السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3422. -- باب: من أجاز أن لا يحضر الإمام المرجومين ولا الشهود
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ رجم کیے جانے والوں کے پاس نہ امام حاضر ہو اور نہ ہی گواہ۔
حدیث نمبر: 16959
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى سُفْيَانَ، وَأَنَا حَاضِرٌ، ح وأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، أنبأ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْشُدُكَ اللهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ وَأْذَنْ فَلْأَقُلْ، قَالَ:" قُلْ" قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، الْمِائَةُ شَاةٍ ⦗٣٨٣⦘ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَأُنَيْسٌ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، دُونَ ذِكْرِ شِبْلٍ.
یہ (حدیث) پہلے نمبر 16924 کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16959]
حدیث نمبر: 16960
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَاهُ رَجُلٌ، وَهُوَ بِالشَّامِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَى امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا، فَذَكَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ، وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِكَ لِتَنْزِعَ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ، وَثَبَتَتْ عَلَى الِاعْتِرَافِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُجِمَتْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِمْنِي أَحْضِرْهَا، وَلَقَدْ أَمَرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجْمِ امْرَأَةٍ، فَرُجِمَتْ وَمَا حَضَرَهَا.
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شام میں ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک دوسرے مرد کو دیکھا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس تصدیق کے لیے بھیجا، تو وہ اس کی بیوی کے پاس آئے۔ اس کے ارد گرد عورتیں تھیں، تو اسے سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ نے ساری بات بتائی اور کہا کہ اس کے کہنے پر آپ کو سزا نہیں دی جائے گی، اور سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ اسے سمجھانے لگے کہ تو انکار کر دے، تو اس نے منع کر دیا کہ میں انکار کروں اور اقرار کر لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے جب ایک عورت کو رجم کیا تھا تو خود حاضر ہونے کا نہیں کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16960]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے جب ایک عورت کو رجم کیا تھا تو خود حاضر ہونے کا نہیں کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16960]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16961
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِرَجْمِهَا، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِرَدِّهَا، فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ.
مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کیا گیا، یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16961]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3423. -- باب: من اعتبر حضور الإمام والشهود، وبداية الإمام بالرجم إذا ثبت الزنا باعتراف المرجوم، وبداية الشهود به إذا ثبت بشهادتهم
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے امام اور گواہوں کی حاضری کو معتبر قرار دیا ہے، اور اگر زنا رجم ہونے والے کے اعتراف سے ثابت ہو تو امام رجم کی ابتدا کرے گا، اور اگر گواہی سے ثابت ہو تو گواہ ابتدا کریں گے۔
حدیث نمبر: 16962
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ قَدْ فَجَرَتْ، فَرَدَّهَا حَتَّى وَلَدَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَقْرَبِ النِّسَاءِ مِنْهَا، فَأَعْطَاهَا وَلَدَهَا، ثُمَّ جَلَدَهَا وَرَجَمَهَا، ثُمَّ قَالَ: جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللهِ، وَرَجَمْتُهَا بِالسُّنَّةِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَعَى عَلَيْهَا وَلَدُهَا، أَوْ كَانَ اعْتِرَافٌ، فَالْإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ النَّاسُ، فَإِنْ نَعَاهَا الشُّهُودُ فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ الْإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ".
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس شراحہ ہمدانیہ کو لایا گیا، جس سے زنا سرزد ہو گیا تھا، پھر اسے لوٹا دیا کہ وہ وضع حمل کر دے۔ جب بچہ پیدا ہو گیا تو فرمایا: اس کی سب سے قریبی عورت رشتہ دار کو بلاؤ، وہ بلائی گئی، پھر بچہ اسے دے دیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے اسے کوڑے مارے، پھر رجم کیا اور کہا کہ میں نے کتاب اللہ کی وجہ سے کوڑے مارے ہیں اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق رجم کیا ہے۔ پھر فرمایا: جس عورت کا بھی اعتراف یا حمل سے زنا ظاہر ہو جائے تو سب سے پہلے امام اسے رجم کرے، پھر لوگ، اگر اس کا زنا گواہی سے ظاہر ہوا ہے تو سب سے پہلے گواہ، پھر امام اور پھر لوگ رجم کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16962]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 16963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَجْلَحُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جِيءَ بِشَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: وَيْلَكِ لَعَلَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَيْكِ وَأَنْتِ نَائِمَةٌ، قَالَتْ: لَا، قَالَ: لَعَلَّكِ اسْتَكْرَهَكِ، قَالَتْ: لَا، قَالَ: لَعَلَّ زَوْجَكِ مِنْ عَدُوِّنَا هَذَا أَتَاكِ، فَأَنْتِ تَكْرَهِينَ أَنْ تَدُلِّي عَلَيْهِ يُلَقِّنُهَا لَعَلَّهَا تَقُولُ: نَعَمْ قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَحُبِسَتْ، فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا أَخْرَجَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ فَضَرَبَهَا مِائَةً، وَحَفَرَ لَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الرَّحَبَةِ، وَأَحَاطَ النَّاسُ بِهَا وَأَخَذُوا الْحِجَارَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا الرَّجْمُ، إِذًا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، صُفُّوا كَصَفِّ الصَّلَاةِ، صَفًّا خَلْفَ صَفٍّ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ جِيءَ بِهَا، وَبِهَا حَبَلٌ، يَعْنِي، أَوِ اعْتَرَفَتْ فَالْإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ثُمَّ النَّاسُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جِيءَ بِهَا، أَوْ رَجُلٍ زَانٍ فَشَهِدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَةٌ بِالزِّنَا، فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ الْإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ، ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَرَجَمَ صَفٌّ ثُمَّ صَفٌّ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلُوا بِهَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاكُمْ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ جَلْدَ الثَّيِّبِ صَارَ مَنْسُوخًا، وَأَنَّ الْأَمْرَ صَارَ إِلَى الرَّجْمِ فَقَطْ.
شعبی کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے فرمایا: تیرا ناس ہو، شاید کسی آدمی نے تجھ سے اس وقت صحبت کی ہو جب تو سو رہی تھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: شاید اس نے تجھ سے زبردستی کی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: شاید تیرا شوہر جو ہمارے اس دشمن میں سے ہے تیرے پاس آیا ہو اور تو اس کی نشاندہی کرنا پسند نہ کرتی ہو؟ آپ اسے یہ باتیں سمجھا رہے تھے کہ شاید وہ ہاں کہہ دے۔ پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے قید کر دیا گیا، جب اس نے اپنے پیٹ کا بچہ جن دیا تو آپ نے اسے جمعرات کے دن نکالا اور سو کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن رحبہ میں اس کے لیے گڑھا کھدوایا۔ لوگوں نے اسے گھیر لیا اور پتھر اٹھا لیے تو آپ نے فرمایا: رجم اس طرح نہیں ہوتا، اس طرح تو تم ایک دوسرے کو مار بیٹھو گے، نماز کی صفوں کی طرح صف کے پیچھے صف بنا لو۔ پھر فرمایا: اے لوگو! جو عورت بھی اس حال میں لائی جائے کہ وہ حاملہ ہو، یا وہ اعتراف کر لے تو سب سے پہلے امام رجم کرے، پھر لوگ، اور جو عورت یا زانی مرد لایا جائے اور اس کے خلاف چار آدمی زنا کی گواہی دیں تو سب سے پہلے گواہ رجم کریں، پھر امام اور پھر لوگ۔ پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر لوگوں کو حکم دیا تو ایک صف کے بعد دوسری صف نے رجم کیا، پھر فرمایا: اس کے ساتھ وہی کرو جو تم اپنے مردوں کے ساتھ کرتے ہو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ شادی شدہ کو کوڑے مارنا منسوخ ہو چکا ہے، اب اس کے لیے صرف رجم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16963]
شیخ فرماتے ہیں کہ شادی شدہ کو کوڑے مارنا منسوخ ہو چکا ہے، اب اس کے لیے صرف رجم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16963]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3424. -- باب: ما جاء في حفر المرجوم والمرجومة
-- باب: رجم کیے جانے والے مرد اور عورت کے لیے گڑھا کھودنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ، وَلَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ، فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، كَذَا رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا تو ہم اسے بقیع کی طرف لے کر گئے، تو واللہ! ہم نے نہ اسے گاڑا اور نہ باندھا، وہ کھڑا رہا۔ ہم نے اسے ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگا تو ہم نے حرہ کے مقام پر پکڑ لیا اور بڑے بڑے پتھر اسے مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16964]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16965
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ فَقَالَ: ⦗٣٨٥⦘ يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي زَنَيْتُ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ" فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ" ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا، أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا؟ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، وَلَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنَ الْغَدِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ كَمَا سَأَلَهُمْ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! مجھ سے زنا ہو گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے پاک کیا جائے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس لوٹ جاؤ۔“ دوسرے دن وہ پھر آ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”لوٹ جاؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ: ”جاؤ پوچھ کر آؤ کہ ماعز کو کیا ہوا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ کیا اس کی عقل میں کچھ (خرابی) ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ہم نے تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی۔“ وہ تیسرے دن پھر آ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کی قوم سے پوچھا تو وہی جواب ملا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، پھر ان کے لیے گڑھا کھودا گیا اور سینے تک سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو اس میں گاڑا گیا اور پھر رجم کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16965]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16966
وَعَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي" فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَيْضًا اعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ ابْنَ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيَّ، فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي" فَلَمَّا وَلَدَتْهُ جَاءَتْهُ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ" فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، هَذَا هُوَ يَأْكُلُ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْعِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، يَعْنِي بِحَجَرٍ، فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّخَ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ:" مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ" فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ إِثْبَاتُ الْحَفْرِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ جَمِيعًا وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ اللَّجْلَاجِ فِي قِصَّةِ الشَّابِّ الْمُحْصِنِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْجَمُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي قِصَّةِ الْجُهَنِيَّةِ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، وَفِي رِوَايَةٍ فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أُمِرَ بِهَا فَرُجِمَتْ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے، میں نے زنا کر لیا ہے“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس چلی جا۔“ تو وہ کہنے لگی کہ جس طرح آپ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج رہے تھے، مجھے بھی اسی طرح بھیج رہے ہیں، واللہ! میں حاملہ ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس چلی جا یہاں تک کہ تو اسے جن دے۔“ جب اس نے بچہ جن دیا تو وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر رجم کا مطالبہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا، دودھ پلا یہاں تک کہ یہ کھانا کھانے لگے۔“ کچھ عرصے بعد پھر وہ آ گئیں تو بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ ایک شخص کے حوالے کیا اور اس عورت کے لیے حکم دیا گیا کہ گڑھا کھودا جائے اور سینے تک عورت کو اس میں گاڑا گیا اور پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اسے رجم کر دیں، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر مارا جس کے خون کے چھینٹے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اوپر پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چپ ہو جاؤ خالد! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ظالمانہ ٹیکس لگانے والے پر کی جائے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے۔“ پھر حکم دیا اور اس کے اوپر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16966]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَجَمَ امْرَأَةً، فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ" ⦗٣٨٦⦘ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُدِّثْتُ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمَانَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ زَادَ: ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ:" ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ" فَلَمَّا طُفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تو اس کے سینے تک گڑھا کھودا گیا، ابوداؤد میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اسے کنکریوں سے مارا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چہرے سے بچنا۔“ جب وہ مر گئی تو اسے نکالا، اس پر نماز بھی پڑھی اور پھر اس کی توبہ کے بارے میں گزشتہ حدیث کے جو آخری الفاظ ہیں وہ کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16967]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3425. -- باب: ما جاء في نفي البكر
-- باب: کنوارے زانی کو جلاوطن کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16968
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ" هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو:" وَتَغْرِيبُ عَامٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
یہ پہلے نمبر 161907 کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16968]