السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3085. -- باب: من قال: مالي علي حرام لا يريد جواريه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”میرا مال مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اپنی لونڈیوں کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا الْمَنِيعِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ"، فَنَزَلَتْ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ} [التحريم: ٤] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣] لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ⦗٥٨٠⦘ كِلَاهُمَا عَنْ حَجَّاجٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ" وَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ وَلَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا" قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَهِ الْقِصَّةِ" وَاللهِ لَا أَشْرَبُهُ" فَأَخْبَرَ أَنَّهُ حَلَفَ عَلَيْهِ فَأَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ وُجُوبُ الْكَفَّارَةِ تَعَلَّقَ بِالْيَمِينِ لَا بِالتَّحْرِيمِ، وَقَدْ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ يُخَالِفُهُ فِي بَعْضِ الْأَلْفَاظِ وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ فِيهِ.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پینے کے لیے رک جاتے تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں، وہ کہہ دے: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے کہ آپ سے اس کی بو آ رہی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی کہ اس کی بو آ رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے، لیکن آئندہ نہ پیوں گا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”کیوں آپ حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟“ اور ﴿إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے لیے فرمایا، اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] ”اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کو پوشیدہ بات کہی کہ میں نے تو شہد پیا تھا۔“
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ عطاء رحمہ اللہ سے اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہرگز دوبارہ نہ پیوں گا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں، لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہ پیوں گا۔“ اس نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی تو کفارہ کا وجوب قسم کے متعلق ہے نہ کہ تحریم کے متعلق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15080]
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ عطاء رحمہ اللہ سے اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہرگز دوبارہ نہ پیوں گا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں، لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہ پیوں گا۔“ اس نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی تو کفارہ کا وجوب قسم کے متعلق ہے نہ کہ تحریم کے متعلق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15080]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15081
وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي فَوَائِدِ الْأَصَمِّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْهُ مِنْهَا شَرْبَةً فَقُلْتُ: إِنَّا وَاللهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةً مِنْ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكَ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكَ، قَالَ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُنَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ:" لَا" قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ قَالَ:" سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ" فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَارَ إِلِيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، تَعْنِي فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ" قَالَ: تَقُولُ لَهَا سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ حَرَّمْنَاهُ، قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس زیادہ دیر رکتے جتنا دوسری بیویوں کے پاس نہ رکتے تھے۔ میں نے غیرت کھائی تو اس بارے میں پوچھا، مجھے کہا گیا کہ کسی نے انہیں شہد کا تحفہ دیا ہے وہ شہد پلا دیتی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی تدبیر کریں گی، تو میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے قریب آئیں اور گھر میں داخل ہوں تو آپ سے کہہ دینا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے «مَغَافِيرَ» بوٹی کھائی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے فرمائیں گے: ”نہیں۔“ تو پھر کہہ دینا: یہ جو بو آپ سے آ رہی ہے یہ کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”حفصہ نے شہد پلایا ہے۔“ تو پھر کہہ دینا کہ شہد کی مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کا رس چوسا ہوگا۔ عنقریب میں بھی یہ بات کہوں گی۔ اے صفیہ رضی اللہ عنہا! آپ نے بھی یہ بات کہنی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے تھے کہ میں نے آپ کے ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بات پکار کر کہنے کا ارادہ کیا، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہوئے تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے «مَغَافِيرَ» کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو فرماتی ہیں: یہ بو کیسی ہے جو میں آپ سے محسوس کر رہی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔“ فرمانے لگی: شاید مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کو چوسا ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہہ دیا۔ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ شہد نہ پیئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے اس کو حرام کر دیا ہے، میں نے اس سے کہا: خاموش رہو۔ [صحیح۔ متفق علیہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15081]
حدیث نمبر: 15082
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ⦗٥٨١⦘ السَّلَامِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ بِضَرْعٍ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوَا فَأَخَذُوا يَطْعَمُونَهُ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَاحِيَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: ادْنُ فَقَالَ: إِنِّي لَا أُرِيدُهُ فَقَالَ: لِمَ قَالَ: لِأَنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ"، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧] إِذَنْ فَكُلْ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِنَّ هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس (جانور کا) تھن لایا گیا تو وہ لوگوں سے کہنے لگے: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔ انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔ ایک شخص کونے میں تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب ہو جاؤ۔ اس نے کہا: میں ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیونکہ میں نے تھن کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا ہے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے، اللہ کا فرمان ہے: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰھُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰھَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور تم حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ رب العزت حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔“ قریب ہو کر کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دو، یہ شیطان کے نقش قدم میں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15082]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3086. -- باب: ما جاء في طلاق التي لم يدخل بها
-- باب: اس عورت کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جس سے خلوت (ہم بستری) نہ کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 15083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ يَحْيَى وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا فَكُلُّهُمْ قَالُوا:" لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ.
محمد بن ایاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کنواری لڑکی کے بارے میں پوچھا گیا جسے اس کا خاوند تین طلاقیں دے دے، تو سب نے فرمایا کہ یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15083]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15084
يَعْنِي كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ هَذَا أَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ، اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا، فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ" حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
معاویہ بن ابی عیاش انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ آئے، انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے، آپ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جائیں جن کو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں، ان سے سوال کرنے کے بعد ہمیں بھی خبر دینا۔ تو محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ نے ان سے جا کر پوچھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں فتویٰ دو، آپ کے پاس مشکل مسئلہ آیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک طلاق بیوی کو جدا کر دیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کر دیتی ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1206»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، أَنَّهُ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ بِأَعْرَابِيٍّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فَقَالَ: وَتَابَعَتْهُمَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ⦗٥٨٢⦘ هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَيْنَاهُ فِي مَسْأَلَةِ طَلَاقِ الثَّلَاثِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
معاویہ بن ابی عیاش، محمد بن ایاس بن بکیر سے نقل فرماتے ہیں کہ عاصم بن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک دیہاتی کو لایا گیا جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، اس نے مالک کی حدیث کے ہم معنیٰ ذکر کیا ہے اور اس میں کچھ اضافہ کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان دونوں کی موافقت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15086
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" هِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ زَوْجَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا" فَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذَا فَرَّقَهُنَّ فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لِمَا قَبْلَهُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَعَ مَا مَضَى مَا.
قتادہ، عکرمہ، عطاء، طاؤس اور جابر بن زید سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سب نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا، فرماتے ہیں: ”یہ ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے“، یعنی ایسا شخص جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے تو احتمال ہے کہ اس سے مراد جدا کرنا ہو، تو یہ پہلی حدیث کے مخالف نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15086]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15087
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ:" عُقْدَةٌ كَانَتْ بِيَدِهِ أَرْسَلَهَا جَمِيعًا وَإِذَا كَانَ تَتْرَى فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" قَالَ سُفْيَانُ: تَتْرَى يَعْنِي أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ، وَحَكَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْعِرَاقِيِّينَ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ فَالتَّطْلِيقَةُ الْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ عَلَيْهَا الْبَاقِيَتَانِ، هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَإِبْرَاهِيمَ بِذَلِكَ.
شعبی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرماتے ہیں: یہ اس کا اختیار تھا جو اس نے استعمال کر لیا اور جب اس کے بعد طلاق دیتا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سفیان کہتے ہیں: «تَتْرَىٰ» یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو پہلی طلاق جدا کر دینے والی ہے اور باقی دو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیتا ہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو پہلی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوتیں، یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15087]
سفیان کہتے ہیں: «تَتْرَىٰ» یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو پہلی طلاق جدا کر دینے والی ہے اور باقی دو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیتا ہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو پہلی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوتیں، یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15087]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15088
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، ثُمَّ أَنْتِ طَالِقٌ، ثُمَّ أَنْتِ طَالِقٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" أَتُطَلَّقُ الْمَرْأَةُ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ؟ قَدْ بَانَتْ مِنْ حِينَ طَلَّقَهَا التَّطْلِيقَةَ الْأُولَى" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مَعْنَى.
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث رحمہ اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیا: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق۔ ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیا وہ عام راستے پر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ پہلی طلاق کے ساتھ ہی بیوی جدا ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15088]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15089
قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ ⦗٥٨٣⦘ الْفَضْلِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" طَلَاقُ الَّتِي لَمْ يُدْخَلْ بِهَا وَاحِدَةٌ" وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرَاوِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَيُحْتَمَلُ إِنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّ طَلَاقَهَا وَطَلَاقَ الْمَدْخُولِ بِهَا وَاحِدٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَحَدِيثُ أَبِي الصَّهْبَاءِ فِي سُؤَالِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ مَضَى وَمَضَى الْكَلَامُ عَلَيْهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورت کی طلاق جس کے ساتھ دخول نہیں کیا گیا ایک ہوتی ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی سلیمان بن ارقم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15089]
یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی سلیمان بن ارقم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15089]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف