🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3428. -- باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16999
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَتُبْ إِلَى اللهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ، فَلَمْ تُقِرَّهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ كَمَا قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمْ تُقِرَّهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى، قَالَ سَعِيدٌ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ بَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ:" أَيَشْتَكِي بِهِ جِنَّةً؟" فَقَالُوا: وَاللهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟" فَقَالُوا: بَلْ ثَيِّبٌ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ".
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میرے علاوہ کسی اور کو بھی بتایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ پھر توبہ کر لو اور اسے چھپا کے رکھو، لیکن اس سے نہ رہا گیا۔ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرما لیا لیکن اس کے بار بار اصرار کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر والوں سے معلوم کروایا کہ ”کیا یہ مجنوں تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، یہ تو بالکل صحیح ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ؟“ اس نے کہا: شادی شدہ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16999]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3429. -- باب: المعترف بالزنا يرجع عن إقراره فيترك
-- باب: زنا کا اعتراف کرنے والا اپنے اقرار سے رجوع کر لے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17000
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، فَمَرَّ رَجُلٌ مَعَهُ لَحْيُ بَعِيرٍ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَذُكِرَ فِرَارُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَفَلَا تَرَكْتُمُوهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اقرار کیا، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ آخر میں یہ ہے کہ جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا لیکن حرہ کے مقام پر پکڑ کر اسے اونٹ کی ہڈی ماری گئی تو وہ مر گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بھاگنے کا بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17000]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17001
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَاعِزٍ لَمَّا ذَهَبَ:" هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ، فَلَعَلَّهُ ⦗٣٩٨⦘ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللهُ عَلَيْهِ" وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَ عَلَيْهِ بِثَوْبِكَ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ مِمَّا صَنَعْتَ".
نعیم بن ہزال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ماعز رضی اللہ عنہ کے بھاگنے کے بعد اسے پکڑ کر رجم کر دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تم نے اسے چھوڑا کیوں نہیں؟ شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا؟ اے ہزال! اگر تو اسے کپڑے سے ڈھانپ لیتا تو جو تو نے کیا ہے اس سے بہتر ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17001]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3430. -- باب: الرجل يقر بالزنا دون المرأة
-- باب: عورت کے بجائے (صرف) مرد کے زنا کا اقرار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17002
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، أنبأ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ فَسَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ، زَنَتْ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آ کر زنا کا اقرار کیا اور عورت کا نام بھی بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے معلوم کروایا تو اس نے انکار کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کوڑے لگوائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17002]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17003
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْقَاسِمُ ابْنُ أَخِي خَلَّادٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ، فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ" فَانْتَهَرَهُ فَجَلَسَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" اجْلِسْ" ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا حَدُّكَ؟" قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبَّاسٌ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ:" انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ" وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا" فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ لَهُ:" مَنْ صَاحِبَتُكَ؟" قَالَ: فُلَانَةٌ، لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ، فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: كَذَبَ، وَاللهِ مَا أَعْرِفُهُ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِئيَةٌ، اللهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شُهُودُكَ أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ؟ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا، وَإِلَّا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا لِي شُهَدَاءُ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ بنو لیث بن بکر کا ایک شخص لوگوں کو روندتا ہوا آیا یہاں تک کہ وہ آپ کے قریب آگیا اور کہنے لگا: ”مجھ پر حد قائم کیجیے۔“ آپ نے اسے ڈانٹ کر بٹھا دیا، لیکن اس نے تین مرتبہ اسی طرح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم پر کس چیز کی حد ہے؟“ اس نے کہا: ”زنا کی۔“ آپ کے صحابہ میں سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے سو کوڑے لگاؤ۔“ وہ غیر شادی شدہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”یا رسول اللہ! اس عورت کو حد نہیں لگانی، جس کے ساتھ اس نے ایسا کیا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے اس عورت کا پوچھا تو اس نے بنو بکر کی ایک عورت کا نام لیا۔ جب اس عورت سے معلوم کروایا تو اس نے قسم اٹھا کر انکار کر دیا اور کہا: ”اللہ میرا گواہ ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا: ”تیرے پاس کوئی گواہ ہے کہ تو نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حد قذف کے اسی کوڑے لگوائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17003]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3431. -- باب: لا يقام حد الجلد على الحبلى ولا على مريض دنف، ولا في يوم حره شديد أو برده مفرط، ولا في أسباب التلف
-- باب: حاملہ عورت، شدید بیمار، انتہائی گرم یا شدید سرد دن میں، اور ہلاکت کا باعث بننے والے اسباب کی موجودگی میں کوڑے مارنے کی حد قائم نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17004
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبَغْدَادِيُّ بِبُخَارَا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا ⦗٣٩٩⦘ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ زَنَى فَأَقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَإِنْ كَانَ قَدْ أُحْصِنَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنَّ خَادِمًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهَا لِأَضْرِبَهَا فَوَجَدْتُهَا حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِنِفَاسِهَا، وَخَشِيتُ إِنْ أَنَا ضَرَبْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا، فَرَدَدْتُ عَنْهَا حَتَّى تُمَاثِلَ وَتَشْتَدَّ، قَالَ:" أَحْسَنْتَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! جو بھی غلام یا لونڈی زنا کرے، اس پر حد لگاؤ، اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ نے زنا کر لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حد لگانے کے لیے بھیجا، تو میں نے اسے حالتِ نفاس میں پایا، مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں نے اسے مارا تو یہ مر جائے گی۔ اس وقت میں نے اسے چھوڑ دیا، جب وہ ٹھیک ہو گئی تو میں نے اسے مارا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17004]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17005
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، فِيمَا قَرَأْنَا عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُفِسَتْ مِنَ الزِّنَا، فَأَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَوَجَدْتُهَا فِي الدِّمَاءِ لَمْ تَجِفَّ عَنْهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ:" إِذَا جَفَّ الدَّمُ عَنْهَا فَاجْلِدْهَا الْحَدَّ" وَقَالَ:" أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی زنا سے نفاس والی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حد لگانے کے لیے بھیجا، میں نے اس کو حالتِ نفاس میں پایا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ نفاس سے اٹھ جائے تو حد لگانا۔“ اور فرمایا: ”اپنے غلاموں پر بھی حد قائم کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17005]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3432. -- باب: الحبلى لا ترجم حتى تضع ويكفل ولدها
-- باب: حاملہ عورت کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ بچہ نہ جن دے اور اس کے بچے کی پرورش کا بندوبست نہ ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ قَالَتْ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" إِذًا لَا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ" قَالَ: فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ:" نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرَ السِّنِّ لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلِيَّ رَضَاعُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَمَهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْلَى.
یہ پہلے نمبر 16966 کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17006]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17007
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٤٠٠⦘ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي" فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ، فَقَالَ:" اذْهَبِي حَتَّى تَفْطِمِيهِ" فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَتْ لَهَا حَفِيرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ.
یہ حدیث نمبر ۱۶۹۶۶ کے تحت پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17007]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3433. -- باب: الضرير في خلقته لا من مرض يصيب الحد
-- باب: جو پیدائشی طور پر نابینا ہو نہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے، اور اس پر حد لازم ہو جائے تو اس کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17008
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَأَبِي الزِّنَادِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ أَحَدُهُمَا: أَحْبَنُ، وَقَالَ الْآخَرُ: مُقْعَدٌ، كَانَ عِنْدَ جِوَارِ سَعْدٍ فَأَصَابَ امْرَأَةً حَبَلٌ، فَرَمَتْهُ بِهِ، فَسُئِلَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: فَجُلِدَ بِإِثْكَالِ النَّخْلِ، وَقَالَ الْآخَرُ: بِأُثْكُولِ النَّخْلِ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ سُفْيَانَ مُرْسَلًا، وَرُوِي عَنْهُ مَوْصُولًا بِذِكْرِ أَبِي سَعِيدٍ فِيهِ، وَقِيلَ: عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقِيلَ: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ.
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو پیدائشی معذور تھا، ایک عورت پر واقع ہو گیا، اس نے اعتراف بھی کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اسے کھجور کی لکڑی کے ساتھ کوڑے مارے جائیں۔“
سفیان سے یہی (روایت) مرسل ہونا محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17008]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں