🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3041. -- باب: ما جاء في هجرتها
-- باب: عورت کا بستر چھوڑ دینے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ" قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي النِّكَاحَ.
ابو حرہ رقاشی اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کی نافرمانی کا خطرہ ہو تو ان کو بستروں میں چھوڑ دو۔“ (حماد کہتے ہیں، یعنی جماع)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14772]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3042. -- باب: لا يجاوز بها في هجرة الكلام ثلاثا
-- باب: اس بیان میں کہ بات چیت چھوڑنے میں تین دن سے تجاوز نہ کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14773
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے سے حسد، قطع تعلقی اور دشمنی اختیار نہ کرو اور تم اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بات کرنا چھوڑ دے۔“
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بات کرنا چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3043. -- باب: ما جاء في ضربها
-- باب: عورت کو مارنے (سزا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ:" اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے اللہ کے وعدے اور نکاح کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان کے ذمے یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو نہ روندیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ پھر ایسا کریں تو ظاہر نہ ہونے والی پٹائی کرو اور ان کے حقوق تمہارے ذمہ یہ ہیں کہ ان کا کھلانا اور پہننا اچھائی کے ساتھ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14775
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"" لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ"" قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" فَاضْرِبُوهُنَّ""، قَالَ: فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ: فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ:"" لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ"" بَلَغَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُعْرَفُ لِإِيَاسٍ صُحْبَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔“ کہنے لگے: عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور اپنے خاوندوں سے برے اخلاق سے پیش آتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور ان کے اخلاق خاوندوں کے خلاف بگڑ گئے ہیں جب سے آپ نے ان کو مارنے سے منع کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کی پٹائی کی۔ راوی کہتے ہیں: بہت ساری عورتیں پٹائی کی شکایت لے کر حاضر ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صبح کی تو فرمایا: ”آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 70 عورتیں آئیں، وہ ساری کی ساری مار کی شکایت کر رہی تھیں، اللہ کی قسم! تم ایسے لوگوں کو اچھے لوگ نہیں پاؤ گے۔“
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایاس کا صحابی ہونا معروف نہیں ہے۔ یہ روایت ایک دوسری سند سے مرسل بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14775]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ أنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ نا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَا: نا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ:" كَانَ الرِّجَالُ نُهُوا عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ، ثُمَّ شَكَوْهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ضَرْبِهِنَّ ثُمَّ قُلْتُ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ" قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ بَعْدُ: وَلَنْ يَضْرِبَ خِيَارُكُمْ.
سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کر دیا گیا تو انہوں نے عورتوں کی شکایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مارنے کی اجازت دے دی۔ پھر میں نے کہا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آج رات ٧٠ ستر عورتیں آئیں جن کو مارا گیا تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ قاسم تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں ان سے کہا گیا: ”تمہارے اچھے لوگ ہرگز نہ ماریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14776]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بَعْضَ أَهْلِ بَيْتِهِ" لَا تُشْرِكْ بِاللهِ وَإِنْ عُذِّبْتَ وَإِنْ حُرِّقْتَ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ فَاخْرُجْ وَلَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ إِيَّاكَ، وَالْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّهَا لَسُخْطُ اللهِ لَا تُنَازِعَنَّ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ، وَلَا تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانِ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ، أَنْفِقْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَأُمِّ أَيْمَنَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الْكِسَائِيُّ وَغَيْرُهُ: يُقَالُ إِنَّهُ لَمْ يُرِدِ الْعَصَا الَّتِي يُضْرَبُ بِهَا وَلَا أَمَرَ أَحَدًا قَطُّ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ الْأَدَبَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَأَصْلُ الْعَصَا الِاجْتِمَاعُ وَالِائْتِلَافُ.
سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو نصیحت کی کہ: ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، اگرچہ عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ ہر چیز کو چھوڑ دو، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے فرض نماز کو جان بوجھ کر چھوڑا، اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو گیا، شراب سے بچو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور نافرمانی سے بچو، یہ اللہ کی ناراضگی ہے، اور حکومت والوں سے حکومت نہ چھینو، اگرچہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے مناسب ہے، اور لڑائی سے نہ بھاگ، اگرچہ لوگوں کو موت آئے۔ اگر تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہ، اور اپنے گھر والوں پر اپنے مال سے خرچ کر، اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھا، اور انہیں اللہ رب العزت کے بارے میں ڈراتا رہ۔“ کسائی وغیرہ فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے مراد وہ نہیں جس سے مارا جاتا ہے بلکہ ادب سکھلانا مقصود ہے۔
اس روایت میں مکحول اور ام ایمن کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3044. -- باب: لا يسأل الرجل فيم ضرب امرأته
-- باب: اس بیان میں کہ مرد سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کس بات پر مارا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14778
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَامَنَّ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ" وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مہمان تھا، انہوں نے مجھ سے کہا: اے اشعث! مجھ سے تین چیزیں یاد کر لے کہ میں نے وہ تین چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی تھیں: ”کسی مرد سے یہ سوال نہ کرنا کہ اس نے اپنی بیوی کو کس وجہ سے مارا ہے“ اور ”وتر پڑھے بغیر نہ سونا۔“ راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14778]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3045. -- باب: لا يضرب الوجه ولا يقبح ولا يهجر إلا في البيت
-- باب: اس بیان میں کہ چہرے پر نہ مارا جائے، نہ برے الفاظ کہے جائیں، اور گھر کے سوا کہیں اور بستر الگ نہ کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ:" أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ".
حکیم بن معاویہ قشیری رحمہ اللہ اپنے والد معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بیویوں کا مردوں پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو کھلا جب کھائے اور تو اس کو پہنا جب پہنے اور چہرے پر مت مار اور تو برا بھلا مت کہہ اور صرف گھر میں چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14779]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3046. -- باب: الاختيار في ترك الضرب
-- باب: مار پیٹ چھوڑ دینے کو ترجیح دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14780
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، أنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ أنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٤٩٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ كَمَا يَضْرِبُ الْعَبْدَ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ" وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: وَعَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي النِّسَاءِ فَقَالَ:" يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُعَانِقُهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيِّ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو غلام کے مارنے کی مانند مارتے ہو اور پھر دن کے آخر میں اس سے مجامعت کرتے ہو۔“
(ب) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عورتوں کے بارے میں وعظ کیا، فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کے مارنے کی مانند مارتا ہے اور دن کے آخر میں اس سے مجامعت کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14781
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ" فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَضَرَبُوا فَأَطَافَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ فَقَالَ:" لَقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ أَزْوَاجَهُنَّ وَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ".
ایاس بن ابی ذباب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ عورتیں اپنے خاوند کے خلاف دلیر ہوگئی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، چنانچہ انہوں نے (اپنی بیویوں کو) مارا، تو بہت ساری عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس رات 70 عورتیں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ہیں، سب اپنے خاوندوں کی شکایت کر رہی تھیں، تم اپنے ان اشخاص کو اچھے لوگ نہ پاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 14775»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں