🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3210. -- باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه
-- باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: لَقِينَا ⦗١٢⦘ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَخَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ مِنْ غُلَامِكَ فَلَبِسْتَهُ فَكَانَتْ حُلَّةً، وَكَسَوْتَ غُلَامَكَ ثَوْبًا آخَرَ. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيَكْسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ فَلْيُعِنْهُ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
معرور کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ کے مقام پر ملے، آپ نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا اور آپ کے غلام پر بھی ویسا ہی کپڑا تھا۔ ایک آدمی کہنے لگا: اے ابو ذر! اگر آپ اپنے غلام سے یہ کپڑا واپس لے لیتے تو آپ کا مکمل جوڑا بن جاتا، غلام کو اور کپڑا دے دیتے، تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنایا ہے، تو جس کا بھی بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے اپنے جیسا کھانا کھلائے اور اپنے جیسا کپڑا پہنائے اور طاقت سے بڑھ کر اسے تکلیف نہ دے، اگر کوئی کام زیادہ سخت دے دے تو اس کی مدد کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15775]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15776
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، هُوَ ابْنُ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: قَدِمْنَا الرَّبَذَةَ فَأَتَيْنَا أَبَا ذَرٍّ، فَإِذَا عَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَإِذَا عَلَى غُلَامِهِ أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: لَوْ كَسَوْتَ غُلَامَكَ غَيْرَ هَذَا، وَجَمَعْتَ بَيْنَهُمَا فَكَانَتْ حُلَّةً. قَالَ: فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا، إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَانِي إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" أَسَابَبْتَ فُلَانًا" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" فَهَلْ ذَكَرْتَ أُمَّهُ؟" فَقُلْتُ: مَنْ يُسَابِبِ الرِّجَالَ ذُكِرَ أَبُوهُ وَأُمُّهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ" قَالَ: قُلْتُ عَلَى سَاعَتِي: مِنَ الْكِبْرِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيُلْبِسْهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
اعمش، معرور سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ربذہ میں آئے تو دیکھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک حلہ پہنا ہوا ہے اور ان کے غلام پر بھی ویسا ہی حلہ ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ اگر آپ غلام سے کپڑا لے کر اپنا ایک اچھا سا حلہ بنا لیتے اور غلام کو اور کپڑا دے دیتے، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی کہ اس کی ماں عجمی ہے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میری شکایت کر دی، میں بھی آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا واقعی تو نے اسے گالی دی ہے اور اس کی ماں کا ذکر کیا ہے؟“ تو میں نے جواب دیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور گالی میں تو ماں یا باپ کا ذکر آ ہی جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! ابھی تجھ میں جاہلیت باقی ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا اس بڑھاپے کی عمر میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور فرمایا: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنا دیا ہے۔ لہٰذا ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ جو خود کھاؤ، پیو، پہنو وہ انھیں بھی کھلاؤ، پلاؤ اور پہناؤ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر بوجھ نہ ڈالو اور کوئی ایسا کام دو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو تو ان کی مدد کیا کرو۔“
صحیح مسلم میں یہ روایت احمد بن یونس کے طرق سے اور بخاری میں اعمش کے ایک دوسرے طریق سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15776]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟" ثُمَّ قَالَ لِي:" إِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
واصل احدب فرماتے ہیں: میں نے معرور بن سوید سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا، ان پر اور ان کے غلام پر ایک جیسا کپڑا تھا۔ میں نے اس کے متعلق ان سے سوال کیا تو مجھے انہوں نے ایک حدیث سنائی کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کر دی۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو نے اس کی والدہ کے بارے میں برا کہا؟“ پھر مجھے کہا: ”یہ تمہارے ماتحت بھائی ہیں، اپنے کھانے سے انہیں کھلاؤ، پینے سے پلاؤ اور اپنے لباس سے انہیں پہناؤ۔ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر انہیں تکلیف نہ دو، اگر دو تو پھر ان کی مدد بھی کیا کرو۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے آدم سے اپنی صحیح میں اور امام مسلم رحمہ اللہ نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15778
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَايَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْتَسُونَ، وَمَنْ لَمْ يُلَايِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ".
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے غلاموں میں سے جو تمہارے موافق ہو تو اسے اپنے کھانے میں سے کھلاؤ اور اپنے لباس میں سے پہناؤ اور ان میں سے جو تمہارے موافق نہ ہو تو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15778]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15779
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي خِدَاشِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ فِي الْمَمْلُوكِينَ:" أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَكْتَسُونَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَهُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفَقَتُهُ، وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ" وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَنَا: الْمَعْرُوفُ لِمِثْلِهِ فِي بَلَدِهِ الَّذِي يَكُونُ بِهِ.
ابراہیم بن ابی خداش بن عتبہ بن ابی لہب کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غلاموں کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ نہ کر سکے کہ اپنے برابر اس کو کھلائے پلائے، تو پھر وہ یہ کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اسے معروف طریقے سے کھلائے پلائے اور معروف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جو شہر کی عام خوراک اور کپڑا ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15779]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15780
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكِمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ؛ فَإِنَّهُ وَلِيَ دُخَانَهُ وَحَرَّهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ تَبَايُنِ طَعَامِ الْمَمْلُوكِ، وَطَعَامِ سَيِّدِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے۔ اگر ساتھ نہ بٹھائے تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے، کیونکہ کھانا بناتے ہوئے گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔“
یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کی اس بات کی دلیل ہے جو پچھلی حدیث کے اختتام پر بیان فرمائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3211. -- باب: ما ينبغي لمالك المملوك الذي يلي طعامه أن يفعله
-- باب: جب غلام کھانا تیار کر کے لائے تو مالک کے لیے کیا کرنا مناسب ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15781
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكِمْ لَهُ طَعَامًا فَجَاءَ بِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ، وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ" قَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ: الْأُكْلَةُ: اللُّقْمَةُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”جب کسی کا غلام اس کے لیے کھانا بنا کر لائے تو اس غلام کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لے؛ کیونکہ اس نے گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔ اگر کھانا کم ہو تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15782
أَخْبَرنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيُجْلِسْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُرَوِّغْ لَهُ لُقْمَةً فَلْيُنَاوِلْهُ إِيَّاهَا أَوْ يُعْطِهِ إِيَّاهَا". أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی غلام اپنے مالک کے لیے کھانا بنائے تو مالک کو چاہیے کہ اسے بھی اپنے ساتھ کھلائے، اگر وہ نہ کھائے تو اس کے لیے ایک یا دو لقمے ضرور چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15782]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3212. -- باب: لا يكلف المملوك من العمل إلا ما يطيق الدوام عليه
-- باب: غلام کو اتنے ہی کام کی تکلیف دی جائے جس پر وہ مستقل مزاجی سے قدرت رکھتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ الْعَجْلَانَ أَبَا مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ قَبْلَ وَفَاتِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ، وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کا کھانا اور کپڑا مالک کے ذمہ ہے اور غلام کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15783]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3213. -- باب: ما جاء في النهي عن كسب الأمة إذا لم تكن في عمل واصب
-- باب: لونڈی کی کمائی کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان جب کہ وہ کسی مستقل معلوم کام پر مقرر نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا عَمَلٌ وَاصِبٌ، أَوْ كَسْبٌ يُعْرَفُ وَجْهُهُ. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر اس کا کوئی مستقل کام ہو یا ایسی کمائی ہو جس کا ذریعہ معلوم ہو تو جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15784]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں