السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3218. -- باب: اجتناب الوجه في الضرب للتأديب والحد
-- باب: تادیب اور حد لگانے کے لیے مارتے وقت چہرے پر مارنے سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوِيهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يَقُولُ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لَهُ، فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا، فَلَطَمَهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَطَمْتَ وَجْهَهَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا بَعْضُنَا، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُعْتِقُهَا. لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ.
حصین بن عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ہلال بن یساف رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں کپڑے کا کام کیا کرتے تھے، ایک لونڈی آئی، اس نے کسی شخص کو کچھ کہا تو اس نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا، تو سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”کیا تو نے اس چہرے پر تھپڑ مارا ہے؟ ہم سات بھائی تھے، ہمارا غلام ایک تھا، ایک بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتوں کو حکم دیا کہ: ”اسے آزاد کر دو۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15805]
حدیث نمبر: 15806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَهَرَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي، فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: اقْتَصَّ مِنْهُ. فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ ⦗٢١⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا". قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا. قَالَ:" فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا، وَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَخَلُّوا سَبِيلَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِعْتَاقِ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
معاویہ بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو تھپڑ مار دیا اور بھاگ گیا، پھر ظہر سے کچھ پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اور مجھے بلایا اور (غلام سے) کہا: اس سے بدلہ لے لو، تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر کہنے لگے: ہم بنی مقرن کے پاس عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اس سے خدمت لیتے رہیں، جب اس کی ضرورت نہ رہے تو پھر اسے آزاد چھوڑ دیں۔“
اسے امام مسلم نے صحیح میں ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15806]
اسے امام مسلم نے صحیح میں ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15806]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3219. -- باب: فضل المملوك إذا نصح
-- باب: اس غلام کی فضیلت کا بیان جو خیرخواہی کرے۔
حدیث نمبر: 15807
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو غلام اپنے مالک کے ساتھ خیر خواہی اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرتا ہے، اس کے لیے دہرا اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلْمَمْلُوكِ الَّذِي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَيُؤَدِّي إِلَى سَيِّدِهِ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ وَالنَّصِيحَةِ وَالطَّاعَةِ لَهُ أَجْرَانِ، أَجْرُ مَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَأَجْرُ مَا أَدَّى إِلَى مَلِيكِهُ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جو غلام اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرے اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے، اس کی فرمان برداری اور خیر خواہی کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے، ایک اللہ کی عبادت کا اور دوسرا اپنے مالک کی اطاعت اور اس کا حق ادا کرنے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15808]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15809
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ". وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ يُونُسَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک اور خیر خواہ غلام کے لیے دہرا اجر ہے۔“ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک نہ ہوتا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میں ہی فوت ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15809]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15810
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ؛ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ". قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ كَعْبًا، فَقَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل فرماتے ہیں کہ ”جب بندہ غلام اللہ اور اپنے آقا کا حق ادا کرتا ہے تو اس کو دوگنا اجر ملتا ہے“، فرماتے ہیں میں نے کعب رحمہ اللہ کو یہ حدیث سنائی تو فرمانے لگے: اس غلام اور پرہیزگار مومن پر کوئی حساب نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15810]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15811
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ الرَّمَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللهُ يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَطَاعَةَ سَيِّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ، نِعِمَّا لَهُ". زَادَ الرَّمَادِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا مَرَّ عَلَى عَبْدٍ قَالَ: يَا فُلَانُ، أَبْشِرْ بِالْأَجْرِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، دُونَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبارک ہو اس غلام کے لیے جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کی عبادت اور اپنے آقا کے حقوق کو مکمل ادا کرنے والا ہو، اسے مبارک ہو اسے مبارک ہو۔“
اور رمادی نے ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بھی کسی غلام کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”اے فلاں! تجھے دہرا اجر مبارک ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15811]
اور رمادی نے ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بھی کسی غلام کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”اے فلاں! تجھے دہرا اجر مبارک ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15811]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3220. -- باب: ما ينادي به كل واحد منهما صاحبه
-- باب: مالک اور غلام میں سے ہر ایک دوسرے کو کن الفاظ سے پکارے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15812
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي، وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”کوئی اس طرح نہ کہے: اپنے رب کو پلا، اپنے رب کو کھلا یا وضو کروا اور نہ یہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ کہے: میرا سردار، میرا مولا، اور کوئی یہ بھی نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ وہ کہے: میرا بچہ، میرا جوان، میری بچی، میرا غلام۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15812]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3221. -- باب: التشديد على من خبب خادما على أهله
-- باب: اس شخص پر وعید کا بیان جس نے کسی خادم کو اس کے مالکان کے خلاف بھڑکایا ہو۔
حدیث نمبر: 15813
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، دَنُوقَا ثنا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ⦗٢٣⦘ السُّلَمِيِّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهِ فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا" تَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی غلام کو اس کے اہل سے دھوکا کرنے پر ابھارے وہ ہم میں سے نہیں اور جو کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15813]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3222. -- باب: نفقة الدواب
-- باب: جانوروں کے نفقہ (چارے وغیرہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 15814
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلِيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ يَعْنِي حَائِطَ قَالَ: فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا فِيهِ جَمَلٌ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ سَرَاتَهُ إِلَى سَنَامِهِ وَذِفْرَيْهِ، فَسَكَنَ، قَالَ:" مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ، لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ". قَالَ: فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ:" أَلَا تَتَّقِي اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهَا تَشْكُو إِلِيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهَا، وَتُدْئِبُهَا". أَخْرَجَ مُسْلِمٌ أَوَّلَ الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا تو مجھ سے کچھ باتیں کیں جو میں بتاؤں گا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے کوئی بلند آڑ یا پھر کھجور کے درختوں کا جھمگٹا پسند فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے ایک انصاری کے باغ میں داخل ہو گئے تو دیکھا وہاں ایک اونٹ بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس اونٹ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوہان اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا مالک کون ہے؟“ تو وہ انصاری آیا اور کہا: ”میرا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا جس کا اللہ نے تجھے مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور تھکا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15814]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح