🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3420. -- باب: من جلد في الزنا ثم علم بإحصانه
-- باب: اس شخص کا بیان جسے زنا کی سزا میں کوڑے مارے گئے پھر اس کے محصن ہونے کا علم ہوا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16950
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَجُلًا، زَنَى بِامْرَأَةٍ فَلَمْ يُعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ، ثُمَّ عُلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْبَزَّازِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: عَنْ جَابِرٍ، فِي رَجُلٍ زَنَى ثُمَّ جُلِدَ ثُمَّ عُلِمَ بِإِحْصَانِهِ، قَالَ: يُرْجَمُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3421. -- باب: المرجوم يغسل ويصلى عليه ثم يدفن
-- باب: رجم کیے گئے شخص کو غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے دفن کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16951
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،" أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَائْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ:" لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی سے فرمایا: ”اس کے ساتھ احسان کرنا، جب یہ وضع حمل کر دے تو پھر اسے لے کر آنا۔“ اس نے ویسا ہی کیا، پھر جب وہ دوبارہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز بھی پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے تو زنا کیا تھا اور آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان کو کافی ہو جائے، کیا تو نے اس سے بھی افضل کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے لیے پیش کر دیا۔“ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ مُعَاذٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16952]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ وَرَجْمِهَا وَسَبِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِيَّاهَا، قَالَ: فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ:" مَهْلًا يَا خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ" فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ قصہ غامدیہ اور اس کے رجم کے متعلق فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گالی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گالی سن لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خالد! رک جاؤ، اسے گالی نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر (ناجائز) ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اسے بخش دیا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا، اس پر نماز پڑھی اور اسے دفن کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16953]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣٨٠⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ اللَّجْلَاجَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْمَلُ فِي السُّوقِ، فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا، فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟" قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ حِذَاءَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟" قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ، حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِخِزْيَةٍ، وَلَيْسَتْ مُكَلِّمَتَكَ، فَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا، أَوْ نَحْوَ ذَا، فَقَالَ:" أَحْصَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ شَيْخٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا إِنَّ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" قَالَ: فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّيْخِ فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ، فَأَتَيْنَا إِلَيْهِ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَلَمَّا طُفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.
لجلاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ اس پر جوش میں آ گئے، میں بھی آ گیا۔ میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ جو بچہ تیرے پاس ہے اس کا والد کون ہے؟“ وہ خاموش رہی تو ایک نوجوان وہیں سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں اس کا باپ ہوں یا رسول اللہ!۔ پھر اس عورت سے وہی پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے؟ تو وہ نوجوان کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ یہ نو عمر ہے، یہ آپ سے بات نہیں کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں ان سے پوچھ رہے ہوں تو لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اسے بڑا بہترین پایا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دیا تو ہم نے گڑھا کھود کر اسے رجم کر دیا اور اپنی مجالس میں پھر آ گئے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس رجم کیے ہوئے کے بارے میں پوچھنے لگا تو ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اس خبیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ، وہ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبو دار ہے۔“ کہتے ہیں: ہم اس شیخ کے ساتھ واپس آئے تو پتہ چلا کہ یہ اس کا باپ تھا، تو ہم نے اس کے غسل، کفن، دفن میں اس کی مدد کی۔ کہتے ہیں: نماز کا مجھے یاد نہیں کہ پڑھی تھی کہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16954]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16955
وَأَمَّا مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكَ جُنُونٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" أَحْصَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَ الْحَدِيثِ، وَسَاقَهُ غَيْرُهُ عَنْ إِسْحَاقَ، وَقَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْهُ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ فِيهِ: فَصَلَّى عَلَيْهِ وَهُوَ خَطَأٌ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ وَابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، یہاں تک کہ جب اس نے چار مرتبہ اپنے نفس پر گواہی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مجنون ہو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کیا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن اسے پکڑ کر پھر رجم کیا گیا اور وہ مر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اچھے کلمات کہے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16955]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16956
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ⦗٣٨١⦘ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَرَمَيْنَاهُ بِالْخَزَفِ وَالْجَنْدَلِ وَالْعِظَامِ، وَمَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ فَمَضَى يَشْتَدُّ إِلَى الْحَرَّةِ، وَاتَّبَعْنَاهُ فَقَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ حَتَّى سَكَنَ، فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا سَبَّهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ فَهَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَسْتَغْفِرْ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ فِي الْحَالِ أَمَرَهُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُ بَعْدَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ، أَنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ، وَقِصَّةُ الْغَامِدِيَّةِ بَعْدَ قِصَّةِ مَاعِزٍ، فَفِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ لِمَ تَرُدَّنِي؟ فَلَعَلَّكَ إِنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا، فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کر کے رجم کر دیا۔ نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، نہ باندھا۔ وہ بھاگے ہم نے حرہ کی طرف جا کر انہیں پکڑ لیا اور وہاں پتھر مارے تو وہ مر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ان کے لیے استغفار کی اور نہ ہی برا کہا۔
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں غامدیہ عورت کا قصہ ہے، اس پر نماز بھی پڑھی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اور دفن بھی کی گئی اور غامدیہ کا واقعہ ماعز رضی اللہ عنہ کے بعد کا ہے؛ کیونکہ غامدیہ نے کہا تھا: ”کیا آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16956]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3422. -- باب: من أجاز أن لا يحضر الإمام المرجومين ولا الشهود
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ رجم کیے جانے والوں کے پاس نہ امام حاضر ہو اور نہ ہی گواہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16957
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ مَاعِزٍ، وَلَمْ يَحْضُرْهُ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِمْنِي لِأَحْضُرَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز (رضی اللہ عنہ) کو رجم کرنے کا حکم دیا اور خود وہاں موجود نہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک عورت کے پاس جائیں، پس اگر وہ (زنا کا) اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے اطلاع دینا تاکہ میں (اس کے رجم کے وقت) حاضر ہو جاؤں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q16957]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْآخَرَ زَنَى، يَعْنِي نَفْسَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْآخَرَ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْآخَرَ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّى الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ ⦗٣٨٢⦘ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
«تَقَدَّمَ بِرَقْمِ ١٦٩٥٥» ”یہ حدیث نمبر 16955 کے تحت پہلے گزر چکی ہے،“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16957]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16958
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى ذَكَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ فَاشْتَدَّ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ مِنْ بَادِيَتِهِ فَرَمَاهُ بِوَظِيفِ حِمَارٍ فَصَرَعَهُ، وَرَمَاهُ النَّاسُ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارَهُ فَقَالَ:" هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ، فَلَعَلَّهُ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللهُ عَلَيْهِ، يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ مِمَّا صَنَعْتَ" وَقَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بِلَحْيِ بَعِيرٍ.
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے رجم کر دو۔“ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ تکلیف سے بھاگے تو عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے انہیں گدھے کی پنڈلی کی ہڈی ماری تو وہ گر پڑے اور لوگوں نے بھی مارے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ جب ان کے بھاگنے کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا کہ وہ اللہ سے توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔ اے ہزال! اگر تو اسے کپڑے سے ڈھانپ لیتا تو تیرے لیے یہ زیادہ بہتر تھا اس سے جو تو نے کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16958]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں