السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2811. -- باب: من بعث بامرأة لتنظر إليها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی عورت کو بھیجا تاکہ وہ اسے دیکھے
حدیث نمبر: 13501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَبَعَثَ بِامْرَأَةٍ لِتَنْظُرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" شُمِّي عَوَارِضَهَا وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبَيْهَا" قَالَ: فَجَاءَتْ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: أَلَا نُغَدِّيكِ يَا أُمَّ فُلَانٍ؟ قَالَتْ: لَا آكُلُ إِلَّا مِنْ طَعَامٍ جَاءَتْ بِهِ فُلَانَةُ قَالَ: فَصَعِدَتْ فِي رَفٍّ لَهُمْ، فَنَظَرْتُ إِلَى عُرْقُوبَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: قَبِّلِينِي يَا بُنَيَّةُ قَالَ: فَجَعَلَتْ تُقَبِّلُهَا وَهِيَ تَشُمُّ عَارِضَهَا قَالَ: فَجَاءَتْ فَأَخْبَرَتْ" كَذَا رَوَاهُ شَيْخُنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا دُونَ ذِكْرِ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ مَوْصُولًا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا اور اسے دیکھنے کے لیے ایک عورت کو بھیجا اور اس سے کہا: ”اس کے رخساروں کو سونگھ لو اور اس کی ایڑیوں کو دیکھ لو۔“ وہ ان کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: اے فلاں کی ماں! ہم تجھے کھانا کھلائیں، اس نے کہا: میں فلاں عورت کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں گی، تو وہ (کھانے لانے کے لیے) اوپر کمرے میں گئی تو اس کی ایڑیوں کو دیکھ لیا۔ پھر کہا: اے بیٹی! مجھے بوسہ دو۔ وہ بوسہ دے رہی تھی اور یہ اس کے رخسار سونگھ رہی تھی، پھر اس نے آکر بتایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13501]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
2812. -- باب: سبب نزول آية الحجاب
-- باب: آیتِ حجاب کے شانِ نزول کا بیان
حدیث نمبر: 13502
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ: وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فِيهِ أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِهَا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ بَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْحِجَابَ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں دس سال کا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور میری ماں مجھے یہ نصیحت کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں۔ میں نے مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا اور میں لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں کہ پردے کی آیت کب نازل ہوئی اور سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ تب جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی۔ صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں کی کہ آپ ان سے شادی کرنے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ وہ کھانے کو آئے، پھر بعض چلے گئے، اور بعض کافی دیر ٹھہرے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تاکہ وہ لوگ بھی نکل پڑیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس پہنچے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ وہ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا یہاں تک کہ زینب رضی اللہ عنہا پر داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی تک بیٹھے تھے، وہ گئے نہیں تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آگیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ شاید وہ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا اور وہ جا چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ کرلیا، تب پردے کی آیت نازل ہوئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5166۔ مسلم 86»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ الْبَاهِلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَا: ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، ثنا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ قَالَ: فَأَخَذَ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ قَالَ: فَلَمْ يَقُومُوا قَالَ: فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ وَقَامَ مِنَ الْقَوْمِ وَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، فَجِئْتُ لِأَدْخُلَ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ، إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ، فَادْخُلُوا، فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] " ⦗١٤١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَغَيْرُهُ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے کے لیے تیار ہونے لگے، لیکن وہ نہ اٹھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور لوگوں میں سے بھی کچھ کھڑے ہو گئے اور تین آدمی بیٹھے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے آئے تو لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، پھر وہ اٹھ کر چلے گئے۔ میں داخل ہونے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا﴾ [سورة الأحزاب: 53] سے لے کر ﴿إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13503]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13504
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ، بِمَكَّةَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: ١٢٥] ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ الْحِجَابِ قَالَ: وَبَلَغَنِي شَيْءٌ كَانَ بَيْنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَقْرَيْتُهُنَّ أَقُولُ لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ؟ فَأَمْسَكْتُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: ٥] " الْآيَةَ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ حُمَيْدٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ الثَّالِثَةِ السَّارِي بَدْرٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے رب نے تین مقام پر میری موافقت کی ہے۔ میں نے کہا: اگر ہم مقامِ ابراہیم کو مصلی بنا لیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر نیک لوگ بھی اور برے بھی داخل ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو پردے کا حکم دیں تو اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت نازل کر دی۔ اور انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بعض ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا: باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدل دے گا۔ یہاں تک کہ میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے آخری کے پاس پہنچا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے عمر! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اتنی بات نہیں کہ وہ اپنی بیویوں کو نصیحت کریں، یہاں تک کہ تم انہیں نصیحت کرتے ہو؟ تو میں رک گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ﴾ [سورة التحريم: 5] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13504]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4483۔ مسلم 2399»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13505
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ، إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ، وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ، وَكَانَ" عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءَ، فَنَادَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ؛ حِرْصًا عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رات کو قضائے حاجت کے لیے کھلی جگہ کی طرف نکلتیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے: آپ پردے کا حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام نہ کیا۔ ایک رات عشاء کے وقت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر نکلیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آواز دی اور کہا: اے سودہ! میں نے تجھے پہچان لیا ہے، یہ اس نیت سے کیا کہ پردے کے بارے میں حکم نازل ہوجائے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر پردے کی آیت نازل ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13505]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 147۔ مسلم 2170»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ هُوَ الْخِسْرَوْجِرْدِيُّ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي ⦗١٤٢⦘ أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، كَذَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13506]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ لِبَعْضِ حَاجَاتِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ، فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ عُمَرُ كَذَا وَكَذَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَأَنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ" قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ" قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبُرَازَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرُهُمْ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پردے کی آیت نازل ہونے کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کسی کام کے لیے نکلیں، وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں اور وہ ان سے چھپ نہیں سکتی تھیں جو انہیں پہچانتا ہو، ان کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اے سودہ! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں، دیکھو تو تم کیسے نکلتی ہو۔“ راوی کہتا ہے کہ وہ الٹے پاؤں واپس آگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قضائے حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس طرح کی باتیں کیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوگئی، تھوڑی دیر بعد جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو ہڈی اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13507]
تخریج الحدیث: «بخاري 4795»
الحكم على الحديث: بخاري 4795
حدیث نمبر: 13508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:"" يَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلَ لَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: ٣١] شَقَقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهِ"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هَكَذَا. أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا حَبَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: ٣١] عَمِدَتِ النِّسَاءُ إِلَى أُزُرِهِنَّ، فَشَقَقْنَهَا مِنْ نَحْوِ الْحَوَاشِي فَاخْتَمَرْنَ بِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ. قَدْ أَخْرَجْنَاهُ عَالِيًا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مہاجر عورتوں پر رحم کرے جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی، جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] تو انہوں نے اپنی چادریں پھاڑ کر اوڑھنیاں بنا لیں۔
ایک دوسری روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] تو عورتوں نے اپنی تہبندیں لیں اور انہیں کناروں کی طرف سے پھاڑ کر ان سے اوڑھنیاں بنا لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13508]
ایک دوسری روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] تو عورتوں نے اپنی تہبندیں لیں اور انہیں کناروں کی طرف سے پھاڑ کر ان سے اوڑھنیاں بنا لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4759»
الحكم على الحديث: صحيح
2813. -- باب: تحريم النظر إلى الأجنبيات من غير سبب مبيح
-- باب: کسی مباح سبب کے بغیر اجنبی عورتوں کی طرف دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے صغیرہ گناہوں (لمم) کے زیادہ مشابہ کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں دیکھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم کے حصے میں جو زنا کا حصہ اللہ پاک نے لکھ دیا، وہ اس کو ہر حال میں کر کے رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا، زبان کا زنا بولنا، نفس کا زنا خواہش اور تمنا کرنا اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرے یا تکذیب کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13509]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6243۔ مسلم 2657»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13510
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْمَخْزُومِيُّ يَعْنِي أَبَا هِشَامٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَى، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لازماً اسے پا کر رہے گا، پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا بات کرنا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے، اور دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13510]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح