السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3096. -- باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم
-- باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15136
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ غَيْرُهُ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ قِيلَ لَهُ فِيهِمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: نا الزُّهْرِيُّ هَكَذَا لَمْ يَزِدْنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَالَ: لَا أَحْفَظُ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَعِيدًا وَلَكِنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ ذَلِكَ وَكَانَ حَسْبُكَ بِهِ.
امام زہری رحمہ اللہ اپنی سند اور معنی کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، مگر انہوں نے کہا: پھر اس عورت کی عدت ختم ہو گئی تو کسی دوسرے شخص نے اس سے نکاح کر لیا۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ ان (راویوں) میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی ہیں، تو انہوں نے کہا: ہمیں زہری نے اسی طرح بیان کیا، انہوں نے ہمیں ان تین سے زیادہ نہیں بتایا۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہا: مجھے اس میں زہری سے سعید کا نام یاد نہیں، لیکن یحییٰ بن سعید نے ہمیں سعید سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح بیان کیا، اور تمہیں یہی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15136]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15137
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ يُقَالُ لَهُ مَزِيدَةُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا ⦗٥٩٨⦘ بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا" قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَأْخُذُ بِهَذَا الْقَوْلِ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا.
مزیدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ عورت اس کے پاس انھی طلاقوں کے حساب سے رہے گی جو اس کی باقی رہتی ہیں، سعید کہتے ہیں کہ قتادہ نے اسی قول کو قبول کیا ہے کہ آدمی نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ شادی کر لیتی ہے، پھر وہ مرد اس کو اپنی طرف واپس لاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15137]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15138
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَبُو عَبَّادٍ، نا شُعْبَةُ، نا الْحَكَمُ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ".
مزیدہ بن جابر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ یہ عورت مرد کے پاس باقی ماندہ طلاقوں پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15138]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ" يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَبِينُ مِنْهُ فَتَزَوَّجُ زَوْجًا فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا الْأَوَّلُ قَالَ: هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا.
عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر اپنے خاوند کے پاس رہے گی، یعنی ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو وہ اس سے الگ ہو گئی، اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے دوبارہ نکاح کر لیا تو یہ پہلے خاوند کے پاس باقی ماندہ طلاقوں کی بنیاد پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15139]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15140
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ:" هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ" وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر ہی اپنے پہلے خاوند کے پاس رہے گی۔
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برخلاف منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15140]
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برخلاف منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15140]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15141
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا هُوَ بَعْدُ قَالَ: تَكُونُ عَلَى طَلَاقٍ مُسْتَقْبَلٍ".
وبرہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر کوئی دوسرا شخص اس عورت سے شادی کر لیتا ہے، پھر پہلا خاوند دوبارہ شادی کر لیتا ہے تو وہ نئے سرے سے تین طلاق دینے کا مجاز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15141]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15142
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْفَقِيهُ أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَبْدِ اللهِ نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الرَّجُلِ" يُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا أَوْ يَمُوتُ عَنْهَا فَيَتَزَوَّجُهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ قَالَ: فَتَكُونُ عَلَى طَلَاقٍ جَدِيدٍ ثَلَاثٍ" وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
طاؤس حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر اس عورت سے کوئی شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے یا فوت ہو جاتا ہے، پھر اس عورت سے اس کا پہلا خاوند شادی کر لیتا ہے تو اب اس کو تین طلاق دینے کا اختیار ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15142]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15143
أَخْبَرَنَا الشَّريفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنِيفَةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تُزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَ: إِنْ ⦗٥٩٩⦘ رَجَعَتْ إِلَيْهِ بَعْدَمَا تَزَوَّجَتِ ائْتُنِفَ الطَّلَاقُ وَإِنْ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا كَانَتْ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ" الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ وَرِوَايَاتُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ الْحَنِيفَةِ ضَعِيفَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن حنفیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کیا تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر وہ پہلے خاوند کے پاس چلی آئی تو نکاح کے بعد وہ نئے سرے سے طلاق کا آغاز کرے گا، اگر اس کی عدت میں شادی کر لی تو پھر اس کے پاس رہے گی باقی ماندہ طلاقوں پر۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور ابن حنفیہ سے عبدالاعلیٰ کی روایات محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15143]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور ابن حنفیہ سے عبدالاعلیٰ کی روایات محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15143]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3097. -- باب: ما يهدم الزوج من الطلاق وما لا يهدم
-- باب: اس بیان میں کہ دوسرا شوہر (نکاحِ ثانی) سابقہ طلاقوں میں سے کن کو ختم کر دیتا ہے اور کن کو ختم نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 15144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، نا أَبُو الطَّاهِرِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ: قَوْلُهُ {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: ٨٩] وَقَوْلُهُ {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: ٦٣] وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْ عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ دَخَلَ أَرْضَكَ الْآنَ امْرَأَةٌ لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأَتَى بِهَا، وَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِيَّ وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِيَّ وَلَكِ اللهُ أَنْ لَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْصَرَفَ فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ فَقَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللهُ يَدَ الْفَاجِرِ وَأَخْدَمَ خَادِمًا" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ تَلِيدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے، دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں: ایک «إِنِّي سَقِيمٌ» ”میں بیمار ہوں“ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] اور دوسرا «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ”ان کے بڑے نے کیا ہے“ ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ۔ ایک سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب وہ ایک ظالم حکمران کی سرزمین میں تھے اور ان کے ساتھ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ ظالم ہے، اگر اس کو پتا چل گیا کہ تو میری بیوی ہے تو یہ چھین لے گا، اگر آپ سے پوچھے تو کہہ دینا تو میری بہن ہے؛ کیونکہ تو میری اسلامی بہن ہے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان ہو۔“ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بعض ظالموں نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ لیا تو اپنے بادشاہ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ کی سرزمین پر ایسی عورت آئی ہے جو صرف آپ کے لائق ہے تو اس نے اپنے کارندے بھیج کر منگوایا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز میں مصروف ہو گئے۔ جب سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو اس کے پاس لایا گیا تو وہ اپنا ہاتھ ان تک نہ لے سکا بلکہ اس کے ہاتھ بند ہو گئے۔ اس ظالم نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ دعا کریں میرے ہاتھ کھل جائیں، میں تجھے نقصان نہ دوں گا تو سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کر دی۔ اس نے دوبارہ حرکت کرنی چاہی تو اس کے ہاتھ پہلے سے بھی زیادہ سختی سے بند کر دیے گئے تو اس نے پھر دعا کی درخواست کی اور تیسری مرتبہ پھر حرکت کے ارتکاب کا ارادہ کیا تو تیسری مرتبہ مزید سختی سے پکڑ لیا گیا تو کہنے لگا: ”آپ اللہ سے دعا کریں کہ میرے ہاتھ کھول دیے جائیں، اللہ کی قسم! میں تجھے نقصان نہ دوں گا“ تو سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعا کر دی۔ اس کے ہاتھ کھول دیے گئے۔ پھر اس نے لانے والے کو بلایا کہ تو میرے پاس شیطان کو لایا ہے کسی انسان کو نہیں، ان کو میری سرزمین سے نکال دو اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ دے دینا۔ وہ ان کے آگے چل رہی تھیں، جب انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ آ گئی ہیں تو فرمانے لگے: ”رکیے، کیا حالت ہے؟“ فرماتی ہیں کہ اللہ نے ظالم کے ہاتھ روک لیے اور اس نے ایک خادمہ عطا کی ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ تمہاری ماں ہے اے آسمان کے پانی کے بیٹو!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15144]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15145
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَبَيْنَمَا هُوَ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَةُ إِذْ قِيلَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ: إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: أُخْتِي، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ، فَأَتَاهَا فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَنْتِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
محمد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے۔“ انھوں نے موقوف حدیث ذکر کی کہ جب وہ ظالموں میں سے کسی ظالم کی سرزمین میں تھے اور ان کے ساتھ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب اس بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے اس کے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت عورت ہے تو اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور پوچھا: ”یہ عورت کون ہے؟“ فرمانے لگے: ”یہ میری بہن ہے۔“ اس نے کہا: ”جاؤ اس کو میرے پاس بھیج دو۔“ سارہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس آئیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: ”اگر وہ تجھ سے سوال کرے تو بتا دینا تو میری بہن ہے، اس کے پاس میری تکذیب نہ کرنا؛ کیونکہ روئے زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں تو میری اسلامی بہن ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ چلی گئیں۔۔۔ اور بقیہ حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح