🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3090. -- باب: لا يجوز طلاق الصبي حتى يبلغ، ولا طلاق المعتوه حتى يفيق
-- باب: اس بیان میں کہ بچے کی طلاق بالغ ہونے تک اور پاگل کی طلاق ہوش میں آنے تک جائز نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15109
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ" وَرُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْإِجَازَةِ فِي الْقِتَالِ وَقَدْ مَضَى.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھالی گئی ہے: سونے والا جب تک بیدار نہ ہوجائے اور بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور پاگل جب تک عقل مند نہ ہوجائے۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے قتال میں اجازت پر دلیل لی ہے اور وہ گزر چکی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15110
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ" وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالْحَسَنِ وَإِبْرَاهِيمَ أَنَّهُمْ قَالُوا:" لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَلَا عِتْقُهُ حَتَّى يَحْتَلِمَ"، وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَأَبِي قِلَابَةَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُجِيزُونَ طَلَاقَ الْمُبَرْسَمِ، ⦗٥٨٩⦘ وَعَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ فِي الَّذِي يُطَلِّقُ وَيَعْتِقُ فِي الْمَنَامِ قَالَا:" لَيْسَ بِشَيْءٍ".
عابس بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ (دیوانے) کی طلاق کے۔
(ب) شعبی، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ یہ تمام حضرات فرماتے ہیں کہ بچے کا طلاق دینا اور غلام آزاد کرنا جائز نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔
(ج) جابر بن زید، ابراہیم اور ابو قلابہ رحمہم اللہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا شخص کی طلاق کو جائز خیال نہیں کرتے۔ شعبی اور ابراہیم رحمہم اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو خواب میں طلاق دیتا ہے اور غلام آزاد کر دیتا ہے: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15110]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3091. -- باب: من قال: يجوز طلاق السكران وعتقه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ نشے میں دھت شخص کی طلاق اور اس کا آزاد کرنا نافذ (جائز) ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15111
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ" قَالَ يَعْقُوبُ، وَقَالَ قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ.
عابس بن ربیعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ (دیوانے) کی طلاق کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15111]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ طَلَاقِ السَّكْرَانِ، فَقَالَا:" إِذَا طَلَّقَ السَّكْرَانُ جَازَ طَلَاقُهُ وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ"، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ:" طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَعِتْقُهُ جَائِزٌ"، وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ:" السَّكْرَانُ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَعِتْقُهُ وَلَا يَجُوزُ شِرَاءُهُ وَبَيْعُهُ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ دونوں سے نشہ کرنے والے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: جب نشہ کرنے والا شخص طلاق دے تو اس کی طلاق جائز ہے، اگر وہ قتل کرتا ہے تو اسے قتل کیا جاتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہمارا فتویٰ ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کا طلاق دینا اور غلام آزاد کردینا جائز ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کی طلاق اور غلام آزاد کردینا جائز ہے لیکن اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15112]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عن ابن المسيب فقط»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3092. -- باب: من قال: لا يجوز طلاق السكران ولا عتقه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ نشے میں دھت شخص کی طلاق اور اس کا آزاد کرنا نافذ (جائز) نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15113
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، نا شَبَابَةُ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَأَنَا سَكْرَانُ فَكَانَ رَأْيُ عُمَرَ مَعَنَا" أَنْ يَجْلِدَهُ وَأَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا"، فَحَدَّثَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَيْسَ لِلْمَجْنُونِ وَلَا لِلسَّكْرَانِ طَلَاقٌ"، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي، وَهَذَا يُحَدِّثُنِي عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَدَهُ وَرَدَّ إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ فَقَالَ: قَرَأَ عَلَيْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ كِتَابَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فِيهِ السُّنَنُ أَنَّ كُلَّ أَحَدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ جَائِزٌ إِلَّا الْمَجْنُونَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَيْفَ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَلَا تُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ؟ وَعَنْ عَطَاءٍ فِي طَلَاقِ السَّكْرَانِ قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ مِثْلَهُ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْإِقْرَارِ حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ⦗٥٩٠⦘ حَيْثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟" فَقَالَ: مِنَ الزِّنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَّةَ جُنُونٍ" فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ:" أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَبَيِّنٌ فِي هَذَا أَنَّهُ قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِهِ بِالسُّكْرِ كَمَا قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِهِ بِالْجُنُونِ، فَدَلَّ أَنْ لَا حُكْمَ لِقَوْلِهِ وَمَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْهُ بِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي حُدُودِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي تُدْرَأُ بِالشُّبُهَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک نشہ آور شخص لایا گیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی رائے ہمارے ساتھ یہی تھی کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے۔ تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے انہیں بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پاگل اور نشئی کی طلاق نہیں ہوتی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرمانے لگے: آپ مجھے کیسے حکم دیتے ہیں جب کہ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل فرما رہے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے اس کو کوڑے لگائے اور اس کی بیوی اسے واپس کر دی۔
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ کے سامنے تذکرہ کیا گیا تو اس نے کہا: عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا خط ہمارے سامنے پڑھا جس میں تھا کہ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی وہ جائز ہے سوائے پاگل کے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس کی طلاق کیسے جائز ہے جب کہ اس کی نماز کو قبول نہیں کیا جاتا۔
عطاء رحمہ اللہ نشہ کرنے والے کی طلاق کو شمار نہیں کرتے تھے۔
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز سے میں تجھے پاک کروں؟“ اس نے کہا: زنا سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ پاگل تو نہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: وہ پاگل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے شراب تو نہیں پی؟“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس کے منہ کو سونگھا تو شراب کی بو کو نہ پایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشے کی بنا پر بھی اس کا اقرار ساقط کرنا چاہا جیسے پاگل پن کی بنا پر ساقط کرنا چاہا، تو معلوم ہوا کہ (نشئی کی) بات کا کوئی حکم نہیں۔ اور جو پہلے قول کا قائل ہے (کہ نشئی کی طلاق ہو جاتی ہے) وہ اس کا یہ جواب دیتا ہے کہ یہ معاملہ اللہ کی حدود کا تھا جو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دی جاتی ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15113]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3093. -- باب: طلاق العبد بغير إذن سيده
-- باب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15114
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَقَالَ فِي الْمُطَلَّقَاتِ وَاحِدَةً: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: 228] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: كَانَ الْعَبْدُ مِمَّنْ عَلَيْهِ حَرَامٌ وَلَهُ حَلَالٌ فَحَرَّمَهُ بِالطَّلَاقِ وَلَمْ يَكُنِ السَّيِّدُ مِمَّنْ حَلَّتْ لَهُ امْرَأَتُهُ فَيَكُونُ لَهُ تَحْرِيمُهَا.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
اور ایک طلاق والی عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ ”اور ان کے شوہر اس (مدت) میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ [سورة البقرة: 228]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام ان لوگوں میں سے تھا جن پر (بیوی) حرام تھی اور (نکاح کے ذریعے) ان کے لیے حلال ہوئی، تو اس نے طلاق کے ذریعے اسے (اپنے اوپر) حرام کیا، اور آقا ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کے لیے اس (غلام) کی بیوی حلال ہوئی ہو کہ اسے اس کو حرام کرنے کا اختیار حاصل ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q15114]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ".
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے غلام کو نکاح کرنے کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سے طلاق کا اختیار نہیں رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15114]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، نا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا:" حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، حُرِّمَتْ عَلَيْكَ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب تھے یا غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس نے رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات نے اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا تاکہ وہ ان سے اس بارے میں سوال کرے۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ اسے سیڑھیوں کے پاس ملے، جہاں وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اس نے ان دونوں سے سوال کیا تو ان دونوں رضی اللہ عنہما نے جواب دینے میں جلدی کی کہ وہ تیرے اوپر حرام ہے، وہ تیرے اوپر حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15115]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ⦗٥٩١⦘ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو أَنَّ مَوْلَاهُ زَوَّجَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُزَوِّجُونَ عَبِيدَهُمْ إِمَاءَهُمْ ثُمَّ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ، أَلَا إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ يَأْخُذُ بِالسَّاقِ" خَالَفَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ فَرَوَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ مُرْسَلًا.
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ شکایت کر رہا تھا کہ اس کے آقا نے اس کی شادی کی تھی اور اب وہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کا ارادہ رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے غلاموں کی شادی اپنی لونڈیوں سے کر دیتے ہیں، پھر ان کے درمیان تفریق چاہتے ہیں؟ خبردار! طلاق کا وہ مالک ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے“ یعنی جس کی بیوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15116]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15117
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ" لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَفِيهِ ضَعْفٌ.
موسیٰ بن ایوب، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک غلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے اس طرح ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق کا وہ مالک ہے جس نے پنڈلی پکڑی، یعنی بیوی بنائی۔“
انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا، اور یہ ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے اور اس میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15117]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں