🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2807. -- باب: الترغيب في التزويج من ذي الدين والخلق المرضي
-- باب: دین دار اور پسندیدہ اخلاق والے مرد سے نکاح کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13481
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُرْمُزَ الْفَدَكِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ، فَأَنْكِحُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ"، وَفِي رِوَايَةٍ: عَرِيضٌ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِ قَالَ:" إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ" قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" ⦗١٣٣⦘ أَبُو حَاتِمٍ الْمُزَنِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا النِّكَاحُ رِقٌّ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ أَيْنَ يَرِقُّ عَتِيقَتَهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کر لو۔ اس کے علاوہ اگر کسی اور سے نکاح کرو گے تو وہ فتنہ ہو گا اور بہت بڑا فساد کا باعث ہو گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اگر اس میں بھی ہو تو؟ پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر والی بات کی اور اس کو تین دفعہ دہرایا۔
ابو حاتم مزنی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13481]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2808. -- باب: من تخلى لعبادة الله إذا لم تتق نفسه إلى النكاح
-- باب: اس شخص کے لیے اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو جانے کا بیان جس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13482
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَسَيِّدًا وَحَصُورًا} [آل عمران: ٣٩] قَالَ:" الْحَصُورُ الَّذِي لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [سورة آل عمران: 39] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «الْحَصُورُ» وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے قریب نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13482]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13483
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" الْحَصُورُ الَّذِي لَا يَأْتِي النِّسَاءَ"، وَرُوِّينَا ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَنْ عِكْرِمَةَ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْحَصُورُ» وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے پاس نہ آئے۔ اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13483]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ" وَمَضَى، فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ، وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا وَأَنَا الرَّسُولُ، فَإِذَا جَاءُوا أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ، وَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأُذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" خُذْ فَأَعْطِهِمْ"، فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَنَظَرَ إِلِيَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ"، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" اقْعُدْ فَاشْرَبْ"، فَقَعَدْتُ، فَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ"، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ:" اشْرَبْ"، فَأَشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ:" فَادْنُ"، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ هَذَا الْخَبَرِ فِي هَذَا الْبَابِ قَوْلُهُ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ نکل رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انہوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے جب مجھے دیکھا اور فرمایا: ”آؤ۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے میں نے بھی اجازت طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے؟“ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی گھر تھا اور نہ مال۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے، اور جب ہدیہ آتا تو ان کی طرف پیغام بھیجتے، خود بھی اس میں سے لیتے اور ان کو بھی شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گزری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کر لے آیا، جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انہوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”پکڑو اور ان کو دو۔“ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا، اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا، پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہو گیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تمام لوگ سیر ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور پینا شروع کرو۔“ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور پیو۔“ میں نے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور پیو۔“ میں پیتا گیا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی مزید جگہ نہیں پاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو قریب آ جاؤ۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف بیان کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5375»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١٣٥⦘ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، بِهَمَذَانَ ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ قَالَ:" قَدْ عَرَفْتُكِ فَمَا حَاجَتُكِ؟" قَالَتْ: حَاجَتِي إِلَى ابْنِ عَمِّي فُلَانٍ الْعَابِدِ قَالَ:" قَدْ عَرَفْتُهُ" قَالَتْ: يَخْطُبُنِي فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ، فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ تَزَوَّجْتُهُ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لَا أَتَزَوَّجُ قَالَ:" مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا وَصَدِيدًا، فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ لَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا؛ لِمَا فَضَّلَهُ اللهُ عَلَيْهَا" قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہچان لیا ہے، کیا کام ہے؟“ عرض کیا: میرے چچا کے بیٹے نے مجھے منگنی کا پیغام دیا ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟ اگر تو میں اس کی طاقت رکھتی ہوں گی تو میں شادی کروں گی وگرنہ نہیں کروں گی۔ فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی کے ذمے ہے کہ اگر اس سے خون، الٹی یا پیپ وغیرہ بہہ رہی ہو اور عورت اس کو اپنی زبان سے چاٹ لے تو پھر بھی اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ اگر کسی انسان کو سجدہ لائق ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ جب وہ اس پر داخل ہوتا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس کو عورت پر افضل کیا ہے۔“ تو اس عورت نے کہا: مجھے اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گی۔ [صحیح لغیرہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2809. -- باب: نظر الرجل إلى المرأة يريد أن يتزوجها
-- باب: آدمی کا اس عورت کو دیکھنے کا بیان جس سے وہ نکاح کا ارادہ رکھتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13486
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟" قَالَ: لَا قَالَ:" فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے انصاری عورت سے شادی کرنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے اس کو دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھو، کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کوئی چیز ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13486]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1424»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، فَقَدِرَ عَلَى أَنْ يَرَى مِنْهَا مَا يُعْجِبُهُ وَيَدْعُوهُ إِلَيْهَا، فَلْيَفْعَلْ" قَالَ جَابِرٌ: فَلَقَدْ خَطَبْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا أَعْجَبَنِي، فَتَزَوَّجْتُهَا".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی منگنی کرے اور وہ قدرت رکھتا ہو کہ اس کو دیکھے جو اس کو خوش کر دے تو وہ اس کو بلائے اپنی طرف اور یہ کام کرے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا، میں نخلستان میں چھپ گیا، پھر میں نے اسے دیکھا جو مجھے اچھی لگی، پھر میں نے اس سے نکاح کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13487]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13488
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا ⦗١٣٦⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَرَادَ الْمُغِيرَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھ کر آؤ، یہ بات زیادہ لائق ہے کہ تمہارے درمیان محبت زیادہ ہو۔“ فرماتے ہیں: میں نے اسے دیکھا، پھر اس سے موافقت کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13488]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13489
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟" قُلْتُ: لَا قَالَ:" فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا".
ایضاً [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13489]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13490
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَذَكَرْتُهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟" قُلْتُ: لَا قَالَ:" فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" فَأَتَيْتُهَا وَعِنْدَهَا أَبَوَاهَا، وَهِيَ فِي خِدْرِهَا قَالَ: فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا قَالَ: فَسَكَتَا قَالَ: فَرَفَعَتِ الْجَارِيَةُ جَانِبَ الْخِدْرِ، فَقَالَتْ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلِيَّ لَمَا نَظَرْتَ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلِيَّ، فَلَا تَنْظُرْ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، ثُمَّ تَزَوَّجْتُهَا قَالَ: فَمَا وَقَعَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ بِمَنْزِلَتِهَا، وَلَقَدْ تَزَوَّجْتُ سَبْعِينَ أَوْ بِضْعًا وَسَبْعِينَ امْرَأَةً".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شادی کا پیغام ایک عورت کی طرف بھیجا اور اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کو دیکھا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اس کو دیکھو، یہ زیادہ لائق ہے تمہارے درمیان محبت کے لیے۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس گیا تو اس کے والدین موجود تھے اور وہ اپنی چادر میں چھپی ہوئی تھی، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تمہیں دیکھوں، وہ دونوں خاموش ہو گئے، تب لڑکی نے اپنی چادر کو ایک طرف سے اٹھایا اور کہا: میں تجھے قسم دیتی ہوں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے مجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لو، اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے مجھے دیکھنے کا حکم نہیں دیا تو مت دیکھو۔ تو میں نے اسے دیکھا، پھر میں نے اس عورت سے شادی کی، کوئی بھی عورت اس کے مرتبے کو میرے پاس نہیں پہنچی، میں نے ستر یا اس سے زائد عورتوں سے شادی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13490]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں