السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3202. جماع أبواب النفقة على الأقارب -- باب: النفقة على الأولاد
قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15735
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَيْهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں عبداللہ بن ابوبکر نے خبر دی کہ انہیں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، اس نے مجھ سے سوال کیا، اس نے میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کوئی چیز نہ پائی، وہ میں نے اسے دے دی، اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کو پھاڑ کر اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور اس میں سے اس نے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چیز کے ساتھ بیٹیوں سے آزمایا گیا، پھر اس نے ان کے ساتھ نیکی کی، تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔“ اس کو بخاری نے ابوالیمان سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن اور ابوبکر بن اسحاق سے، انہوں نے ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15735]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15736
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے لیے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں اجر ہے اگر میں ان پر خرچ کروں اور میں ان کو اس طرح اور اس طرح چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بھی بیٹے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تیرے لیے ان میں اجر ہے جو تو ان پر خرچ کرے گی۔“ اس کو مسلم نے ابو کریب سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو بخاری نے ہشام سے ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15736]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3203. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وعلى الوارث مثل ذلك
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور وارث پر بھی اسی طرح کی ذمہ داری ہے“ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15737
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: {وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ} [البقرة: ٢٣٣] قَالَ:" أَنْ لَا يُضَارَّ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے تکلیف نہ دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15737]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15738
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ قَالَ:" يَعْنِي الْوَالِدَاتِ الْمُطَلَّقَاتِ"، لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا يَقُولُ:" لَا تَأْبَى أَنْ تُرْضِعَهُ ضِرَارًا يَشُقُّ عَلَى أَبِيهِ"، وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ يَقُولُ:" وَلَا يُضَارَّ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ فَيَمْنَعُ أُمَّهُ أَنْ تُرْضِعَهُ لِيُحْزِنَهَا بِذَلِكَ"، وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ:" يَعْنِي الْوَلِيَّ مَنْ كَانَ"، فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ،" غَيْرَ مُسِيئِينَ فِي ظُلْمِ أَنْفُسِهِمَا وَلَا إِلَى صَبِيِّهِمَا دُونَ الْحَوْلَيْنِ"، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا، وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ خِيفَةَ الضَّيْعَةِ عَلَى الصَّبِيِّ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ، يَعْنِي بِحِسَابِ مَا أَرْضَعَ الصَّبِيَّ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق شدہ دودھ پلانے والیاں ہیں۔ ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کو دودھ پلانے سے انکار نہ کریں تکلیف دیتے ہوئے کہ وہ اپنے باپ پر بوجھ بنے۔ ﴿وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں کہ والد اپنے بچے کے ذریعے تکلیف نہ پہنچائے کہ وہ اس کی ماں کو دودھ پلانے سے روکے تاکہ اس کے ذریعے اسے غمگین کرے۔ ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہا: یعنی ولی جو بھی ہو۔ ﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہا: اس حال میں کہ وہ دونوں دو سال سے پہلے نہ اپنے اوپر زیادتی کرنے والے ہوں اور نہ اپنے بچے پر، ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ ﴿وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں: بچے پر ضائع ہونے کے خوف سے۔ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں: یعنی حساب کے ساتھ جو بچے کو دودھ پلایا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15738]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15739
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" جَبَرَ عَصَبَةَ صَبِيٍّ أَنْ يُنْفِقُوا عَلَيْهِ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ" وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" جَبَرَ عَمًّا عَلَى رَضَاعِ ابْنِ أَخِيهِ" وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بچے کے عصبہ پر جبر کیا کہ اس پر مرد خرچ کریں، عورتوں کے علاوہ۔ اسے لیث بن ابی سلیم نے ایک آدمی سے، اس نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک چچا کو اس کے بھتیجے کی رضاعت (کے خرچ) پر مجبور کیا اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15739]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَغْرَمَ ثَلَاثَةً كُلُّهُمْ يَرِثُ الصَّبِيَّ أَجْرَ رَضَاعَةٍ" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تینوں کو قرض ادا کرنے کے لیے مجبور کیا، وہ تمام بچے کے وارث ہیں اس کی رضاعت کے بدلے۔ یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15740]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3204. -- باب: نفقة الأبوين
-- باب: والدین کے نفقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 15741
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، نا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِيطٌ يَسُوقُ غُنَيْمَةً لَهُ فَقُلْنَا: لَوْ كَانَ شَبَابُ هَذَا وَنَشَاطُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْهَا فَانْتَهَى قَوْلُنَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى عِيَالٍ يَكْفِيهِمْ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا، ہمارے پاس سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا: کاش اس کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔ ہماری بات ختم ہوئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ ہم نے کہا: ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے نفس پر (اپنی ضروریات پوری کرنے کی) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15741]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15742
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، نا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، نا شَرِيكٌ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ فَتَعَجَّبُوا مِنْ خَلْقِهِ فَقَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْهِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَلَدٍ صِغَارٍ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا، انہوں نے اس کی کامل ساخت پر تعجب کیا۔ انہوں نے کہا: کاش! یہ اللہ کے راستے میں ہوتا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے اور اگر یہ اپنے چھوٹے بچے پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر کوشش کرتا ہے اس کو غنی کرنے کے لیے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15742]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15743
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا ⦗٧٨٧⦘ سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حِجْرِي يَتِيمٌ فَآكُلُ مِنْ مَالِهِ، فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" وَقَدْ قِيلَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ میری گود میں (یتیم) بچہ ہے، کیا میں اس کے مال سے کھا سکتی ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے اور اس کا بچہ (بھی) اس کی کمائی ہی میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15743]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15744
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ" قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَزَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهِ وَهُوَ مُنْكَرٌ قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے، اس کی زیادہ پاکیزہ کمائی میں سے ہے، تم ان کے مالوں میں سے کھاؤ۔“
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15744]
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15744]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح