🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2801. -- باب: الدليل على أنه صلى الله عليه وسلم لا يقتدى به فيما خص به ويقتدى به فيما سواه
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13441
قَالَ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللهِ اتَّبَعْنَاهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقَدْ أَمَرَ بِاتِّبَاعِ مَا أَمَرَ بِهِ، وَاجْتِنَابِ مَا نَهَى عَنْهُ، وَفَرَضَ اللهُ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ مِنْ هَذَا، إِلَّا مَا تُمْسِكُوا بِهِ عَنِ اللهِ، ثُمَّ عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ دِلَالَتِهِ، وَلَكِنْ قَوْلُهُ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِمَوْضِعِ الْقُدْوَةِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ خَوَاصُّ أُبِيحَ لَهُ فِيهَا، مَا لَمْ يُبَحْ لِلنَّاسِ، وَحُرِّمَ عَلَيْهِ فِيهَا، مَا لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ مِنَ الَّذِي لِي، أَوْ عَلَيَّ دُونَهُمْ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا عَلَيَّ وَلِي دُونَهُمْ فَلَا يُمْسِكَنَّ بِهِ، وَذَلِكَ مِثْلُ أَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَحَلَّ لَهُ مِنْ عَدَدِ النِّسَاءِ مَا شَاءَ، وَأَنْ يَسْتَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِذَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: ٥٠] ، فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ، وَنَكَحَ امْرَأَةً بِغَيْرِ مَهْرٍ، وَأَخَذَ صَفِيًّا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ لَهُ خُمْسُ الْخُمُسِ، فَلَا يَكُونُ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِينَ بَعْدَهُ وَلَا لِوُلَاتِهِمْ كَمَا يَكُونُ لَهُ؛ لِأَنَّ اللهَ قَدْ بَيَّنَ فِي كِتَابِهِ وَعَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٢١⦘ أَنَّ ذَلِكَ لَهُ دُونَهُمْ، وَفَرَضَ اللهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ فِي الْمُقَامِ مَعَهُ وَالْفِرَاقِ فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: عَلَيَّ أَنْ أُخَيِّرَ امْرَأَتِي عَلَى مَا فَرَضَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ:" لَا يُمْسِكَنَّ عَلَيَّ النَّاسُ بِشَيْءٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَوَقَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي صِحَّةِ الْخَبَرِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لِأَنَّ الْحَدِيثَ مُرْسَلٌ وَلَيْسَ مَعَهُ مَا يُؤَكِّدُهُ إِلَّا أَنْ كَانَ مَحْمُولًا عَلَى مَا قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَيَكُونُ وَاضِحًا وَلِلْأُصُولِ مُوَافِقًا.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگانے والا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا ایسا معاملہ جس سے میں نے منع کیا ہو، اور وہ کہے کہ میں تو صرف اس کی اتباع کروں گا جو ہم نے کتاب اللہ میں پایا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم کی اتباع اور اپنی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی مخلوق پر یہ فرض کیا ہے، اور لوگوں کے پاس اس میں سے صرف وہی ہے جسے انہوں نے اللہ سے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی سے تھاما ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ پیشوائی کے مقام پر تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ خصوصیات تھیں جن میں آپ کے لیے وہ چیزیں مباح کی گئیں جو لوگوں کے لیے مباح نہیں کی گئیں، اور آپ پر وہ چیزیں حرام کی گئیں جو لوگوں پر حرام نہیں کی گئیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ مجھ پر اس چیز کی حجت نہ پکڑیں جو ان کے بجائے صرف میرے لیے یا صرف مجھ پر ہے؛ اگر وہ ان چیزوں میں سے ہو جو ان کے بجائے صرف مجھ پر یا میرے لیے ہیں تو وہ اسے دلیل نہ بنائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ جل ثناؤہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عورتوں کی جتنی تعداد آپ چاہیں حلال فرما دی، اور یہ کہ جو عورت اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دے آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأحزاب: 50] ۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زیادہ بیویاں جمع کیں، بغیر مہر کے ایک عورت سے نکاح کیا، مالِ غنیمت میں سے صفی (منتخب حصہ) لیا اور آپ کے لیے خمس کا خمس تھا، تو یہ آپ کے بعد مومنوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے بھی اسی طرح ہوگا جیسے آپ کے لیے تھا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر واضح فرما دیا ہے کہ یہ ان کے بجائے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض کیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیں، تو کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھ پر بھی اپنی بیوی کو اسی طرح اختیار دینا لازم ہے جیسے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہی معنی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کی صحت میں توقف کیا اور فرمایا: ”اگر آپ نے فرمایا ہو“، کیونکہ یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی تائید کرے، البتہ اگر اسے اس معنی پر محمول کیا جائے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا تو یہ واضح اور اصولوں کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13441]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حَرَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْهَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَغَيْرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.
خیبر والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں حرام قرار دیں، ان میں گھریلو گدھا وغیرہ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ آدمی اپنے تکیے پر بیٹھے گا، حدیث بیان کرنے والا میری حدیث بیان کرے گا اور وہ کہے گا کہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان کتاب اللہ (کافی) ہے، ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے جو وہ حلال کرے گا ہم اس کو حلال سمجھیں گے اور جس کو وہ حرام کہے گا ہم اس کو حرام سمجھیں گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حرام کیا چیزوں کو جس طرح اللہ پاک نے حرام قرار دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13442]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا أَمَرَكُمُ اللهُ بِهِ، إِلَّا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا نَهَاكُمُ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا وَقَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَحْيٌ فَقَدْ فَرَضَ اللهُ فِي الْوَحْيِ اتِّبَاعَ سُنَّتِهِ فَمَنْ قَبِلَ عَنْهُ فَإِنَّمَا قَبِلَ بِفَرْضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہو مگر میں نے تمہیں اس سے منع کر دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس جس معاملے میں وحی نہیں تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع فرض کر دی ہے، لہٰذا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کوئی حکم) قبول کیا اس نے اللہ عزوجل کے فرض کی بنا پر ہی قبول کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13443]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2802. جماع أبواب الترغيب في النكاح وغير ذلك -- باب: الرغبة في النكاح
باب: نکاح کی ترغیب اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: نکاح کی رغبت دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13444
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَا الْحَفَدَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَلَدُ الرَّجُلِ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ الْأَخْتَانُ".
زر بن حبیش اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ” «حَفَدَة» کیا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: ”آدمی کی اولاد۔“ تو انہوں نے کہا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد سسرالی رشتے دار (داماد) ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13444]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13445
وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ، فَقَالَ لَا، هُمُ الْأَصْهَارُ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.
اسے ابن عیینہ نے عاصم سے روایت کیا تو اس میں کہا: ”نہیں، وہ سسرالی رشتے دار ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13445]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13446
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ منیٰ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور ان سے باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید وہ آپ کو آپ کے گزرے ہوئے زمانے کی کچھ باتیں یاد دلا دے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ کہتے ہیں تو ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو کوئی تم میں شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے، بیشک یہ نظروں کو نیچا کرنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور جو کوئی شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزے اس کے لیے ڈھال ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13446]
تخریج الحدیث: «بخاري 79۔ مسلم 1400»

الحكم على الحديث: بخاري 79
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13447
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ لَا أَرَاهُ حَدَّثَ بِهِ إِلَّا مِنْ أَجْلِي، كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ"، ⦗١٢٣⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کے پاس علقمہ اور اسود بھی تھے، تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں لوگوں میں سب سے کم عمر تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نوجوان تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے والی اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور تم میں سے جو شادی کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13447]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا بِهَا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَصُومُ الدَّهْرَ، فَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ:" أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي، وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں سوال کرنے لگے، جب ان کو عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کہاں؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسے ایسے کہا ہے؟ سن لو! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، تو جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13448]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13449
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَرِيرَتِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ وَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ وَحَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ حِكَايَةُ أَقْوَالِهِمْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخفی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ پھر بعض نے کہا: ”میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں کبھی گوشت نہیں کھاؤں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں بستر پر کبھی نہیں لیٹوں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔“ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟ لیکن میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں اور میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے۔ جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5063۔ مسلم 1401»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ طَلْحَةَ ⦗١٢٤⦘ الْأَيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ.
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”شادی کرو، بیشک ہم میں سے بہتر وہ ہیں جن کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں“ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13450]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں