🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3024. -- كتاب القسم والنشوز
-- کتاب: باری مقرر کرنے اور نشوز (عورت کی نافرمانی) کے مسائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَارِمٌ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ أَبِي النُّعْمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب ذمہ دار ہو، تم سب سے پوچھا جائے گا۔ امیر لوگوں کا ذمہ دار ہے، اس سے عوام کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ گھر کا فردِ اعلیٰ اپنے گھر والوں کی طرف سے جوابدہ ہے، اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا، آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ تم میں ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14703]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 893»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3025. -- باب: ما جاء في عظم حق الزوج على المرأة
-- باب: عورت پر شوہر کے حق کی عظمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14704
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِمَا عَظَّمَ اللهُ مِنْ حَقِّهِ عَلَيْهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کا بہت زیادہ حق عورت پر رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14704]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الزِّيَادِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُ ⦗٤٧٦⦘ أَهْلَهَا يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ:" لَا تَفْعَلُوا أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ سَاجِدًا؟" قُلْتُ: لَا قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللهُ مِنْ حَقِّهِمْ عَلَيْهِنَّ" وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
شعبی رحمہ اللہ، قیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حیرہ شہر میں آیا تو وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کریں، میں نے واپس آکر جو دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور کہا کہ ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیا تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو سجدہ کرو گے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں، کیونکہ ان کے حقوق اللہ رب العزت نے ان پر رکھے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14705]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ قَالَ:" أَيْ هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟" قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ".
حصین بن محصن کہتے ہیں کہ میری پھوپھی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام کے لیے گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرا خاوند ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہے اس کے لیے؟“ اس نے کہا: میں کمی نہیں کرتی جب تک میں عاجز نہ آجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے کہاں ہے؟ وہ تیری جنت اور جہنم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 358»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطِيعِي أَبَاكِ"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ:" حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری اس بیٹی نے شادی سے انکار کر دیا ہے،“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ کی اطاعت کرو۔“ وہ کہنے لگی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جب تک آپ مجھے خاوند کا حق بیوی پر کیا ہے نہ بتائیں گے تو میں شادی نہ کروں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی پر اتنا ہے کہ اگر خاوند کو زخم ہو اور بیوی اس کے زخم کو چاٹ کر صاف کرے تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14707]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3026. -- باب: ما جاء في بيان حقه عليها
-- باب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14708
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: نا مُسَدَّدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانًا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے تو وہ انکار کر دے اور خاوند نے ناراضی کی حالت میں رات گزاری تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14708]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري5193۔5194»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14709
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ أَوْ تُرَاجِعَ" شَكَّ أَبُو دَاوُدَ ⦗٤٧٧⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ثُمَّ فِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ حَتَّى تُصْبِحَ وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ حَتَّى تَرْجِعَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو اس کے صبح یا لوٹنے تک فرشتے لعنت کرتے ہیں۔“
(ب) بعض کی روایات میں کہ ”وہ صبح کرے“ اور بعض کی روایات میں کہ ”وہ واپس پلٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14709]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14710
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتُجِبْهُ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ".
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جب مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اگر وہ تنور پر بھی ہو تو اس کی بات مانے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14710]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14711
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ فَوَجَدَهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَى فِي نَفْسِهِ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي دَخَلْتُ الشَّامَ فَوَجَدْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَيْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا كُلَّهُ حَتَّى أَنْ لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ أَعْطَتْهُ" أَوْ قَالَ: لَمْ تَمْنَعْهُ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کریں گے، وہ واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں شام آیا تو وہاں کے لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کر رہے تھے تو میں نے دل میں سوچا کہ میں آپ کے ساتھ ایسا کروں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عورت اتنی دیر اللہ کا بھی حق ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے۔ اگر وہ اپنی ضرورت کا سوال کرے اور وہ پالان پر بھی ہو تب بھی اس کے پاس آئے“ یا فرمایا: ”اس کو نہ روکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14711]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصة»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّزْجَاهِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَاهُ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ كَمَا مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت خاوند کی موجودگی میں نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دے اور جو کچھ وہ اس کی کمائی میں سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرے تو اس کا نصف اجر خاوند کو ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5192»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں