🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3417. -- باب: من قال: من أشرك بالله فليس بمحصن
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محصن (شادی شدہ کے شرعی حکم میں) نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16940
قَالَ عَلِيٌّ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" مَنْ أَشْرَكَ بِاللهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ".
«تَقَدَّمَ» ”(یہ حدیث) پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16940]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16941
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْهَا وَقَالَ:" إِنَّهَا لَا تُحْصِنُكَ".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کسی یہودیہ یا نصرانی عورت سے شادی کروں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا: ”وہ تجھے پاک دامن نہیں بنائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16941]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16942
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: قَالَ أَبُو ⦗٣٧٧⦘ الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يُدْرِكْ كَعْبًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي سَبَأٍ عُتْبَةَ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور علی بن ابی طلحہ نے کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے بقیہ بن ولید نے بھی ابوسبا عتبہ بن تمیم سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16942]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3418. -- باب: ما جاء في الأمة تحصن الحر
-- باب: آزاد مرد کو لونڈی کے ذریعے محصن ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16943
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: سَأَلَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ عَنِ الْأَمَةِ، هَلْ تُحْصِنُ الْحُرَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: عَمَّنْ تَرْوِي هَذَا؟ قَالَ: أَدْرَكْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا لونڈی آزاد کو محصن بنا دے گی؟ کہا: ہاں۔ پوچھا: یہ بات آپ کس سے نقل کرتے ہیں؟ کہا: ہم نے اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کو ایسا فرماتے ہوئے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16943]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16944
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يُونُسُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الْمَلِكِ، يَسْأَلُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: عَمَّنْ تَرْوِي هَذَا؟ فَقَالَ: أَدْرَكْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ ذَلِكَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: بَلَغَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى أَنَّهُ قَالَ: وَجَدْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَدْ تَابَعَ يُونُسَ، فَهُمَا إِذًا أَوْلَى وَرَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16944]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3419. -- باب: ما جاء فيمن تزوج امرأة ولم يمسها ثم زنى
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت نہ کی، پھر زنا کا ارتکاب کر لیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَنْظُورِ بْنِ زَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَمَسَّهَا ثُمَّ زَنَى، فَقَالَ سَعِيدٌ: السُّنَّةُ فِيهِ أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُرْجَمَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کی شادی ہوئی، لیکن اپنی بیوی سے وطی نہیں کی، پھر اس سے زنا ہو جائے تو؟ فرمایا: اس میں سنت یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، رجم نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16945]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16946
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عِجْلٍ قَالَ: جِئْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣٧٨⦘ بِصِفِّينَ، فَإِذَا رَجُلٌ فِي زَرْعٍ يُنَادِي: إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَأَقِيمُوا عَلَيَّ الْحَدَّ، فَرَفَعْتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَخَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَأَغْرَمَهُ نِصْفَ الصَّدَاقِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ بنو عجل کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ جنگ صفین میں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک آدمی چیخنے لگا: میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کی جائے۔ میں اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: شادی کی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: بیوی سے دخول بھی کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے مارے اور بیوی کو نصف حق مہر دلوایا اور ان کے درمیان جدائی کروا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16946]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16947
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أََبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنَشَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ عِنْدَهُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا التَّفْرِيقُ بَيْنَهُمَا بِالزِّنَا حُكْمًا، فَلَا نَقُولُ بِهِ لِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْحُجَجِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِرِضَاهُ بِالتَّفْرِيقِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حنش بن معتمر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس نے کسی سے زنا کر لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگا دی اور عورت نے بھی اس کے پاس نہ رہنا چاہا تو ان میں بھی جدائی کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان جدائی حکماً تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کی رضا مندی سے تفریق کرائی گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16947]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: كَانُوا يَقُولُونَ" مَنْ تَزَوَّجَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ أُحْصِنَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِامْرَأَتِهِ، فَلَا رَجْمَ عَلَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، فَإِنْ دَخَلَ بِامْرَأَتِهِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَزَنَى بَعْدَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْإِمَاءُ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ لَا يُوجِبْنَ الرَّجْمَ".
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے فقہائے اہل مدینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اس سے پہلے محصن نہ رہا ہو، شادی کرے، لیکن بیوی سے نہ ملا ہو، پھر اس سے زنا ہو جائے تو اس پر رجم نہیں ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور اگر وہ دن یا رات کی ایک گھڑی یا اس سے زیادہ اپنی بیوی سے مل چکا ہو، پھر اس کے بعد زنا کرے تو اس پر رجم ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور لونڈیاں جو اولاد کی مائیں ہوں (ان سے صحبت) رجم کو واجب نہیں کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16948]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3420. -- باب: من جلد في الزنا ثم علم بإحصانه
-- باب: اس شخص کا بیان جسے زنا کی سزا میں کوڑے مارے گئے پھر اس کے محصن ہونے کا علم ہوا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16949
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَلَدَ رَجُلًا فِي الزِّنَا مِائَةً، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ كَانَ أُحْصِنَ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زنا میں سو کوڑے لگوائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ تو شادی شدہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے رجم کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16949]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں