السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3433. -- باب: الضرير في خلقته لا من مرض يصيب الحد
-- باب: جو پیدائشی طور پر نابینا ہو نہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے، اور اس پر حد لازم ہو جائے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17009
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رَجُلٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ، فَلَمْ نُرَعْ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا، فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اجْلِدُوهُ مِائَةَ ⦗٤٠١⦘ سَوْطٍ" فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ هُوَ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ، لَوْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةَ سَوْطٍ مَاتَ، قَالَ:" فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ وَاحِدَةً".
سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک اپاہج آدمی رہتا تھا جو اپنے گھر کی ایک لونڈی پر واقع ہوگیا، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سو کوڑے مارو۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کمزور اور اپاہج ہے، اگر اسے سو کوڑے لگے تو وہ مر جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسی جھاڑو لے لو جس میں سو تیلیاں ہوں، پھر اسے اس کے ساتھ ایک ہی ضرب لگا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17009]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُوسَى، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ وَلِيدَةً، فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا، فَسُئِلَتْ مَنْ أَحْبَلَكِ؟ قَالَتْ: أَحْبَلَنِي الْمُقْعَدُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَضَعِيفٌ عَنِ الْجَلْدِ"، فَأَمَرَ بِمِائَةِ عُثْكُولٍ فَضَرَبَهُ بِهَا وَاحِدَةً قَالَ عَلِيٌّ: كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لونڈی عہدِ رسالت میں حاملہ ہوگئی، اس سے پوچھا گیا کہ تجھے کس نے حاملہ کیا ہے؟ کہنے لگی: اس اپاہج نے، تو اس سے پوچھا گیا، اس نے اعتراف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوڑے اس سے برداشت نہیں ہوں گے، لہٰذا اسے سو لکڑیوں کے ایک گچھے سے ایک دفعہ مار دو۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: انہوں نے ایسے ہی بیان کیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ یہ ابو حازم سے، وہ ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17010]
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: انہوں نے ایسے ہی بیان کیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ یہ ابو حازم سے، وہ ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17010]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3434. -- باب: الشهود في الزنا
-- باب: زنا کے گواہوں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17011
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ} [النساء: 15] ، وَقَالَ: {لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ}.
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾ ”تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔“ [سورة النساء: 15]
اور فرمایا: ﴿لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ ”وہ اس (بہتان) پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟“ [سورة النور: 13] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17011]
اور فرمایا: ﴿لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ ”وہ اس (بہتان) پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟“ [سورة النور: 13] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17011]
حدیث نمبر: 17011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلْهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں تو انہیں چھوڑ دوں اور چار گواہ تلاش کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17011]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17012
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا بِالشَّامِ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَوْ قَتَلَهَا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ بِأَنْ يَسْأَلَ لَهُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَسَأَلَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا هُوَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ.
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام میں ایک شخص نے دوسرے کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تو اسے قتل کر دیا، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ عراق میں نہیں ہوتا، مجھے بتاؤ میں تمہیں اس کا جواب دیتا ہوں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابوالحسن ہوں، اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو اسے اس کا بدلہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17012]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3435. -- باب: ما جاء في وقف الشهود حتى يثبتوا الزنا
-- باب: گواہوں کو اس وقت تک روکے رکھنے کا بیان جب تک کہ وہ زنا کو ثابت نہ کر دیں۔
حدیث نمبر: 17013
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: مُجَالِدٌ أنبأ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَتِ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا، قَالَ:" ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ مِنْكُمْ" فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَنَشَدَهُمَا:" كَيْفَ تَجِدَانِ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي التَّوْرَاةِ؟" قَالَا: نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ: إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَا، قَالَ:" فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَرْجُمُوهُمَا؟" قَالَا: ذَهَبَ سُلْطَانُنَا، فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّهُودِ فَجَاءُوا أَرْبَعَةً فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود ایک عورت اور مرد کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ انہوں نے زنا کر لیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دو سب سے بڑے عالموں کو بلاؤ۔“ تو صوریا کے دو بیٹوں کو لایا گیا، ان کو قسم دے کر پوچھا: ”تم تورات میں ان کا کیا حکم پاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: تورات میں یہ ہے کہ جب چار گواہ یہ گواہی دے دیں کہ ہم نے اس کے ذکر کو اس کی فرج میں دیکھا ہے جیسے سرمچو سرمہ دانی میں ہوتا ہے تو رجم کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر تم رجم کیوں نہیں کرتے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہماری حکومت جاتی رہی تو ہم نے قتل کو ناپسند کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا اور چاروں نے اسی طرح بالکل صریح گواہی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17013]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ: فَدَعَا بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا.
سابقہ روایت، لیکن اس میں گواہوں کو بلانے اور گواہی کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17014]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17015
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، بِنَحْوٍ مِنْهُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17015]
حدیث نمبر: 17016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ،" أَنَّ نَاسًا، شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ فِي الزِّنَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَكَذَا تَشْهَدُونَ أَنَّهُ، وَجَعَلَ يُدْخِلُ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِي أُصْبُعِهِ الْيُسْرَى، وَقَدْ عَقَدَهَا عَشْرًا.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لوگوں نے ایک شخص پر زنا کی گواہی دی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم اس طرح گواہی دیتے ہو؟ انہوں نے دس کا عقد بنا کر دائیں سبابہ انگلی کو بائیں میں داخل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17016]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3436. -- باب: ما جاء في تحريم اللواط وإتيان البهيمة مع الإجماع على تحريمهما
-- باب: لواطت (ہم جنس پرستی) اور جانوروں کے ساتھ بدفعلی کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات، مع اس بات کے کہ ان دونوں کی حرمت پر اجماع ہے۔
حدیث نمبر: Q17017
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ، إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ، بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ} [الأعراف: 81] ، وَقَالَ فِي نُزُولِ الْعَذَابِ بِهِمْ: {فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ، وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ} [هود: 82] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ، إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ، بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ﴾ ”اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا؟ بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔“ [سورة الأعراف: 80-81]
اور ان پر عذاب نازل ہونے کے بارے میں فرمایا: ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ، وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾ ”پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس (بستی) کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا اور اس پر تہ بہ تہ کنکریلے پتھر برسائے، جو تیرے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے، اور وہ (بستی) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔“ [سورة هود: 82-83] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17017]
اور ان پر عذاب نازل ہونے کے بارے میں فرمایا: ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ، وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾ ”پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس (بستی) کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا اور اس پر تہ بہ تہ کنکریلے پتھر برسائے، جو تیرے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے، اور وہ (بستی) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔“ [سورة هود: 82-83] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17017]