🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3080. -- باب: ما جاء في التمليك
-- باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15040
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا، تو اس نے تین طلاقیں دے دیں، معاملہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15040]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15041
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا أَلْفًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا تو بیوی نے ہزار طلاقیں دے دیں، معاملہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو فرمایا: یہ ایک ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15041]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15042
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ وَيَكُونُ أَمْلَكُ بِهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا".
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار سونپ دیتا ہے تو جو بیوی فیصلہ کرے وہی ہوگا، لیکن اگر خاوند انکار کرے، وہ کہتا ہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا اور وہ قسم اٹھائے، تو عورت جب تک عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15042]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15043
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا سُئِلَا عَنِ الرَّجُلِ يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالَا:" لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے جس نے اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دیا کے بارے میں پوچھا، لیکن بیوی نے اختیار استعمال کیے بغیر خاوند کو واپس کر دیا تو دونوں فرماتے ہیں: یہ طلاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15043]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنْ قَبِلُوهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا".
مسروق رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر وہ قبول نہ کریں تو مرد کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے جب وہ بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15044]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15045
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَلْحِقِي بِأَهْلِكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَقَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ”اپنے گھر والوں سے مل جاؤ“ یا اسے اس کے گھر والوں کو ہبہ کر دیتا ہے، اگر وہ اسے قبول کر لیں تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند کو رجوع کا زیادہ حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15045]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَهَبَ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا فَقَالَ:" إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنْ رَدُّوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا".
یحییٰ بن جزار سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیا۔ فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک جدا کر دینے والی طلاق ہے اور اگر رد کر دیں تب بھی ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15046]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15047
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنْ قَضَتْ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ أَمْرِهَا شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ تَقْضِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَأَمْرُهَا إِلَيْهِ" كَذَا وَجَدْتُهُ وَفِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ وَقَدِ اتَّفَقَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ وَكَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيهِمَا مُتَّفِقٌ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُهُ فِيهِمَا كَمَا رَوَيْنَا وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي اخْتَارِي وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ سَوَاءٌ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَكَأَنَّهُ عَلِمَ مِنْهُ قَوْلًا آخَرَ فِي إِحْدَى الْمَسْأَلَتَيْنِ يُوَافِقُ قَوْلَهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُخْرَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار ایک مرتبہ سپرد کر دیتا ہے، اگر وہ کوئی فیصلہ کر دے تو خاوند کے پاس اس کے معاملے میں سے کچھ بھی (اختیار) باقی نہیں رہتا، اور اگر وہ فیصلہ نہ کرے تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کا معاملہ خاوند کے سپرد ہو گا۔
اس کی سند میں خلل ہے۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ایک جیسا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی دونوں میں ایک جیسا ہے، جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ان دونوں میں مختلف ہے جیسا کہ ہم نے روایت کیا، ثوری، ابن ابی لیلیٰ سے اور وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «اخْتَارِي» اور «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں برابر ہیں، گویا کہ انہیں ان سے ان دو مسئلوں میں سے ایک میں کوئی دوسرا قول معلوم تھا جو دوسرے مسئلہ میں ان کے قول کے موافق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15047]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي:" أَمْرُكِ بِيَدِكِ" أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا شَيْءٌ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ" قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهِ قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: بَلَى وَلَكِنْ قَدْ نُسِيَ كَثِيرٌ هَذَا لَمْ يَثْبُتْ مِنْ مَعْرِفَتِهِ مَا يُوجِبُ قَبُولَ رِوَايَتِهِ، وَقَوْلُ الْعَامَّةِ بِخِلَافِ رِوَايَتِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو حضرت حسن کے قول کے موافق کہتا ہو کہ جب خاوند اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دے تو اسے تین طلاقیں ہو جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سوائے اس روایت کے جو قتادہ نے کثیر مولیٰ عبدالرحمن بن سمرہ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے بیان کی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ ایوب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کثیر آئے تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے بیان ہی نہیں کیا۔ جب میں نے قتادہ سے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: بیان تو کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
کثیر کی حالت کے بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس سے اس کی روایت قبول کرنا لازم ہو، اور عام اہل علم کا قول اس کی روایت کے خلاف ہے، واللہ اعلم۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15048]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3081. -- باب: المرأة تقول في التمليك طلقتك وهي تريد الطلاق
-- باب: تملیک کی صورت میں عورت کا یہ کہنا ”میں نے تجھے طلاق دی“ جبکہ اس کا ارادہ طلاق کا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15049
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّكَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفِيكِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفِيكِ الْحَجَرُ، وَاخْتَصَمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ" فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّكَهَا إِلَّا وَاحِدَةً، ثُمَّ رَدَّهَا إِلَيْهِ" قَالَ: فَكَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ ذَلِكَ الْقَضَاءُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِكَ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنا اختیار اپنی بیوی کے سپرد کر دیا تو اس نے کہہ دیا: تجھے طلاق۔ وہ خاموش رہا۔ دوسری مرتبہ عورت نے کہا: تجھے طلاق۔ اس نے کہا: تیرے منہ میں پتھر۔ تیسری مرتبہ عورت نے کہا: تجھے طلاق۔ مرد کہنے لگا: تیرے منہ میں پتھر۔ دونوں کا جھگڑا مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس آیا تو خاوند نے کہا: میں نے ایک کا اختیار دیا تھا اور قسم اٹھا دی، تو مروان رحمہ اللہ نے بیوی کو واپس کر دیا۔ قاسم رحمہ اللہ اس فیصلے کو پسند کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے اچھی چیز سنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15049]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں