السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2789. -- باب: دخوله المسجد جنبا
-- باب: حالتِ جنابت میں آپ ﷺ کے مسجد میں داخل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13403
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فَذَكَرَ رِوَايَةَ مَحْدُوجٍ عَنْ جَسْرَةَ، ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ أَفْلَتَ عَنْ جَسْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ⦗١٠٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَا عَلِيُّ" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ"، أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، فَذَكَرَهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَطِيَّةَ، وَعَطِيَّةُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! کسی جنبی کے لیے مسجد میرے اور تیرے علاوہ حلال نہیں ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے (اس مضمون کی جسرہ والی روایت کے بارے میں) کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس کی سند میں عطیہ، عطیہ بن سعد عوفی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13403]
امام بخاری رحمہ اللہ نے (اس مضمون کی جسرہ والی روایت کے بارے میں) کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس کی سند میں عطیہ، عطیہ بن سعد عوفی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13403]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2790. -- باب: ما أبيح له من الحكم لنفسه، وقبول قول من شهد له بقوله، وإن جاز ذلك جاز أن يحكم لولده وولد ولده
-- باب: آپ ﷺ کے لیے اپنے حق میں فیصلہ کرنے اور آپ کی بات کی گواہی دینے والے کی بات قبول کرنے کے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو آپ کے لیے اپنی اولاد اور ان کی اولاد کے حق میں فیصلہ کرنا بھی جائز ہو گیا
حدیث نمبر: 13404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَهُ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، وَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ، فَسَاوَمُوهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا زَادَهُ نَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ أَوْ لَأَبِيعَنَّهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ:" أَوَلَسْتُ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟" فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللهِ مَا بِعْتُكَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ"، فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ إِلَّا حَقًّا، حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ مَا يُرَاجِعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُرَاجِعُ الْأَعْرَابِيُّ وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ:" هَلُمَّ شُهَدَاءُ يَشْهَدُونَ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ قَالَ:" بِمَا تَشْهَدُ؟" قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ اپنے چچا (جو کہ صحابی ہیں) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہاتی سے گھوڑا خریدا اور اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا تاکہ گھوڑے کی قیمت کا معاملہ حل ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی چلے اور اس نے سست روی کی تو لوگ دیہاتی کے پاس آ کر اس گھوڑے کی قیمت کا بھاؤ کرنے لگے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، ان میں سے بعض نے گھوڑے کی قیمت اس قیمت سے زیادہ لگا دی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خریدا تھا۔ جب دیہاتی نے قیمت زیادہ دیکھی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: اگر آپ اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں وگرنہ میں اس کو ضرور بیچ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز سن کر ٹھہر گئے اور جب دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”کیا میں نے تجھ سے خرید نہیں لیا؟“ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو نہیں بیچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں تجھ سے خرید چکا ہوں۔“ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیہاتی کے گرد جمع ہو گئے۔ دیہاتی نے کہا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ کو بیچا ہے۔ بعض مسلمانوں نے دیہاتی سے کہا: تیرا ستیاناس ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف سچ بات کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور دیہاتی کی بات سنی، دیہاتی کہہ رہا تھا: کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑا بیچا ہے۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”تو کس دلیل کی بنا پر گواہی دیتا ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی تصدیق کی بنا پر، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13404]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2228»
الحكم على الحديث: صحيح
2791. -- باب: ما أبيح له من القضاء بعلمه وفي قضاء غيره بعلم نفسه قولان
-- باب: آپ ﷺ کے لیے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے مباح ہونے کا بیان اور آپ کے علاوہ کسی دوسرے کے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے میں دو اقوال ہیں
حدیث نمبر: 13405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُ بْنُ أَحْمَدَ التَّمَّارُ ⦗١٠٦⦘ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا؟ فَقَالَ لَهَا:" لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق میں اس درجے میں ذلت کی خواہش مند ہوتی جتنا آپ کے گھرانے کی ذلت و رسوائی کی میں خواہش مند تھی، لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہش مند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سربلندی والا ہو، پھر انہوں نے کہا: ابو سفیان بخیل آدمی ہیں تو کیا میرے لیے کوئی حرج تو نہیں کہ اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13405]
تخریج الحدیث: «بخاري 1761۔ مسلم 1714»
الحكم على الحديث: بخاري 1761
2792. -- باب: تركه الإنكار على من شرب بوله ودمه
-- باب: آپ ﷺ کا اپنا پیشاب اور خون پینے والے پر انکار نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13406
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ الْعَطَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمَيْمَةَ، أُمِّهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ ثُمَّ وَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَبَالَ، فَوَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَجَاءَ فَأَرَادَهُ، فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَقَالَ لِامْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرَكَةٌ كَانَتْ تَخْدُمُهُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ جَاءَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ:" أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي كَانَ فِي هَذَا الْقَدَحِ؟" قَالَتْ: شَرِبْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ".
حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی کے بنے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کرتے، پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اسے چارپائی کے نیچے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اسے (باہر) پھینکنے کا ارادہ کیا تو پیالہ خالی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکہ نامی عورت سے کہا، جو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھی اور حبشہ سے آئی تھی: ”اس پیالے میں جو پیشاب تھا وہ کدھر گیا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے پی لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13406]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَانِي دَمَهُ، وَقَالَ:" ⦗١٠٧⦘ اذْهَبْ فَوَارِهِ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ سَبُعٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ" قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَشَرِبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: صَنَعْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي قَالَ:" مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ شَرِبْتَهُ" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" مَاذَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْكَ؟" قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَزَادَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي كَانَتْ فِي ابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْ قُوَّةِ دَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَنْ سَلْمَانَ فِي شُرْبِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ دَمَهُ وَرُوِيَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّهُ شَرِبَهُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور فرمایا: ”اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتہ نہ چلے۔“ وہ کہتے ہیں: میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے (اس خون کا) کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کو تجھ سے کیا کچھ پیش آئے گا!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13408
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطٍ قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي:" خُذْ هَذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّيْرِ"، أَوْ قَالَ: النَّاسُ وَالدَّوَابُّ شَكَّ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: فَتَغَيَّبْتُ بِهِ، فَشَرِبْتُهُ قَالَ: ثُمَّ سَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي شَرِبْتُهُ فَضَحِكَ".
بریہ بن عمر بن سفینہ اپنے دادا سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، پھر مجھ سے فرمایا: ”یہ خون لو اور اس کو جانوروں اور پرندوں سے چھپا دو“ یا فرمایا: ”لوگوں اور جانوروں سے چھپا دو۔“ (ابن ابی فدیک کو شک ہے)، کہتے ہیں: میں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا اور اسے پی لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ پی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13408]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
2793. -- باب: قسم شعره بين أصحابه
-- باب: آپ ﷺ کا اپنے بال صحابہ کرام کے درمیان تقسیم فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 13409
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، فَحَلَقَهُ، فَنَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ، فَحَلَقَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُقْسَمَ بَيْنَ النَّاسِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کی اور قربانی کی تو اپنے سر کی دائیں جانب نائی کے سامنے کی تو اس نے دائیں جانب مونڈ دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے، پھر بائیں جانب اس کی طرف کی تو اس نے مونڈ دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”لوگوں میں تقسیم کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13409]
تخریج الحدیث: «مسلم 1305»
الحكم على الحديث: مسلم 1305
حدیث نمبر: 13410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا" حَلَقَ شَعْرَهُ يَوْمَ النَّحْرِ تَفَرَّقَ النَّاسُ، وَأَخَذُوا شَعْرَهُ فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْهُ طَائِفَةً" قَالَ ابْنُ سِيرِينَ:" لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعْرَةٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَاعِقَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ دُونَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ. ⦗١٠٨⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَيُّوبَ، وَابْنِ عَوْنٍ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَنَّهُ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب قربانی والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال کٹوائے تو لوگ علیحدہ ہو گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال لینے لگے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی ان میں سے کچھ بال حاصل کر لیے۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال بھی ہو تو یہ مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13410]
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال بھی ہو تو یہ مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13410]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13411
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ، إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور بال کاٹنے والے کو دیکھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کاٹ رہا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوپر کھڑے تھے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ بال ان کے ہاتھوں میں گریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13411]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2794. -- باب: طعام الفجأة
-- باب: اچانک ملنے والے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: Q13412
قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: وَنَهَى عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ، وَلَقَدْ فَاجَأَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى طَعَامِهِ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ خَاصًّا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَا لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ هَكَذَا مِنْ وَجْهٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَالَّذِي أَحْفَظُهُ مِمَّا فِي بَعْضِ مَعْنَاهُ.
ابو العباس نے کہا: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک (بغیر دعوت کے) کھانے پر پہنچ جانے سے منع فرمایا، اور سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے پر آ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانے کا حکم دیا، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13412]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13412]