السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15716
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَهِيَ أُخْتُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَمَرَ وَكِيلَهُ لَهَا بِنَفَقَةٍ فَرَغِبَتْ عَنْهَا فَقَالَ لِي وَكِيلُهُ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا:" صَدَقَ"، وَنَقَلَهَا إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهَا مَا كَانَتْ تُحَدِّثُ مِنْ خُرُوجِهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان کو تین طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے اپنے وکیل کو اس عورت کے لیے خرچے کا حکم دیا، اس نے اس سے بےرغبتی کی۔ مجھے اس کے وکیل نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ اور ان کو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل کردیا۔ اس پر لوگوں نے انکار کیا جو وہ حلال ہونے سے پہلے خروج بیان کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15716]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ: أَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ قَالَا: وَاللهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ" وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ ⦗٧٧٧⦘ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا" أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:" لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ" حَتَّى بَلَغَ {لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [الطلاق: ١] قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأِيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا؟، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف نکلا، اس نے اپنی بیوی (فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا) کی طرف وہ طلاق بھیجی جو اس کی طلاقوں میں سے باقی تھی۔ اس کو حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما نے نفقہ کا حکم دیا۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! تیرے لیے نفقہ نہیں ہے، اگر تو حاملہ ہوتی تو تیرے لیے خرچہ ہوتا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کے سامنے ان دونوں کے قول کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہونے کے بارے میں اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کہاں (منتقل ہو جاؤں)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کی طرف، وہ نابینا آدمی ہے، تو اس کے پاس اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ تجھے نہیں دیکھ سکے گا۔“ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ مروان نے اس کی طرف قبیصہ بن زویب کو بھیجا کہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرے، اس نے اس کو حدیث بیان کر دی۔ مروان نے کہا: میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر ایک عورت سے، ہم عنقریب اس عصمت کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب مروان کا یہ قول ان کو پہنچا تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] حتیٰ کہ وہ اس مقام تک پہنچا ﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو ان کو نکال دو)، تم نہیں جانتے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کر دے۔“ وہ کہتی ہیں: یہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع (کا حق) ہو، بھلا کون سا معاملہ ہے جو تین (طلاقوں) کے بعد واقع ہو سکتا ہے؟ تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو؟ پھر تم اسے کس بات پر (نکلنے سے) روک رہے ہو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15717]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا".
عبدالرزاق نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث ذکر کی مگر اس نے حدیث میں کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے مگر یہ کہ تو حاملہ ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15718]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَةَ أَخِيهَا طُهْرًا فَقُلْنَا لَهَا: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي بَعَثَ إِلِيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلِيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ قَالَتْ: فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" فَقُلْتُ: ثَلَاثًا فَقَالَ:" صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَأَبِي عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى جَمِيعًا.
ابوبکر بن ابوجہم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا: میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے؟ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15719]
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15719]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا هُشَيْمٌ، نا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ، وَدَاوُدُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ:" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ اعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" ⦗٧٧٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ. هَكَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَفِي رِوَايَةِ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ الْمُرَاجَعَةُ".
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے بارے میں سوال کیا جو ان کے بارے میں ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: انہیں ان کے خاوند نے طلاقِ بتہ دے دی، میں نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش اور خرچے کے بارے میں مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15720]
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15720]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15721
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا هُشَيْمٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى وَأَتَى بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ عَنْ مُجَالِدٍ..
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15721]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15722
وَفِي رِوَايَةِ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ: فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ قَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ" فَأَمَرَهَا فَاعْتَدَّتْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ..
شعبی سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑا کیا۔ آدمی نے کہا: اس کو اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15722]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15723
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَذَكَرَهُ.
ایضا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15723]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15724
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَرَوَاهُ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ كَمَا.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے حلوانی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15724]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا شَاذَانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:" يَا فَاطِمَةُ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ" كَذَا أَتَى بِهِ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي نَفْيِ النَّفَقَةِ دُونَ السُّكْنَى، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ فَاطِمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ وَالْبَهِيِّ نَفْيُهُمَا جَمِيعًا وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ ⦗٧٧٩⦘ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ فَاطِمَةَ، وَالْأَشْبَهُ بِسِيَاقِ الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى النَّفَقَةَ وَأَذِنَ لَهَا فِي الِانْتِقَالِ لِعِلَّةٍ لَعَلَّهَا اسْتَحَيَتْ مِنْ ذِكْرِهَا وَقَدْ ذَكَرَهَا غَيْرُهَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهَا فِي كِتَابِ الْعِدَدِ وَلَمْ يَرِدْ نَفْيُ السُّكْنَى أَصْلًا، أَلَا تَرَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ لَهَا: اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ وَلَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذْ كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ يُحْصِنُهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ" فَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرِدْ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ، وَأَمَّا إِنْكَارُ مَنْ أَنْكَرَ عَلَى فَاطِمَةَ فَإِنَّمَا هُوَ لِكِتْمَانِهَا السَّبَبَ فِي نَقْلِهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے فاطمہ! رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر اس کے خاوند کے لیے رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ اسود بن عامر شاذان نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے اور صحیح پہلی (روایت) ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کی نہیں، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ابو سلمہ رحمہ اللہ سے ان کے بعض (شاگردوں) کی روایت میں، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے، اور ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت (کسی) علت کی وجہ سے دی، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرتی تھیں اور ان کے علاوہ دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں کر دیا ہے، اور رہائش کی نفی اصلاً (ثابت طور پر) وارد نہیں ہوئی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہے عدت گزار“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں محفوظ رکھا جہاں آپ نے پسند فرمایا، کیونکہ ان کا خاوند غائب تھا اور اس کا کوئی وکیل نہ تھا جو انہیں محفوظ رکھے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ تو یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسی سند سے وارد ہوا ہے جس سے اس جیسی بات ثابت ہو۔ اور جن لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر انکار کیا تو وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنی منتقلی کا سبب چھپایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15725]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کی نہیں، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ابو سلمہ رحمہ اللہ سے ان کے بعض (شاگردوں) کی روایت میں، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے، اور ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت (کسی) علت کی وجہ سے دی، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرتی تھیں اور ان کے علاوہ دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں کر دیا ہے، اور رہائش کی نفی اصلاً (ثابت طور پر) وارد نہیں ہوئی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہے عدت گزار“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں محفوظ رکھا جہاں آپ نے پسند فرمایا، کیونکہ ان کا خاوند غائب تھا اور اس کا کوئی وکیل نہ تھا جو انہیں محفوظ رکھے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ تو یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسی سند سے وارد ہوا ہے جس سے اس جیسی بات ثابت ہو۔ اور جن لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر انکار کیا تو وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنی منتقلی کا سبب چھپایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15725]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح