السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3058. -- باب: الوجه الذي تحل به الفدية
-- باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14856
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحٌ، عَنْ ⦗٥١٦⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: تَزَوَّجْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي فَشَقِيَ بِي وَشَقِيتُ بِهِ وَعَنِيَ بِي، وَعَنَيْتُ بِهِ وَإِنِّي اسْتَأْدَيْتُ عَلَيْهِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَظَلَمَنِي وَظَلَمْتُهُ وَكَثُرَ عَلَيَّ وَكَثُرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهَا انْفَلَتَتْ مِنِّي كَلِمَةُ أَنَا أَفْتَدِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خُذْ مِنْهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ مَتَاعِي كُلَّهُ إِلَّا ثِيَابِي وَفِرَاشِي وَأَنَّهُ قَالَ لِي: لَا أَرْضَى وَأَنَّهُ اسْتَأْدَانِي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الشَّرْطُ أَمْلَكُ قَالَ: أَجَلْ فَخُذْ مِنْهَا مَتَاعَهَا كُلَّهُ حَتَّى عِقَاصَهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَجَفْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْبَابَ.
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے چچا زاد سے شادی کی، اس نے مجھے مشقت میں ڈالا اور میں نے اس کو مشقت میں ڈالا، اس نے مجھے تکلیف میں ڈالا اور میں نے اس کو تکلیف میں ڈالا، میں اس کی شکایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئی، اس نے مجھ پر زیادتی کی اور میں نے اس پر زیادتی کی، اس نے میرے ساتھ بہت سختی کی اور میں نے بھی اس کے ساتھ، اور میری زبان سے ایک کلمہ نکل گیا کہ میں اپنا تمام مال فدیہ میں دیتی ہوں۔ اس نے کہہ دیا: میں نے قبول کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لے لو۔ کہتی ہیں: میں نے اپنا تمام سامان اس کو دے دیا سوائے اپنے کپڑوں اور بستر کے۔ اس نے کہا: میں راضی نہیں ہوں۔ پھر وہ میری شکایت لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! شرط زیادہ لازم ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، اس کا تمام سامان لے لو حتیٰ کہ بال باندھنے کا بند بھی۔ کہتی ہیں: میں نے جا کر ہر چیز اس کو دے دی یہاں تک کہ میں نے اپنے اور اس کے درمیان دروازہ بند کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14856]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3059. -- باب: الرجل ينالها بضرب في بعض ما تمنعه من الحق ثم يخالعها
-- باب: اس شخص کا بیان جو بیوی کو اس کے ذمے کسی حق کی ادائیگی نہ کرنے پر مارے، پھر اس سے خلع کر لے۔
حدیث نمبر: 14857
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَتْ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فَأَصْدَقَهَا حَدِيقَتَيْنِ لَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا اخْتِلَافٌ فَضَرَبَهَا حَتَّى بَلَغَ أَنْ كَسَرَ يَدَهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ فَوَقَفَتْ لَهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ قَالَ:" وَمَنْ أَنْتِ؟" قَالَتْ: حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَالَ:" مَا شَأْنُكِ تَرِبَتْ يَدَاكِ؟" قَالَتْ: ضَرَبَنِي فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَذَكَرَ ثَابِتُ مَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاذَا أَعْطَيْتَهَا؟" قَالَ: قِطْعَتَيْنِ مِنْ نَخْلٍ أَوْ حَدِيقَتَيْنِ قَالَ:" فَهَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ مَالِكَ وَتَتْرُكَ لَهَا بَعْضَهُ؟" قَالَ: هَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَأَخَذَ إِحْدَاهُمَا فَفَارَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الشَّامِ فَتُوُفِّيَتْ هُنَالِكَ.
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما سے شادی کی تو انہوں نے دو باغ حق مہر میں دیے۔ ان کے درمیان اختلاف تھا جس کی بنا پر ثابت رضی اللہ عنہ نے مار کر حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ وہ فجر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو کہنے لگیں: یہ مقامِ پناہ ہے ثابت بن قیس سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ کہتی ہیں: حبیبہ بنت سہل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا معاملہ ہے؟“ کہتی ہیں: اس نے مجھے مارا ہے، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا تو ثابت رضی اللہ عنہ نے آپس کا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے اسے کیا دیا ہے؟“ تو ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: دو باغ کھجور کے یا دو باغ ہی کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ مال لے لو اور کچھ چھوڑ دو۔“ تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو اس نے ایک باغ لے لیا اور اسے جدا کر دیا۔ اس کے بعد اس سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور انہیں لے کر شام چلے گئے تو وہ وہیں فوت ہو گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14857]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3060. -- باب: الخلع عند غير سلطان
-- باب: حاکمِ وقت کے علاوہ کسی اور کے پاس خلع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14858
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ جَاءَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا اور ان کے چچا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، انہوں نے بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے اپنے خاوند سے خلع لیا، جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے انکار نہیں کیا، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس کی عدت مطلقہ عورت کی عدت جتنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 14855»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14859
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا ⦗٥١٧⦘ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلًا خَلَعَ امْرَأَتَهُ فِي وِلَايَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ غَيْرِ سُلْطَانٍ فَأَجَازَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں حاکم کے پاس جائے بغیر خلع کیا، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو درست قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14859]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3061. -- باب: ما يكره للمرأة من مسألتها طلاق زوجها
-- باب: عورت کا اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14860
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا وُهَيْبٌ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس عورت نے اپنے خاوند سے بغیر کسی وجہ کے طلاق کا سوال کیا تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14860]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14861
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14861]
حدیث نمبر: 14862
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، نا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، نا أَيُّوبُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلع کرنے والیاں اور طلاق کا مطالبہ کرنے والیاں منافق ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14862]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3062. -- باب: الخلع هل هو فسخ أو طلاق
-- باب: خلع، کیا یہ فسخِ نکاح ہے یا طلاق؟ اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14863
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ وَآخِرِهَا وَالْخُلْعَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ الْخُلْعُ بِطَلَاقٍ، يَنْكِحُهَا" وَرَوَاهُ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ أَجَازَهُ الْمَالُ فَلَيْسَ بِطَلَاقٍ.
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس کو خاوند نے دو طلاقیں دے دیں، پھر عورت نے خاوند سے خلع کر لیا تو کیا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت میں اللہ نے طلاق کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں اور درمیان میں خلع کا تذکرہ ہے، تو خلع طلاق نہیں ہے، وہ نکاح کر سکتا ہے۔
(ب) عمرو رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جو مال کے ذریعے حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14863]
(ب) عمرو رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جو مال کے ذریعے حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14863]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ، مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ أُمِّ بَكْرَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَيْدٍ ثُمَّ أَتَيَا عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ:" هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّيْتَ شَيْئًا فَهُوَ مَا سَمَّيْتَ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ لَمْ يَثْبُتْ إِسْنَادُهُ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَضَعَّفَ أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ حَدِيثَ عُثْمَانَ، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِسْنَادِهِمَا مَقَالٌ، وَلَيْسَ فِي الْبَابِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ يُرِيدُ حَدِيثَ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
ام بکرہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند عبداللہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے خلع کیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے، مگر جس کا آپ نے نام لیا وہی ہوگا۔“
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند ثابت نہیں، اور اس بارے میں حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، اور حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایات کی سندوں میں کلام ہے، اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں، یعنی طاؤس کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14864]
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند ثابت نہیں، اور اس بارے میں حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، اور حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایات کی سندوں میں کلام ہے، اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں، یعنی طاؤس کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14864]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14865
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْهَرَوِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، نا أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ الْخُلْعَ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً" تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَكَيْفَ يَصِحُّ ذَلِكَ وَمَذْهَبُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةَ بِخِلَافِهِ عَلَى أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذَا نَوَى بِهِ طَلَاقًا أَوْ ذَكَرَهُ وَالْمَقْصُودُ مِنْهُ قَطْعُ الرَّجْعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خلع کو طلاق بائنہ شمار کیا ہے“۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عباد بن کثیر بصری منفرد ہیں، جنہیں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور امام بخاری رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ رحمہ اللہ کا مذہب اس کے خلاف ہے؟ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ صورت ہو جب وہ خلع سے طلاق کی نیت کرے یا طلاق کا ذکر کرے اور مقصد رجوع کا حق ختم کرنا ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14865]
اس روایت کو بیان کرنے میں عباد بن کثیر بصری منفرد ہیں، جنہیں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور امام بخاری رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ رحمہ اللہ کا مذہب اس کے خلاف ہے؟ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ صورت ہو جب وہ خلع سے طلاق کی نیت کرے یا طلاق کا ذکر کرے اور مقصد رجوع کا حق ختم کرنا ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14865]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف