السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3132. -- باب: الولد للفراش ما لم ينفه رب الفراش باللعان
-- باب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 15330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْفِرَاشِ".
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بزرگ کی جانب پیغام بھیجا، وہ ہمارے گھر میں رہتے تھے تو میں انہیں لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بستر تو فلاں کا ہے اور نطفہ فلاں کا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ ”بستر والے کے لیے“ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15330]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللهِ ثم وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللهِ قََالَ: فَطَبَنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي يُقَالُ لَهُ بِرْجِيسَ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: هُوَ ابْنُ بِرْجِيسَ فَرُفِعَتْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَسَأَلَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ" قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ يُوحَنَّهْ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَهْدِيٌّ فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
حسن بن سعد، رباح سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی رومی لونڈی سے میری شادی کر دی، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے سیاہ بچہ جنم دیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ پھر میں اس پر واقع ہوا، پھر اس نے میرے جیسا سیاہ بچہ جنم دیا تو میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام کا اس سے تعلق قائم ہو گیا، جس کا نام برجیس تھا، اس نے اپنی زبان میں بات کی تو اس نے چھپکلی جیسا بچہ جنم دیا، میں نے اس سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ برجیس کا بیٹا ہے۔ تو معاملہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، جب لونڈی سے سوال ہوا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا تم دونوں راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی مانند فیصلہ کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بچے کا فیصلہ صاحبِ فراش (جس کے بستر پر پیدا ہو) کے لیے کیا ہے۔“ مہدی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلام اور لونڈی کو کوڑے مارے گئے۔
(ب) روذباری کی روایت میں یوحنہ ہے، فرماتے ہیں: میرے گمان میں مہدی نے کہا کہ جب ان دونوں (غلام اور لونڈی) سے سوال ہوا تو انہوں نے اعتراف کیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے اور وہ دونوں غلام تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15331]
(ب) روذباری کی روایت میں یوحنہ ہے، فرماتے ہیں: میرے گمان میں مہدی نے کہا کہ جب ان دونوں (غلام اور لونڈی) سے سوال ہوا تو انہوں نے اعتراف کیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے اور وہ دونوں غلام تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15331]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15332
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَبَاحٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ، هُوَ ابْنُكَ تَرِثُهُ وَيَرِثُكَ، قُلْتُ سُبْحَانَ اللهِ، قَالَ: هُوَ ذَاكَ فَكُنْتُ أُنَيِّمُهُ بَيْنَهُمَا هَذَانِ أَسْوَدَانِ وَهَذَا أَبْيَضُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب، رباح سے اس کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بچے کا فیصلہ بستر والے کے لیے دیا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ وہ تیرا بیٹا ہے، تو اس کا وارث ہے، وہ تیرا وارث ہے۔ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ انہوں نے فرمایا: ”بات یہی ہے۔“ تو میں اسے ان دونوں کے درمیان سلایا کرتا تھا، یہ دونوں سیاہ ہیں اور یہ سفید۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15332]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3133. -- باب: التشديد في إدخال المرأة على قوم من ليس منهم وفي نفي الرجل ولده
-- باب: عورت کا کسی قوم میں ایسے بچے کو شامل کرنے کی سختی (وعید) کا بیان جو ان میں سے نہ ہو، اور مرد کا اپنے بچے کی نفی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15333
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمَقْبُرِيَّ، يُحَدِّثُ الْقُرَظِيَّ، قَالَ الْمَقْبُرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ بِهِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ بَيْنَ الْأَوَّلِينَ وَالْأَخِرِينَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جب لعان کی آیات نازل ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنی قوم پر ایسے بچے کو داخل کر دیا جو ان میں سے نہیں ہے تو اللہ کا ذمہ اس عورت کے بارے میں نہیں اور اللہ اس کو ہرگز جنت میں داخل نہ فرمائے گا اور جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے بچے کا انکار کر دیا تو اللہ رب العزت اس سے پردے میں ہو جائیں گے اور اس کو پہلی اور آخری تمام مخلوقات کے سامنے رسوا کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15333]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15334
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ نا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ مَرْفُوعًا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُونُسَ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: بَلَغَنِي هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کی مثل فرماتے ہوئے سنا (یعنی یہ مرفوع روایت ہے)۔ عبداللہ بن یونس کہتے ہیں: سعید مقبری یہ حدیث بیان کر رہے تھے تو محمد بن کعب قرظی نے کہا: یہ بات مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15334]
3134. -- باب: من ادعي إلى غير أبيه
-- باب: اس شخص کا بیان جس کی نسبت اس کے (حقیقی) باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جائے۔
حدیث نمبر: 15335
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو مَعْمَرٍ النَّضْرَوِيُّ نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، نا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ادُّعِيَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ ادَّعَى رَجُلًا بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَقَدْ حَارَ أَوْ جَارَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف جان بوجھ کر نسبت کی اس نے کفر کیا، جس نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو اس کی نہیں وہ ہم میں سے نہیں اور وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے، اور جس نے کسی شخص کے متعلق کفر یا اللہ کے دشمن ہونے کا دعویٰ کر دیا، حالانکہ وہ اس طرح کا نہیں ہے تو یہ دعویٰ کرنے والے پر بات لوٹ آئے گی اگرچہ وہ بھی اس طرح کا نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15335]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15336
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنا ⦗٦٦٣⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، نا مُسَدَّدٌ، نا خَالِدٌ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ادُّعِيَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُسَدَّدٍ.
ابوعثمان سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کا دعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15336]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِيسَى، نا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَيَّبٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ" قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ هُشَيْمٍ.
خالد، ابو عثمان سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعویٰ کر دیا تو میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا؟ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کو اپنے کانوں سے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس نے اسلام میں کسی کا دعویٰ کر دیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15337]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3135. -- باب: لعان الزوجين بمحضر طائفة من المؤمنين
-- باب: میاں بیوی کا مومنوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں لعان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً" ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ.
ابن شہاب رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کرنے والوں کے نزدیک میں حاضر تھا اور اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15338]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي مَالِي قَالَ:" لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ فِيهِ أَوْ فِيهَا" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى شُهُودِهِمْ مَعَ غَيْرِهِمْ تَلَاعُنَهُمَا وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، خاوند کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا مال! میرا مال! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کوئی مال نہیں، اگر تو سچا ہے تو یہ مال اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا اور اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15339]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح