🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3131. -- باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك
-- باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15310
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِ بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا" فَقَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے عاصم! اگر مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے، پھر تم اس کو قتل کرو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں میرے لیے سوال کرو۔“ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اچھا نہ لگا اور سائل پر عیب لگایا، سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات گراں گزری۔ جب سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ وہ کہنے لگے: ”عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟“ تو سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تجھ سے بھی بھلائی کی توقع نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سوال کرنے کو ناپسند فرمایا۔“ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں سوال کرنے سے باز نہ آؤں گا۔“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کرے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا، جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔“ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کیا، میں بھی لوگوں کے ساتھ موجود تھا۔ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے فراغت کے بعد کہا: ”اگر میں اس کو روکے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ اور فوری تین طلاقیں دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی۔ امام ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15310]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے (یہ حدیث) ابن شہاب سے پڑھی، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15311]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15312
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ بْنَ عَدِيٍّ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَا صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ⦗٦٥٥⦘ فِيهِمَا" فَدَعَاهُمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا" فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنِ انْطَلَقْتَ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم بن عدی! ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، اگر وہ قتل کرے تو کیا اسے قتل کیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب لگایا، عویمر رضی اللہ عنہ نے عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کیا بھئی؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا، تیری طرف سے بھلائی نہیں آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے پر عیب لگایا، تو عویمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ضرور سوال کروں گا، جب عویمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر لعان کروا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی بیوی کو جدا کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر یہ زیادہ سیاہ، موٹے بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر سچا ہے، اگر بچہ سرخ رنگ کا ہو گویا کہ وحرہ ہے پھر میرا خیال ہے کہ عویمر جھوٹا ہے۔“ اس عورت نے انہیں مکروہ اوصاف پر بچے کو جنم دیا، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15313
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمٍ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَتَقْتُلُونَهُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى عُوَيْمِرٍ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ خِلَافَ عَاصِمٍ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا" ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا" فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کے پاس کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے، کیا تم اس کے بدلے اس کو قتل کرو گے؟ اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر بتاؤ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کو ناپسند فرمایا، عاصم رضی اللہ عنہ عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کو ناپسند کرتے ہوئے اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو عاصم (کے جانے) کے بعد قرآن نازل ہو چکا تھا، عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے، آگے آؤ اور لعان کرو۔“ پھر ان دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے جدا کر دیا۔ یہ طریقہ دو لعان کرنے والوں کے متعلق گزر چکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس عورت کا انتظار کرو، اگر یہ سرخ رنگ، چھوٹے قد، گویا کہ خچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے جھوٹ بولا ہے اور اگر یہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو اس نے عویمر کی تصدیق والے اوصاف پر ہی بچے کو جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15313]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15314
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا أَيِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ".
ابن شہاب رحمہ اللہ بنو ساعدہ کے ایک شخص سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر آپ اس (قاتل) کو قتل کریں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم نازل فرما دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، ان دونوں کے لعان کے وقت میں بھی موجود تھا، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی اپنی بیوی کو چھوڑ دیا، پھر یہی طریقہ جاری رہا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جاتی ہے۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، پھر بیٹے کو ماں کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15314]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ قَالَ: فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: كَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ كَأَنَّهُ قَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَدْ يَكُونُ هَذَا غَيْرَ مُخْتَلِفٍ يَقُولُهُ مَرَّةً ⦗٦٥٦⦘ ابْنُ شِهَابٍ وَلَا يَذْكُرُ سَهْلًا، وَيَقُولُهُ أُخْرَى وَيَذْكُرُ سَهْلًا، وَوَافَقَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فِيمَا زَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ عَلَى حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی ذئب کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دو لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی طریقہ بن گیا۔“ جبکہ امام مالک اور ابراہیم بن سعد کی حدیث میں گویا یہ ابن شہاب کا قول ہے۔ اور ممکن ہے اس میں کوئی اختلاف نہ ہو؛ ابن شہاب ایک مرتبہ یہ بات سہل کا ذکر کیے بغیر کہتے ہیں اور دوسری مرتبہ سہل کا ذکر کر کے کہتے ہیں۔ اور حدیث کے آخر میں امام مالک کی حدیث سے زائد جو اضافہ ہے اس میں ابن ابی ذئب نے ابراہیم بن سعد کی موافقت کی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہی ابن ابی ذئب کی حدیث، تو وہ یوں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15315]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15316
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الثَّقَفِيُّ نا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15316]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15317
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَا: نا إِسْحَاقُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهِمَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَحَدِ بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَالَ ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لِأُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا أَوْحَرَ فَمَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا" فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ سِوَاهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنْهُمُ الْأَوْزَاعِيُّ.
ابن جریج، ابن شہاب رحمہما اللہ سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور ان کے طریقے کے متعلق سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ایک انصاری شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے دو لعان کرنے والوں کے معاملے کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی موجود تھا، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اسے بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں، لعان سے فراغت کے بعد اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیوی کو جدا کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کا طریقہ ہے۔
ابن جریج اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں: دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کا ان کے بعد یہ طریقہ بن گیا اور وہ عورت حاملہ تھی اور بچے کی نسبت ماں کی طرف کی گئی اور وراثت میں یہ طریقہ جاری ہوا کہ یہ عورت بچے کی اور بچہ ماں کا وارث ہو گا، جتنا حصہ اللہ رب العزت نے ان دونوں کے لیے مقرر کیا۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ سرخ رنگ، چھوٹے قد کا کھچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے اس عورت نے سچ بولا اور عویمر نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں والا، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق والے اوصاف پر بچے کو جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15317]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ ⦗٦٥٧⦘ سُفْيَانَ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَارِيَابِيُّ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي الْعَجْلَانِ قَالَ: كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: سَلْ لي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللهُ الْقُرْآنَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ" فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّى اللهُ فِي كِتَابِهِ قَالَ: فَلَاعَنَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وقَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا" قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأُمِّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَذَكَرَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا".
امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ بنو عجلان کے سردار تھے، انہوں نے کہا: ”آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے، کیا وہ اس کو قتل کر دے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھیں۔“ راوی کہتے ہیں: عاصم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، کیا وہ اس کو قتل کر دے پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو ناپسند جانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں ضرور پوچھوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: عویمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے، پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں قرآن نازل کر دیا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کا حکم دیا، جس کا نام اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ”اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے طلاق دے دی تو اس کے بعد لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انتظار کرو، اگر یہ عورت سیاہ رنگ، سیاہ آنکھیں، بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے اور اگر یہ عورت سرخ رنگ، گویا کہ کھچیرا بچہ دے، تو میرا گمان ہے کہ عویمر نے عورت پر جھوٹ بولا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق کے لیے ان اوصاف پر بچے کو جنم دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیے تھے، تو اس کے بچے کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کروا دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15319
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَهُوَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَا: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قِصَّةَ الطَّلَاقِ وَمِنْهُمْ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ.
زبیدی، زہری سے اور وہ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں، لیکن اس میں طلاق کا قصہ ذکر نہیں کیا۔ (زہری سے روایت کرنے والوں) میں یونس بن یزید ایلی بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15319]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں