السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3444. -- باب: ما جاء فيمن أتى جارية امرأته
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی۔
حدیث نمبر: 17076
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: حُصُولُ الْإَجْمَاعِ مِنْ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ بَعْدَ التَّابِعِينَ عَلَى تَرْكِ الْقَوْلِ بِهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ إِنْ ثَبَتَ صَارَ مَنْسُوخًا بِمَا وَرَدَ مِنَ الْأَخْبَارِ فِي الْحُدُودِ.
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نظر ہے اور حماد اسے بخاری سے ذکر کرتے ہیں، یعنی سابقہ روایت میں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تابعین کے بعد مختلف شہروں کے فقہاء کا اس قول کو ترک کرنے پر اجماع اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث اگر ثابت ہو تو حدود کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث سے منسوخ ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17076]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تابعین کے بعد مختلف شہروں کے فقہاء کا اس قول کو ترک کرنے پر اجماع اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث اگر ثابت ہو تو حدود کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث سے منسوخ ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17076]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للبخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17077
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَشْعَثُ، قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّ هَذَا، كَانَ قَبْلَ الْحُدُودِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ مِثْلَ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ وَرُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَغْفِرِ اللهَ وَلَا تَعُدْ.
اشعث کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ حدود کے نزول سے پہلے تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا گیا ہے اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ اسے فرمایا تھا: ”استغفار کر اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17077]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا گیا ہے اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ اسے فرمایا تھا: ”استغفار کر اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17077]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17078
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ بَعْدَهُ، لَوْ أَتَيْتُ بِهِ لَرَجَمْتُهُ".
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے رضی اللہ عنہما نہیں جانتے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ اگر وہ (آدمی) میرے پاس لایا جاتا تو میں اسے رجم کر دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17078]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17079
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَوْ أَتَيْتُ بِهِ لَرَجَمْتُهُ"، قَالَ الْعَدَنِيُّ: يَعْنِي رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، ⦗٤١٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ: إِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ بَعْدَهُ، دَلِيلٌ عَلَى نَسْخٍ وَرَدٍّ عَلَى مَا أَفْتَى بِهِ.
ابراہیم کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میرے پاس آئے تو میں رجم کردیتا۔ عدنی کہتے ہیں: یعنی وہ شخص جو اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ «ابن أم عبد» سے مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ کہنا کہ وہ نہیں جانتا کہ بعد میں کیا ہوا، یہ اس کے نسخ کی دلیل ہے اور اس کا رد ہے جو انہوں نے فتویٰ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17079]
شیخ فرماتے ہیں کہ «ابن أم عبد» سے مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ کہنا کہ وہ نہیں جانتا کہ بعد میں کیا ہوا، یہ اس کے نسخ کی دلیل ہے اور اس کا رد ہے جو انہوں نے فتویٰ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17079]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يَأْتِي جَارِيَتِي، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً نَرْجُمْ زَوْجَكِ، وَإِنْ تَكُونِي كَاذِبَةً نَجْلِدْكِ"، قَالَ: فَقَالَتْ: رُدُّونِي إِلَى بَيْتِي، إِلَى بَيْتِي. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ، وَزَادَ: فَقَالَتْ: رُدُّونِي إِلَى أَهْلِي غَيْرَى نَغِرَةٌ، وَمَعْنَاهُ أَنَّ جَوْفَهَا يَغْلِي مِنَ الْغَيْظِ وَالْغَيْرَةِ. وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ قَالَ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ؛ لِأَنَّ زِنَاهُ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ مِثْلُ زِنَاهُ بِغَيْرِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ يُعْذَرُ بِالْجَهَالَةِ، وَيَقُولُ: كُنْتُ أَرَى أَنَّهَا لِي حَلَالٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُ هَذَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ جَيِّدٍ.
حجیہ بن عدی کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میرا خاوند میری لونڈی پر واقع ہو گیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو سچی ہے تو میں تیرے خاوند کو رجم کروں گا اور اگر تو جھوٹی ہے تو تجھے کوڑے ماروں گا، تو وہ کہنے لگی: مجھے میرے گھر لوٹا دو، مجھے میرے گھر لوٹا دو۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے اور فرمایا: ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی لونڈی سے زنا ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے زنا کیا ہو۔ اگر وہ جہالت کی وجہ سے معذور ہے کہ وہ کہے کہ میں اسے حلال سمجھتا تھا تو اور بات ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت عمدہ مرسل سند سے آئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17080]
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے اور فرمایا: ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی لونڈی سے زنا ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے زنا کیا ہو۔ اگر وہ جہالت کی وجہ سے معذور ہے کہ وہ کہے کہ میں اسے حلال سمجھتا تھا تو اور بات ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت عمدہ مرسل سند سے آئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17080]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَهَبَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا جَارِيَةً، فَخَرَجَ بِهَا فِي سَفَرٍ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَبَلَتْ، فَبَلَغَ امْرَأَتَهُ حَبْلُهَا، فَأَتَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي بَعَثْتُ مَعَ زَوْجِي بِجَارِيَةٍ تَخْدُمُهُ وَتَقُومُ عَلَيْهِ، فَبَلَغَنِي أَنَّهَا قَدْ حَبِلَتْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فُلَانَةٌ، أَأَحْبَلْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَأَبْتَعْتَهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَوَهَبَتْهَا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَكَ بَيِّنَةٌ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَرْجُمَنَّكَ، فَقِيلَ لِلْمَرْأَةِ: إِنَّ زَوْجَكِ يُرْجَمُ، فَأَتَتْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَقَرَّتْ أَنَّهَا وَهَبَتْهَا لَهُ، فَجَلَدَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ"، أُرَاهُ حَدَّ الْقَذْفِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَهَالَةِ، وَقَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّهَا حَلَالٌ لِي، فَإِنَّا نَدْرَأُ عَنْهُ الْحَدَّ، وَعَزَّرْنَاهُ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کو ایک اپنی لونڈی ہبہ کر دی، وہ اسے سفر میں ساتھ لے گیا اور اس پر واقع ہوا تو وہ حاملہ ہو گئی، جب عورت کو اس کے حاملہ ہونے کا پتا چلا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئی اور کہا کہ میں نے خدمت کے لیے اپنے خاوند کو اپنی لونڈی دی تو مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے اسے حاملہ کر دیا ہے۔ جب وہ آدمی واپس لوٹا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلا لیا اور پوچھا کہ فلاں لونڈی کے ساتھ تم نے کیا کیا، حاملہ کر دیا؟ کہا: ہاں، پوچھا: کیا اسے خریدا تھا؟ کہا: نہیں، پوچھا: ہبہ کی گئی تھی؟ کہا: ہاں، پوچھا: کوئی ثبوت ہے؟ کہا: ثبوت تو نہیں ہے، تو فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ میں تجھے رجم کروں گا۔ اس عورت کو کہا گیا کہ تیرے شوہر کو رجم کیا جائے گا تو وہ عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اقرار کیا کہ اس نے ہبہ کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حدِ قذف لگائی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے جہالت میں ایسا کیا ہے حلال سمجھتے ہوئے تو ہم اس سے حد ساقط کر دیں گے لیکن تعزیراً سزا دیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17081]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17082
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ بَدْرٍ، ⦗٤٢٠⦘ عَنْ حَرْقُوصٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي أَصَابَ جَارِيَتِي، فَقَالَ زَوْجُهَا: صَدَقَتْ، هِيَ وَمَالُهَا حِلٌّ لِي، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اذْهَبْ لَا تَعُودَنَّ".
حرقوص ضبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا کہ میرا خاوند میری لونڈی پر واقع ہو گیا ہے، تو اس کے خاوند نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، یہ اور اس کا مال میرے لیے حلال ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چلے جاؤ، دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17082]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17083
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَلَمْ يَرْجُمْهُ" هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَكَأَنَّهُ إِنْ صَحَّ ادَّعَى جَهَالَةً فَعَزَّرَهُ وَلَمْ يَرْجُمْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے ہم بستری کی تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رجم نہیں کیا بلکہ اسے سو کوڑے لگائے۔
یہ روایت منقطع ہے، اور اگر یہ صحیح ہو تو گویا اس نے لاعلمی کا دعویٰ کیا، تو انہوں نے اسے تعزیراً سزا دی اور رجم نہیں کیا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17083]
یہ روایت منقطع ہے، اور اگر یہ صحیح ہو تو گویا اس نے لاعلمی کا دعویٰ کیا، تو انہوں نے اسے تعزیراً سزا دی اور رجم نہیں کیا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17083]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3445. -- باب: من أصاب ذنبا دون الحد ثم تاب وجاء مستفتيا
-- باب: جس شخص نے ایسا گناہ کیا جس پر حد لازم نہیں ہوتی، پھر اس نے توبہ کر لی اور مسئلہ پوچھنے آ گیا تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17084
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأُنْزِلَتْ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: ١١٤] ، قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلِيَّ هَذِهِ؟ قَالَ:" لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] وہ شخص کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جو بھی اس پر عمل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17084]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ، قَالَ: وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: ١١٤] ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مدینہ کے آخری کنارے میں میں نے ایک عورت سے چھیڑ چھاڑ کی، میں نے اس سے جماع نہیں کیا، بس اس سے کم (بوس و کنار) کیا ہے، میں حاضر ہوں، میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اللہ نے تجھ پر پردہ ڈالا تھا، کاش تو بھی اپنے آپ پر پردہ ڈالتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، وہ شخص اٹھ کر چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیجا جس نے اسے بلایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17085]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح