🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3438. -- باب: من أتى بهيمة
-- باب: جانور سے بدفعلی کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17037
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَشْهَلِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ" وَرُوِّينَاهُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی محرم عورت یا جانور سے زنا کرے، اسے قتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17037]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17038
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ، قَالَ:" لَا حَدَّ عَلَيْهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی جانور سے بدفعلی کرے؟ فرمایا: اس پر کوئی حد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17038]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ، أَوْجُهٍ عَنْ عِكْرِمَةَ، وَلَا أَرَى عَمْرَو بْنَ أَبِي عَمْرٍو يُقَصِّرُ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، فِي الْحِفْظِ، كَيْفَ وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَمَاعَةٌ؟ وَعِكْرِمَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ الْأَئِمَّةِ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو ضعیف قرار دیتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ روایت عکرمہ سے کئی طرق سے روایت کی ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ عمرو بن ابی عمرو حافظے میں عاصم بن بہدلہ سے کم ہیں، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ایک جماعت نے ان کی روایت میں ان کی متابعت کی ہے؟ اور عکرمہ اکثر ائمہ کے نزدیک ثقہ اور ثبت راویوں میں سے ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17039]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: مَنْ أَتَى الْبَهِيمَةَ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو جانور سے بدفعلی کرے اس پر حد قائم کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17040]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17041
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ رَجُلٍ، أَتَى بَهِيمَةً قَالَ:" إِنْ كَانَ مُحْصَنًا رُجِمَ" وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي.
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کوئی جانور سے بدفعلی کرلے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: اگر شادی شدہ ہے تو رجم کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17041]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3439. -- باب: شهود الزنا إذا لم يكملوا أربعة
-- باب: زنا کے گواہوں کا بیان جب وہ چار پورے نہ ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17042
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ شَأْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ الَّذِي كَانَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَدَعَا الشُّهُودَ فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ نَافِعٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ شَهِدَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ: شَقَّ عَلَى عُمَرَ شَأْنُهُ، فَلَمَّا قَامَ زِيَادٌ قَالَ: إِنْ تَشْهَدْ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَّا بِحَقٍّ؟ قَالَ زِيَادٌ: أَمَّا الزِّنَا فَلَا أَشْهَدُ بِهِ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا قَبِيحًا، قَالَ عُمَرُ: اللهُ أَكْبَرُ حُدُّوهُمْ فَجَلَدُوهُمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ بَعْدَمَا ضَرَبَهُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ زَانٍ، فَهَمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُعِيدَ عَلَيْهِ الْجَلْدَ، فَنَهَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: إِنْ جَلَدْتَهُ فَارْجُمْ صَاحِبَكَ، فَتَرَكَهُ وَلَمْ يَجْلِدْهُ.
قسامہ بن زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکرہ اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ پیش آیا۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر فرمائی جس میں یہ بھی تھا کہ گواہ منگوائے گئے تو سیدنا ابوبکرہ، شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع رضی اللہ عنہم نے گواہی دے دی۔ جب ان تینوں نے گواہی دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بڑا شاق گزرا، جب زیاد گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں حق کے ساتھ گواہی دوں گا۔ جہاں تک زنا ہے وہ میں نے نہیں دیکھا، لیکن بہت بری حالت میں دیکھا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا اور حکم دیا کہ انہیں حدِ قذف لگائی جائے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ حد لگنے کے بعد بھی یہ کہتے تھے کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“ اس نے زنا کیا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ارادہ کیا کہ اسے حد لگائیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر دوبارہ حد لگاؤ گے تو مغیرہ کو رجم کرنا پڑے گا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رک گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17042]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17043
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، وَنَافِعَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ، وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ، شَهِدُوا عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُولِجُهُ وَيُخْرِجُهُ، وَكَانَ زِيَادٌ رَابِعَهُمْ، وَهُوَ الَّذِي أَفْسَدَ عَلَيْهِمْ، فَأَمَّا الثَّلَاثَةُ فَشَهِدُوا بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي بِأَثَرِ جُدَرِيٍّ فِي فَخِذِهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ رَأَى زِيَادًا: إِنِّي لَأَرَى غُلَامًا كَيِّسًا لَا يَقُولُ إِلَّا حَقًّا، وَلَمْ يَكُنْ لِيَكْتُمَنِي شَيْئًا، فَقَالَ ⦗٤٠٩⦘ زِيَادٌ: لَمْ أَرَ مَا قَالَ هَؤُلَاءِ، وَلَكِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رِيبَةً، وَسَمِعْتُ نَفَسًا عَالِيًا، قَالَ: فَجَلَدَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَخَلَّى عَنْ زِيَادٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، أنَّ أَبَا بَكْرَةَ وَزِيَادًا وَنَافِعًا وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ كَانُوا فِي غُرْفَةٍ، وَالْمُغِيرَةُ فِي أَسْفَلِ الدَّارِ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَفَتَحَتِ الْبَابَ وَرَفَعَتِ السِّتْرَ، فَإِذَا الْمُغِيرَةُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدِ ابْتُلِينَا، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَنَافِعٌ وَشِبْلٌ، وَقَالَ زِيَادٌ: لَا أَدْرِي نَكَحَهَا أَمْ لَا، فَجَلَدَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا زِيَادًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَيْسَ قَدْ جَلَدْتُمُونِي؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَأَنَا أَشْهَدُ بِاللهِ لَقَدْ فَعَلَ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَجْلِدَهُ أَيْضًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنْ كَانَتْ شَهَادَةُ أَبِي بَكْرَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ فَارْجُمْ صَاحِبَكَ، وَإِلَّا فَقَدْ جَلَدْتُمُوهُ، يَعْنِي لَا يُجْلَدُ ثَانِيًا بِإِعَادَتِهِ الْقَذْفَ.
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ، نافع بن حارث اور شبل بن معبد رضی اللہ عنہم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے خلاف گواہی دی کہ انہوں نے ان کو داخل کرتے اور نکالتے ہوئے دیکھا ہے۔ زیاد چوتھے گواہ تھے۔ ان تینوں نے گواہی دے دی (اور ایک نے کہا:) میں نے اس کے نشان بھی دیکھے اس کی ران میں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب زیاد کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ بچہ اچھا ہے، یہ حق بات ہی کہے گا اور مجھ سے کچھ چھپائے گا بھی نہیں۔“ تو زیاد نے کہا: ”میں نے اس حالت میں تو نہیں دیکھا جو یہ بتا رہے ہیں، لیکن میں نے مشکوک حالت میں دیکھا ہے اور ان کے سانس پھولے ہوئے تھے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان تینوں کو حدِ قذف لگائی اور زیاد کو چھوڑ دیا۔
اور یہ روایت ان الفاظ سے موصولاً بھی آئی ہے کہ وہ چاروں (ابوبکرہ، زیاد، نافع اور شبل) ایک کمرے میں تھے اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ گھر کے نچلے حصے میں۔ ہوا آئی، اس نے دروازہ کھول دیا اور پردہ اٹھ گیا تو کیا دیکھا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس عورت کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ہم آزمائش میں ڈال دیے گئے، پھر پورا قصہ ذکر کیا۔ سیدنا ابوبکرہ، نافع اور شبل نے گواہی دی اور زیاد نے کہا: میں نہیں جانتا کہ اس نے اس سے جماع کیا یا نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زیاد کے سوا سب کو کوڑے لگائے۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے مجھے کوڑے نہیں لگا دیے؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ کہا: تو میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ اس نے یہ کام کیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ کوڑے لگانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ابوبکرہ کی گواہی دو آدمیوں کی گواہی کے برابر ہے تو اپنے ساتھی (مغیرہ) کو رجم کرو، ورنہ تم انہیں کوڑے لگا چکے ہو، یعنی قذف دہرانے پر انہیں دوبارہ کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17043]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17044
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمُغِيرَةِ قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَنَافِعٌ وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَلَمَّا دَعَا زِيَادًا قَالَ: رَأَيْتُ أَمْرًا مُنْكَرًا، قَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَدَعَا بِأَبِي بَكْرَةَ وَصَاحِبَيْهِ فَضَرَبَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ، يَعْنِي بَعْدَمَا حَدَّهُ: وَاللهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، وَهُوَ فَعَلَ مَا شُهِدَ بِهِ، فَهَمَّ عُمَرُ بِضَرْبِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ: لَئِنْ ضَرَبْتَ هَذَا فَارْجُمْ ذَاكَ.
عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ حدیث پہلے نمبر ۱۷۰۴۳ کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17044]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3440. -- باب: شهود الزنا إذا لم يجتمعوا على فعل واحد فلا حد على المشهود
-- باب: زنا کے گواہ جب ایک ہی فعل پر متفق نہ ہوں تو جس پر گواہی دی گئی ہو اس پر حد لازم نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، فِي قِصَّةِ سَوْسَنَ، قَالَ: كَانَ دَانْيَالُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوَّلَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الشُّهُودِ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: مَا الَّذِي رَأَيْتَ، وَمَا الَّذِي شَهِدْتَهُ؟ قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي رَأَيْتُ سَوْسَنَ تَزْنِي فِي الْبُسْتَانِ بِرَجُلٍ شَابٍّ، قَالَ: فِي أِيِّ مَكَانٍ؟ قَالَ: تَحْتَ شَجَرَةِ الْكُمَّثْرَى، ثُمَّ دَعَا بِالْآخَرِ، فَقَالَ: مَا تَشْهَدُ؟ قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي أَبْصَرْتُ سَوْسَنَ تَزْنِي فِي الْبُسْتَانِ تَحْتَ شَجَرَةِ التُّفَّاحِ، قَالَ: فَدَعَا اللهَ عَلَيْهِمَا فَجَاءَتْ مِنَ السَّمَاءِ نَارٌ فَأََحْرَقَتْهُمَا، وَأَبْرَأَ اللهُ سَوْسَنَ.
ابو ادریس رحمہ اللہ قصہ سوسن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دانیال (علیہ السلام) وہ پہلے ہیں کہ جنہوں نے گواہی میں فرق کیا۔ ان میں سے ایک کو کہا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: میں نے سوسن کو دیکھا کہ وہ باغ میں دوسرے آدمی سے زنا کروا رہی تھی۔ پوچھا: کس جگہ؟ کہا: ناشپاتی کے درخت کے نیچے، پھر دوسرے شخص کو بلایا اس سے بھی پوچھا تو اس نے بھی یہی گواہی دی۔ پھر اس سے پوچھا کس جگہ؟ اس نے کہا: سیب کے درخت کے نیچے تو دانیال (علیہ السلام) نے ان دونوں کے لیے بددعا کی تو آسمان سے آگ آئی۔ ان دونوں کو جلا دیا اور سوسن بری ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17045]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3441. -- باب: من زنى بامرأة مستكرهة
-- باب: جس شخص نے کسی عورت سے زبردستی (جبرًا) زنا کیا ہو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17046
قَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوَا عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت گزر چکی ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس کام پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، (ان سب کا مؤاخذہ) معاف فرما دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17046]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں