتُكَ بِهَا".
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر راوی نے سابقہ حدیث کا کچھ مفہوم ذکر کیا، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اور سب سے پہلا صدقہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہرے روشن کر دیے وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا اور تو نے کہا: سنو! میں گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اسی طرح آیا تھا جیسے آپ کے پاس اسے لے کر آیا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13144]
حدیث نمبر: 13145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَاتِ قَوْمِهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ عَظِيمَةٌ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ وَبَلَغَهُمْ أَنَّهُمْ قَدِ ارْتَجَعُوا صَدَقَاتِهِمْ، وَارْتَدَّتْ بَنُو أَسَدٍ وَهُمْ جِيرَانُهُمْ، اجْتَمَعَتْ طَيِّئٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَذَكَرَ الْقِصَّةَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَوْا مِنْهُ الْجَدَّ كَفُّوا ⦗١٦⦘ عَنْهُ وَسَلَّمُوا لَهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ بِهَا، فَكَانَتْ أَوَّلَ إِبِلٍ مِنَ الصَّدَقَةِ قَدِمَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هِيَ، وَإِبِلُ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ" قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ مِنْ حَدِيثِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ السَّعْدِيِّ، أَنَّ بَنِي سَعْدٍ اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهَمْ، وَأَنْ يَصْنَعَ بِهِمْ مَا صَنَعَ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ بِقَوْمِهِ، فَأَبَى وَتَمَسَّكَ بِمَا فِي يَدِهِ، وَثبَتَ عَلَى إِسْلَامِهِ، وَقَالَ: لَا تَعْجَلُوا يَا قَوْمُ، فَإِنَّهُ وَاللهِ لَيَقُومَنَّ بِهَذَا الْأَمْرِ قَائِمٌ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ فَدَفَعَهُمْ عَنْ نَفْسِهِ حَتَّى أَتَاهُ اجْتِمَاعُ النَّاسِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ بِهَا، وَقَدْ تَفَرَّقَ الْقَوْمُ عَنْهُ لَيْلًا وَمَعَهُ الرِّجَالُ يَطْرُدُونَهَا، فَمَا عَلِمُوا بِهِ حَتَّى أَتَاهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَدَّاهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْإِبِلُ الَّتِي قَدِمَ بِهَا الزِّبْرِقَانُ وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ أَوَّلَ إِبِلٍ وَافَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى صَدَقَاتِ طَيِّئٍ، وَالزِّبْرِقَانَ بْنِ بَدْرٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سَعْدٍ، وَطُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي أَسَدٍ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي فَزَارَةَ، وَمَالِكَ بْنَ نُوَيْرَةَ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي يَرْبُوعٍ، وَالْفُجَاءَةَ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ وَفَاةُ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُمْ أَمْوَالٌ كَثِيرَةٌ رَدُّوهَا عَلَى أَهْلِهَا إِلَّا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، وَالزِّبْرِقَانَ بْنَ بَدْرٍ، فَإِنَّهُمَا تَمَسَّكَا بِهَا وَدَفَعَا عَنْهَا النَّاسَ حَتَّى أَدَّيَاهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
ابن اسحاق سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قصہ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم کے صدقات (وصول کرنے) پر مقرر کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو اس وقت ان کے پاس ان کے صدقات کے بہت سے اونٹ جمع تھے، جب مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہو گئے اور انہیں (بنو طے کو) یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اپنے صدقات واپس لے لیے ہیں، اور بنو اسد بھی مرتد ہو گئے اور وہ ان کے پڑوسی تھے، تو طے (قبیلہ) والے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے، اور (راوی نے) سارا واقعہ ذکر کیا، کہا: جب انہوں نے ان کا پختہ عزم دیکھا تو ان سے رک گئے اور ان کی بات مان لی، جب مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر متفق ہو گئے تو وہ انہیں (اونٹوں کو) لے کر نکلے، چنانچہ صدقہ کے جو اونٹ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہ یہی تھے اور زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ کے اونٹ۔
ابن اسحاق کہتے ہیں: زبرقان بن بدر سعدی رضی اللہ عنہ کا واقعہ یہ ہے کہ بنو سعد ان کے پاس جمع ہوئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے اموال انہیں واپس لوٹا دیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو مالک بن نویرہ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، انہوں نے انکار کیا اور جو ان کے ہاتھ میں تھا اسے تھامے رکھا اور اپنے اسلام پر ثابت قدم رہے، اور کہا: اے میری قوم! جلدی نہ کرو، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس معاملے کو سنبھالنے والا کوئی ضرور کھڑا ہوگا۔ پھر (راوی نے) ایک واقعہ ذکر کیا اور کہا: وہ انہیں اپنے آپ سے دور رکھتے رہے یہاں تک کہ انہیں لوگوں کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر متفق ہونے کی خبر پہنچی، تو وہ رات کے وقت انہیں (اونٹوں کو) لے کر نکلے جبکہ ان کی قوم ان کے پاس سے منتشر ہو چکی تھی اور ان کے ساتھ کچھ آدمی تھے جو انہیں ہانک رہے تھے، لوگوں کو اس کا علم تب ہوا جب ان کے پاس یہ خبر آئی کہ انہوں نے وہ اونٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ادا کر دیے ہیں۔ یہ اونٹ جنہیں زبرقان اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدقہ کے اونٹوں میں سے سب سے پہلے اونٹ تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو طے کے صدقات پر، زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ کو بنو سعد کے صدقات پر، طلیحہ بن خویلد کو بنو اسد کے صدقات پر، عیینہ بن حصن کو بنو فزارہ کے صدقات پر، مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کے صدقات پر اور فجاءۃ کو بنو سلیم کے صدقات پر مقرر فرمایا۔ جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی اور ان کے پاس بہت اموال تھے تو انہوں نے وہ ان کے مالکوں کو واپس لوٹا دیے، سوائے سیدنا عدی بن حاتم اور زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہما کے۔ انہوں نے ان اموال کو تھامے رکھا اور لوگوں کو ان (اموال) سے دور رکھا اور وہ (اموال) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13145]
ابن اسحاق کہتے ہیں: زبرقان بن بدر سعدی رضی اللہ عنہ کا واقعہ یہ ہے کہ بنو سعد ان کے پاس جمع ہوئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے اموال انہیں واپس لوٹا دیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو مالک بن نویرہ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، انہوں نے انکار کیا اور جو ان کے ہاتھ میں تھا اسے تھامے رکھا اور اپنے اسلام پر ثابت قدم رہے، اور کہا: اے میری قوم! جلدی نہ کرو، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس معاملے کو سنبھالنے والا کوئی ضرور کھڑا ہوگا۔ پھر (راوی نے) ایک واقعہ ذکر کیا اور کہا: وہ انہیں اپنے آپ سے دور رکھتے رہے یہاں تک کہ انہیں لوگوں کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر متفق ہونے کی خبر پہنچی، تو وہ رات کے وقت انہیں (اونٹوں کو) لے کر نکلے جبکہ ان کی قوم ان کے پاس سے منتشر ہو چکی تھی اور ان کے ساتھ کچھ آدمی تھے جو انہیں ہانک رہے تھے، لوگوں کو اس کا علم تب ہوا جب ان کے پاس یہ خبر آئی کہ انہوں نے وہ اونٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ادا کر دیے ہیں۔ یہ اونٹ جنہیں زبرقان اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدقہ کے اونٹوں میں سے سب سے پہلے اونٹ تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو طے کے صدقات پر، زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ کو بنو سعد کے صدقات پر، طلیحہ بن خویلد کو بنو اسد کے صدقات پر، عیینہ بن حصن کو بنو فزارہ کے صدقات پر، مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کے صدقات پر اور فجاءۃ کو بنو سلیم کے صدقات پر مقرر فرمایا۔ جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی اور ان کے پاس بہت اموال تھے تو انہوں نے وہ ان کے مالکوں کو واپس لوٹا دیے، سوائے سیدنا عدی بن حاتم اور زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہما کے۔ انہوں نے ان اموال کو تھامے رکھا اور لوگوں کو ان (اموال) سے دور رکھا اور وہ (اموال) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13145]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ" وَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَسَمَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ"، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بنو تمیم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے (ان کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سنی ہیں: (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں۔“ (2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی لونڈی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے؛ کیونکہ وہ اولادِ اسماعیل میں سے ہے۔“ (3) ان کے صدقات آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13146]
تخریج الحدیث: «بخاري 2543۔ مسلم 2525»
الحكم على الحديث: بخاري 2543
2717. -- باب: ما يستدل به على أن الفقير أمس حاجة من المسكين
-- باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ فقیر مسکین کی نسبت زیادہ حاجت مند ہوتا ہے
حدیث نمبر: 13147
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗١٧⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَمْدَانَ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ، فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ"، قَالُوا: فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا"، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ:" وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْمِسْكِينَ: هُوَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ، لَكِنْ لَهُ بَعْضُ الْغِنَى، فَيَكْتَفِي بِهِ وَيَتَعَفَّفُ عَنِ السُّؤَالِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین یہ لوگ نہیں ہیں جو لوگوں کے پاس پھرتے رہتے ہیں اور ایک یا دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجوریں انہیں واپس لوٹا دیتی ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مسکین کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جس کے پاس اتنا مال نہیں جو اس کو کفایت کرے اور نہ اسے پہچانا جاتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں“، امام مالک کی روایت کے الفاظ ہیں کہ ”وہ لوگوں سے مانگنے کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13147]
تخریج الحدیث: «بخاري 1476۔ مسلم 1038»
الحكم على الحديث: بخاري 1476
حدیث نمبر: 13148
وَحَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَّافُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، لَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَيَسْتَحِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین یہ لوگ نہیں ہیں جو لوگوں کے پاس پھرتے رہتے ہیں اور ایک لقمہ یا دو لقمے، ایک کھجور یا دو کھجوریں ان کی طرف لوٹتی ہیں، بلکہ مسکین وہ لوگ ہیں جن کے پاس اتنا مال نہیں جو ان کو کفایت کرے، جو لوگوں سے سوال کرتے ہوئے شرم محسوس کریں اور نہ وہ (فقیر) سمجھے جائیں کہ ان پر صدقہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13148]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13149
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ⦗١٨⦘} [البقرة: ٢٧٣] " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَمَنْ يَتَعَفَّفُ وَلَيْسَ لَهُ بَعْضُ الْكِفَايَةِ كَانَ قَاتِلَ نَفْسِهِ دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمِسْكِينَ: هُوَ الَّذِي لَهُ بَعْضُ الْغِنَى، وَلَا يَكُونُ لَهُ مَا يُغْنِيهِ وَالْفَقِيرُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ وَلَا حِرْفَةَ يَقَعُ بِهَا مَوْقِعًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں سے سوال کرے اور ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں اس کی طرف لوٹائی جائیں بلکہ مسکین وہ لوگ ہیں جو سوال کرنے سے بچتے ہیں، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ [سورة البقرة: 273] ”اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13149]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13150
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ"، وَرُوِّينَا أَيْضًا فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ"، وَفِي حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے فقر، کمی اور ذلت سے پناہ مانگتا ہوں اور میں اس کی بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔“
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» ”اے اللہ! میں کفر اور فقیری سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! ہم سے قرض دور کر دے اور ہمیں فقیری سے مستثنیٰ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13150]
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» ”اے اللہ! میں کفر اور فقیری سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! ہم سے قرض دور کر دے اور ہمیں فقیری سے مستثنیٰ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13150]
تخریج الحدیث: «احمد 8039»
الحكم على الحديث: احمد 8039