🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3139. -- باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن
-- باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15359
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِذَا تَلَاعَنَا قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا الْحَدُّ".
ابراہیم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب دو لعان کرنے والے لعان کرتے ہیں تو ان کے درمیان ابدی تفریق ہو جاتی ہے، یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15359]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15360
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:" إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ بَعْدَ اللِّعَانِ ضُرِبَ وَأُلْزِقَ بِهِ الْوَلَدُ وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
جہم بن دینار رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب لعان کے بعد انسان اپنی تکذیب کر لے تو اسے حد لگائی جائے گی، بچے کی نسبت اس کی جانب ہوگی اور یہ دونوں کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15360]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3140. -- باب: لا لعان حتى يقذف الرجل زوجته بالزنا صريحا
-- باب: اس بیان میں کہ لعان نہیں ہوتا یہاں تک کہ مرد اپنی بیوی پر صریح الفاظ میں زنا کی تہمت لگائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15361
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا عَبْدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ جُمُعَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا" قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ.
علقمہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے کہا: اس نے اپنی عورت کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو دیکھا ہے، کیا وہ اس کو قتل کرے تو تم اس کو قصاصاً قتل کر دو گے؟ اگر بات کرے گا تو تم کوڑے لگاؤ گے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کروں گا، تو اس کے بیان کے بعد اللہ نے لعان کی آیت نازل فرمائی۔ پھر اس شخص نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کروا دیا اور فرمایا: ”شاید وہ سخت سیاہ بچہ جنم دے۔“ راوی کہتے ہیں: اس نے سخت سیاہ بچہ جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1495»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3141. -- باب: لا لعان ولا حد في التعريض
-- باب: اس بیان میں کہ اشارے کنائے میں تہمت لگانے پر نہ لعان ہے اور نہ ہی حد لاگو ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15362
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَرْزَةَ بِهَمَذَانَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ الْقَاضِي، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟" قَالَ: عِرْقًا نَزَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُوَيْسٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی شخص آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !۔۔۔ امام شافعی کی روایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر کہا کہ میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیسی ہے؟“ اس نے کہا: سرخ! پوچھا: ”کیا ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے خیال میں وہ کہاں سے آگئے؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ نے کھینچا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اس کو بھی کسی رگ نے کھینچا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15363
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأنا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا ⦗٦٧٥⦘ أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟" قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى أَصَابَهَا ذَلِكَ؟" قَالَ: لَعَلَّهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ" لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ وَقَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ.
سعید بن مسیب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو فزارہ کے ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان میں خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں؟“ اس نے کہا: ان میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ کی وجہ سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی کسی رگ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔“
(ب) قتیبہ کی روایت میں ہے کہ بنو فزارہ کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ممکن ہے کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15364
وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنا مَعْمَرٌ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ..
معمر، زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، وہ اصل میں بچے کی نفی کا اشارہ کر رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15365
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ نا أَبُو دَاوُدَ نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ.
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی نقل فرماتے ہیں اور حدیث کے آخر میں کچھ اضافہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی نفی کے بارے میں رخصت نہ دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15365]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15366
وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، نا حَرْمَلَةُ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ رَحِمَهُ اللهُ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: میری بیوی نے سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3142. -- باب: الرجل يقر بحبل امرأته أو بولدها مرة فلا يكون له نفيه بعده
-- باب: اس شخص کا بیان جو ایک مرتبہ اپنی بیوی کے حمل یا اس کے بچے کا اقرار کر لے تو اس کے بعد اسے اس (بچے) کی نفی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15367
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، نا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، نا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مَخْرَمَةُ بْنُ ⦗٦٧٦⦘ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، يَزْعُمُ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ" قَضَى فِي رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَ امْرَأَتِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ثُمَّ اعْتَرَفَ بِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا حَتَّى إِذَا وُلِدَ أَنْكَرَهُ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً لِفِرْيَتِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ أَلْحَقَ بِهِ وَلَدَهَا".
قبیصہ بن ذوئب، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا جس نے اپنی بیوی کے حمل کا انکار کیا، پھر اعتراف کر لیا، جب بچہ پیدا ہوا تو (دوبارہ) انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تہمت کی حد اسّی کوڑے لگائے اور پھر بچہ بھی خاوند کو دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15367]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15368
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِوَلَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْفِيَهُ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
قاضی شریح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی آنکھ جھپکنے کے برابر اپنے بچے کا اقرار کر لے تو پھر اس کی نفی کرنا مناسب نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15368]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں