السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3030. -- باب: حق المرأة على الرجل
-- باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14723
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَا: نا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ وَبِهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، آپ ہرگز اس کو سیدھا نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اس کے ٹیڑھے پن کے ہوتے ہوئے فائدہ اٹھاؤ، اور اگر آپ اسے سیدھا کرنا چاہیں گے تو توڑ ڈالیں گے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبِي، نا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ:" فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے قصے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفہ میں خطبہ دینے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت سمجھ کر لیا ہے اور نکاح کے ذریعے تم نے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور بیشک تمہارا ان کے ذمے یہ حق ہے کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے بستر پر کبھی نہ آئیں۔ اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو ان کو نہ ظاہر ہونے والی مار مارو اور عورتوں کا حق تمہارے ذمے یہ ہے کہ ان کو کھلانا اور اچھائی کے ساتھ پہنانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14724]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14725
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، نا سُفْيَانُ لَفْظًا عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ:" أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعَيِّنِّي عَلَيْكُمْ بِالسُّنَّةِ نُخِيفُكُمْ وَبِالرُّعْبِ أَنْ يَجْعَلَهُ فِي قُلُوبِكُمْ" قَالَ: فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ فَمَا زَالَتِ السُّنَّةُ تُخِيفُنِي، وَالرُّعْبُ يُجْعَلُ فِي قَلْبِي حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ أَمَا لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَكَ أَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَكَ بِمَا تَقُولُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَهُوَ أَمَرَكَ بِمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا؟ قَالَ:" هُنَّ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَأَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْسُونَ وَلَا تَضْرِبُوهُنَّ وَلَا تُقَبِّحُوهُنَّ" قَالَ: فَيَنْظُرُ أَحَدُنَا إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ إِذَا اجْتَمَعْنَا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَإِذَا تَفَرَّقْنَا؟ قَالَ: فَضَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى فَخِذَيْهِ إِلَى ⦗٤٨٢⦘ الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَحْيُوا مِنْهُ"، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمُ الْقُدَامُ فَأَوَّلُ مَا يَنْطِقُ مِنَ الْإِنْسَانِ كَفُّهُ وَفَخِذُهُ".
سعید بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اللہ رب العزت سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے خلاف میری مدد کرے، ایسی قحط سالی کے ذریعے جو تمہیں خوف زدہ کر دے اور ایسے رعب کے ذریعے جو تمہارے دلوں میں بیٹھ جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے کہا: میں نے اتنی اتنی بار قسم کھائی تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاؤں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کروں گا، پھر قحط سالی مجھے مسلسل خوف زدہ کرتی رہی اور میرے دل میں رعب ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ کیا اللہ کی قسم! اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: جو آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں یہ اللہ نے آپ کو دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ ہماری عورتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو اور ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور ان کو پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور تم ان کو نہ مارو اور نہ برا بھلا کہو۔“ اس نے کہا: جب ہم جمع ہوں تو کیا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: جب ہم جدا جدا ہوں؟ تب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ران پر دوسری ران کو رکھا اور فرمایا: ”اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے حیا کرو۔“ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جائے گا، ان کے منہ بند کر دیے جائیں گے تو انسان کی سب سے پہلے ہتھیلی اور ران کلام کرے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ:" أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى وَلَا يَهْجُرُ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَلَا يَضْرِبُ الْوَجْهَ وَلَا يُقَبِّحُ".
حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: عورت کا مرد پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کو کھلائے جب کھائے اور اس کو پہنائے جب پہنے اور گھر کے اندر چھوڑ دے، چہرے پر نہ مارے اور نہ ہی برا بھلا کہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14726]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو قِلَابَةَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُمْرَانَ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ آخَرَ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سِوَاهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى الْفَرْكُ الْبُغْضُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن مرد مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر وہ اس کی ایک عادت کو ناپسند کرتا ہے تو دوسری کو پسند کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14727]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1469»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِلْمَرْأَةِ كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَزَّيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ٢٢٨] وَمَا أُحِبُّ أَنْ تَسْتَطِفَّ جَمِيعَ حَقٍّ لِي عَلَيْهَا؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ} [البقرة: ٢٢٨] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ عورت کے لیے زینت اختیار کروں جیسا کہ مجھے پسند ہے کہ عورت میرے لیے زینت کرے، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان عورتوں کے حقوق بھی ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان کے ذمے ہیں، اچھائی کے ساتھ۔“ اور میں نہیں پسند کرتا کہ سارے میرے حقوق عورت کے ذمہ ہوں، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ [سورة البقرة: 228] ”مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14728]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3031. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14729
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا إِسْحَاقُ، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] قَالَتْ:" نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَا يَسْتَكْثِرُ مِنْهَا فَيُرِيدُ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَيَتَزَوَّجَ ⦗٤٨٣⦘ غَيْرَهَا فَتَقُولُ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنَ النَّفَقَةِ وَالْقِسْمَةِ لِي، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا} الْآيَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] کے متعلق فرماتی ہیں: یہ آیت ایسی عورت کے بارے میں نازل ہوئی جس کا خاوند اس سے زیادہ رغبت نہ رکھتا تھا اور اسے طلاق دے کر کسی دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا تو وہ کہتی: مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس روکے رکھو اور آپ کو خرچے اور باری کی تقسیم میں اختیار ہے، تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [سورة النساء: 128] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14730
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ،" أَنَّ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا إِمَّا كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو انہیں ان کی کوئی بات اچھی نہ لگی، بڑھاپا یا کچھ اور، انہوں نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ وہ کہنے لگیں: مجھے طلاق نہ دو اور میرے لیے اپنی مرضی سے باری تقسیم کر لینا، تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ [سورة النساء: 128] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14730]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14731
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ" أَنَّ السُّنَّةَ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا نُشُوزَ الْمَرْءِ وَإِعْرَاضَهُ عَنِ امْرَأَتِهِ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا نَشَزَ عَنِ امْرَأَتِهِ وَآثَرَ عَلَيْهَا فَإِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَيْهِ أَنْ يَعْرِضَ عَلَيْهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا أَوْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى مَا كَانَتْ مِنْ أَثَرَةٍ فِي الْقَسَمِ مِنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَإِنِ اسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى ذَلِكَ وَكَرِهَتْ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا آثَرَ عَلَيْهِمَا مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِضْ عَلَيْهَا الطَّلَاقَ وَصَالَحَهَا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ مَالِهِ مَا تَرْضَاهُ وَتَقَرُّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِي الْقَسَمِ مِنْ مَالِهِ وَنَفْسِهِ صَلُحَ لَهُ ذَلِكَ وَجَازَ صُلْحُهُمَا عَلَيْهِ" كَذَلِكَ ذَكَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانُ الصُّلْحَ الَّذِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} وَقَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ عَلَيْهَا الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً أُخْرَى ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ: مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ لَكِ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الْأَثَرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ، فَقَالَتْ: لَا بَلِ أَسْتَقِرُّ عَلَى الْأَثَرَةِ فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ فَكَانَ ذَلِكَ صُلْحَهُمَا وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ رَضِيَتْ بِأَنْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِيمَا آثَرَ بِهِ عَلَيْهَا.
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان دو آیات میں سنت طریقہ جو اللہ رب العزت نے مرد کی لڑائی اور اعراضِ عورت سے ذکر کیا ہے: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] جب مرد اپنی بیوی سے لڑائی یا اس پر کسی کو ترجیح دیتا ہے۔ تو مرد پر یہ حق لازم ہے کہ وہ عورت کو اختیار دے کہ یا تو وہ اسے طلاق دے دے یا وہ اس کے پاس ٹھہری رہے اگرچہ وہ اپنے مال اور نفس میں کسی دوسری کو اس پر ترجیح دے۔ اگر عورت اس کے پاس رہنا چاہے اور طلاق لینا پسند نہ کرے تو مرد کا کسی دوسری کو اس پر ترجیح دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر مرد طلاق نہ دے بلکہ عورت کو اتنا مال دینے پر رضامند ہو، جتنا وہ لینا چاہے تو وہ عورت مال اور باری کی تقسیم کی ترجیح میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہے، دونوں کے درمیان صلح جائز ہے، ایسے ہی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ نے صلح کا تذکرہ کیا ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [سورة النساء: 128] ۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک عورت تھی، جب وہ بوڑھی ہوگئی تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کرلی۔ بوڑھی عورت نے طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی، پھر اس کو روکے رکھا جب حلال ہونے کے قریب ہوئی تو اس سے رجوع کرلیا، پھر نوجوان لڑکی کو رافع رضی اللہ عنہ نے ان پر ترجیح دی تو اس نے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے دوسری طلاق بھی دے دی۔ پھر روکے رکھا اور حلال ہونے کے قریب پھر رجوع کرلیا، پھر رافع رضی اللہ عنہ نے نوجوان لڑکی کو ترجیح دی تو بوڑھی نے پھر طلاق کا مطالبہ کردیا، رافع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اب آخری موقع ہے اگر چاہو تو میں طلاق دے دیتا ہوں، اگر اس ترجیح پر باقی رہنا چاہو تو درست، وگرنہ جدا کردیتا ہوں، تو اس بوڑھی نے اس پر ترجیح پر باقی رہنے کو پسند کرلیا۔ تو انہوں نے روکے رکھا، یہ ان دونوں کے درمیان صلح تھی۔ تو رافع رضی اللہ عنہ نے اس ترجیح پر گناہ نہیں سمجھا جب وہ رہنے پر رضامندی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14731]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14732
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تُوُفِّيَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باری آٹھ کے لیے تقسیم کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14732]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح