السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3037. -- باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء
-- باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14763
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، نا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری لڑکی سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات راتیں گزارے اور جب بیوہ سے نکاح کرلے کنواری کے ہوتے ہوئے تو اس کے ہاں تین راتیں گزارے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مِنْهَالٍ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لِلْبِكْرِ سَبْعَةُ أَيَّامٍ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کنواری کے لیے سات دن اور بیوہ کے لیے تین دن ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ بِكْرًا فَلَهَا سَبْعٌ ثُمَّ يَقْسِمُ فَإِذَا تَزَوَّجَهَا ثَيِّبًا فَلَهَا ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ثُمَّ يَقْسِمُ".
حمید سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب مرد کسی کنواری عورت سے شادی کرلے تو اس کے پاس سات دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے اور جب بیوہ عورت سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" يُقِيمُ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا ثُمَّ يَقْسِمُ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يَقْسِمُ".
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کنواری کے پاس سات دن قیام کرتے، پھر باری تقسیم کرتے اور اگر عورت بیوہ ہوتی تو اس کے پاس تین دن قیام کرنے کے بعد باری تقسیم کر دیتےے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، نا أَنَسٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بِصَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا زَادَ عُثْمَانُ وَكَانَتْ ثَيِّبًا.
حمید حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو ان کے پاس تین دن قیام کیا، عثمان بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ بیوہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14767]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3038. -- باب: القسم للنساء إذا حضر سفر
-- باب: سفر پیش آنے کی صورت میں عورتوں (بیویوں) کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللهُ مِنْهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتُ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ⦗٤٩٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا زَعَمُوا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ قَالَتْ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا، پھر اللہ رب العزت نے ان کو بری کر دیا؛ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا جو ایک دوسرے سے بڑھ کر یاد رکھنے والے تھے اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی حدیث کو یاد رکھا جس نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، کیونکہ ان کی حدیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کا بیان تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتیں۔“ وہ فرماتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں جاتے ہوئے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئی اور (اس وقت) پردے کی آیات نازل ہو چکی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَخَرَجَتَا جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَارَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَتَحَدَّثُ مَعَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ وَسَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَيْهَا فِي الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي وَرَسُولُكَ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک مرتبہ قرعہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکلا تو وہ دونوں اکٹھی نکلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت چلتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے رہتے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں: کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہوتیں اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہوجاتی ہوں تو آپ دیکھیں گی اور میں دیکھوں گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کیوں نہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے، حالانکہ اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کہہ کر ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ انھوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا۔ جب پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا پاؤں گھاس میں رکھ دیا اور کہنے لگیں: اے میرے رب! میرے اوپر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3039. -- باب: نشوز المرأة على الرجل
-- باب: مرد کے مقابلے میں عورت کی نافرمانی (نشوز) کا بیان۔
حدیث نمبر: Q14770
قَالَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا} [النساء: 34] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا﴾ ”اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں نصیحت کرو، اور انہیں ان کے بستروں میں الگ چھوڑ دو، اور انہیں (ہلکی) مار مارو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔“ [سورة النساء: 34] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: Q14770]
حدیث نمبر: 14770
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ:" تِلْكَ الْمَرْأَةُ تَنْشُزُ وَتَسْتَخِفُّ بِحَقِّ زَوْجِهَا وَلَا تُطِيعُ أَمْرَهُ فَأَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَعِظَهَا وَيُذَكِّرَهَا بِاللهِ وَيُعَظِّمَ حَقَّهُ عَلَيْهَا فَإِنْ قَبِلَتْ وَإِلَّا هَجَرَهَا فِي الْمَضْجَعِ وَلَا يُكَلِّمُهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَذَرَ نِكَاحَهَا، وَذَلِكَ عَلَيْهَا شَدِيدٌ، فَإِنْ رَاجَعَتْ وَإِلَّا ضَرَبَهَا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَا يَكْسِرُ لَهَا عَظْمًا، وَلَا يَجْرَحُ لَهَا جُرْحًا قَالَ: {فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا} [النساء: ٣٤] يَقُولُ: إِذَا أَطَاعَتْكَ فَلَا تَتَجَنَّ عَلَيْهَا الْعِلَلَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عورت نافرمانی اور اپنے خاوند کی تذلیل کرتی ہے اور اس کے حکم کو نہیں مانتی تو اللہ رب العزت نے حکم دیا کہ اس کو واضح نصیحت کرے اور اپنا حق اس پر جتائے۔ اگر وہ قبول کرلے تو ٹھیک وگرنہ اس کو بستر میں چھوڑ دے اور نہ ہی اس سے کلام کرے، اس سے نکاح نہ توڑے۔ یہ اس پر سختی ہے، اگر وہ رجوع کرلے تو درست وگرنہ اس کو نہ ظاہر ہونے والی مار مارے۔ ہڈی نہ توڑے اور زخم نہ کرے، ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 34] وہ فرماتے ہیں: جب وہ تیری اطاعت کرے تو پھر اس پر بہانے نہ ڈھونڈ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14770]
3040. -- باب: ما جاء في وعظها
-- باب: عورت کو نصیحت کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14771
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ وَفْدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ فَأَتَيْنَاهُ فَلَمْ نُصَادِفْهُ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأُتِينَا بِقِنَاعٍ فِيهِ تَمْرٍ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ وَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ ثُمَّ أَكَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"" هَلْ أَكَلْتُمْ شَيْئًا هَلْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟"" قُلْنَا: نَعَمْ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ فَإِذَا بِسَخْلَةٍ تَيْعَرُ فَقَالَ:"" هِيهِ يَا فُلَانُ مَا وَلَدَتْ"" قَالَ: بَهْمَةً قَالَ:"" فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً"" ثُمَّ انْحَرَفَ إِلِيَّ وَقَالَ"" لَا تَحْسَبَنَّ"" وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا"" لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً"" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِيَ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ:"" طَلِّقْهَا""، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ:"" فَمُرْهَا"" يَقُولُ:"" عِظْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلْ وَلَا تَضْرِبْنَ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ"" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ: أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"".
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد (سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد میں تھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی اور ہماری ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ ہمارے سامنے پلیٹ میں کھجوریں لائی گئیں اور انہوں نے ہمارے لیے خزیدہ بنوانے کا حکم دیا (خزیدہ وہ سالن ہے جو قیمہ اور آٹا ملا کر بنایا جاتا ہے)۔ کھانا تیار کیا گیا، ہم نے کھانا کھایا تو اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمہارے لیے کچھ بنوانے کا حکم دیا گیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ اتنی دیر میں چرواہا بھی بکریاں لے کر آگیا، اچانک ایک بکری نے بچہ جنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے چرواہے! کیا جنا ہے؟“ اس نے عرض کیا: بچہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم یہ گمان نہ کرنا اور یہ نہ کہنا کہ ہم نے تمہاری خاطر ذبح کی ہے، اصل میں ہمارے پاس سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے بڑھے، اس لیے جب بھی کوئی بکری بچہ جنتی ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی بدزبان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے عرض کیا: اس سے میری اولاد ہے اور مجھے اس سے محبت بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نصیحت کرو، اگر اس میں کچھ بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کر لے گی، اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کامل طریقے سے کرو، انگلیوں کا خلال کرو اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14771]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح