السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2926. -- باب: الاستتار في حال الوطء
-- باب: ہم بستری کے دوران پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14095
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهْ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدَانِ تَجَرُّدَ الْعِيرَيْنِ"، تَفَرَّدَ بِهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا فَمَحْمُودٌ فِي الْأَخْلَاقِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَكْرَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَالْأُخْرَى تَنْظُرُ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ التَّسَتُّرِ، وَلَا مَحْمُودِ الْأَخْلَاقِ، وَلَا يُشَبِّهُ الْعِشْرَةَ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يُعَاشِرَهَا بِالْمَعْرُوفِ.
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو پردہ کرلے اور وہ دونوں کپڑے نہ اتاریں جیسے دو گدھے برہنہ ہوتے ہیں۔“
اسے صرف مندل بن علی نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے، اگرچہ یہ ثابت نہیں لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14095]
اسے صرف مندل بن علی نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے، اگرچہ یہ ثابت نہیں لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14095]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَالْأُخْرَى تَسْمَعُ قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ الْوَجْسَ، حَدَّثَنَاهُ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْوَجْسُ هُوَ الصَّوْتُ الْخَفِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مِثْلِ هَذَا مِنَ الْكَرَاهَةِ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ، وَهُوَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْحَدِيثِ حَتَّى الصَّبِيُّ فِي الْمَهْدِ.
ابوعبید رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ کی حدیث میں کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے اور دوسری سنتی ہے، فرماتے ہیں کہ وہ مخفی آواز کو بھی ناپسند کرتے تھے اور بعض میں تو اتنی کراہت بیان کی گئی ہے کہ بچہ اپنے جھولے میں بھی نہ سنے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ صرف سونے کی حالت ہے، جماع کی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14096]
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ صرف سونے کی حالت ہے، جماع کی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14096]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2927. -- باب: ما يكره من ذكر الرجل إصابته أهله
-- باب: انسان کا اپنی بیوی سے ہم بستری کی باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی کراہت و ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ⦗٣١٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُفْضِي إِلَى امْرَأَةٍ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يُفْشِي سِرَّهَا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مَرْوَانَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے اور بیوی اپنے شوہر کے پاس آئے (یعنی صحبت کریں) پھر وہ شخص اس کے راز کو ظاہر کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14097]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1437»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14098
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا، وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى أَتَى مَقَامَهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ قَالَ: وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ، وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ، أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ، وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنْ نَسَّانِيَ الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ"، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْسَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ:" مَجَالِسَكُمْ مَجَالِسَكُمْ مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يَسْتَتِرُ بِسِتْرِ اللهِ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ سِتْرَهُ"، قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ:" ثُمَّ يَجْلِسُ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ بِصَاحِبَتِي كَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا"، فَسَكَتُوا، فَقَالَ:" هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟" قَالَ: فَسَكَتْنَ، فَجَثَتْ فَتَاةٌ أَحْسَبُهُ قَالَ: كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا، فَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَرَاهَا، فَقَالَتْ: إِي وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ؟ مَثَلُ الشَّيْطَانِ وَالشَّيْطَانَةِ لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فِي سِكَّةٍ، فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، وَقَالَ: أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ، وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ، إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ"، وَقَالَ الثَّالِثَةُ، فَنَسِيتُهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا وُجِدَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ، أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يُوجَدْ رِيحُهُ".
طفاوت کے ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں مدینہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ تیز چلتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مہمان نواز تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ آئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں مردوں کی اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صفیں عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر شیطان مجھے نماز میں کچھ بھلا دے تو مرد «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کچھ نہیں بھولے، پھر فرمایا: ”اپنی جگہ رہنا، اپنی جگہ رہنا، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو دروازہ بند کر لے اور پردہ ڈال لے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ (لوگوں میں) بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے یوں یوں کیا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم خاموش رہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی عورت نے یہ کیا؟“ راوی کہتے ہیں: عورتیں بھی خاموش رہیں۔ ایک نوجوان لڑکی، میرا گمان ہے کہ انہوں نے نوخیز لڑکی کہا، اپنے ایک گھٹنے کے بل بیٹھ گئی، اس نے خود کو نمایاں کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیں، اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مرد بھی یہ بیان کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جس نے ایسا کیا وہ اس شیطان اور شیطاننی کی مانند ہیں جو کسی گلی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنی حاجت پوری کرتے ہیں حالانکہ لوگ انھیں دیکھ رہے ہوں۔“ اور فرمایا: ”کوئی مرد مرد کے ساتھ اور کوئی عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، صرف بچے یا والد کے ساتھ اجازت ہے۔“
اور راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو موجود نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14098]
اور راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو موجود نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14098]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشِّيَاعُ حَرَامٌ" قَالَ حَنْبَلٌ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ: ابْنُ لَهِيعَةَ يَقُولُ: الشِّيَاعُ يَعْنِي الْمُفَاخَرَةُ بِالْجِمَاعِ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: السِّبَاعُ يُرِيدُ جُلُودَ السِّبَاعِ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کر کے فخر کرنا حرام ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «سِبَاع» سے مراد درندوں کا چمڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14099]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2928. -- باب: إتيان النساء في أدبارهن
-- باب: عورتوں کی پچھلی شرم گاہوں (دبر) میں وطی کرنے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 14100
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ فِي فَرْجِهَا مِنْ وَرَائِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ، فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] "، لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ كَانَتِ الْيَهُودُ يَقُولُونَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنْ وَرَائِهَا جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ فَذَكَرَ الْآيَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ مرد جب اپنی عورت سے پیچھے کی جانب سے مجامعت کرتا ہے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو آؤ۔“
(ب) ابونعیم کی حدیث میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ اپنی بیوی سے پیچھے کی جانب سے مجامعت کرنے سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14100]
(ب) ابونعیم کی حدیث میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ اپنی بیوی سے پیچھے کی جانب سے مجامعت کرنے سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14100]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4528»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14101
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" قَالَتِ الْيَهُودُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بَارِكَةً جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَثْنَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی سے پیچھے کی جانب سے شرمگاہ میں مجامعت کرتا ہے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14101]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14102
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جب مرد عورت کی قبل میں دبر کی جانب سے آتا ہے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14102]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14103
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالُوا: ثنا مُسَدَّدٌ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا ⦗٣١٦⦘ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" قَالَتِ الْيَهُودُ: إِنَّمَا يَكُونُ الْحَوَلُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ خَلْفِهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] ، مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا، وَلَا يَأْتِيهَا إِلَّا فِي الْمَأْتَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ بچہ تب بھینگا ہوتا ہے جب مرد پیچھے کی جانب سے قبل میں آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] کہ وہ آگے سے آئے یا پیچھے سے، لیکن صرف مخصوص جگہ میں آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14103]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" قَالَتِ الْيَهُودُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مُجَبِّيَةً كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] ، إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً، وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي قُدَامَةَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ مرد جب اپنی عورت کو اوندھے منہ کر کے مجامعت کرتا ہے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جہاں سے چاہو آؤ، اگر چاہو تو اوندھے منہ کر کے کرو یا نہ کرو، لیکن ایک ہی مخصوص جگہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14104]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح