السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3473. جماع أبواب قطع اليد والرجل في السرقة -- باب: السارق يسرق أولا فتقطع يده اليمنى من مفصل الكف، ثم يحسم بالنار
چوری کی سزا میں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جب چور پہلی مرتبہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، پھر اسے آگ سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17252
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٤٧١⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ مِنَ الْمَفْصِلِ وَحَسَمَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ جوڑ سے کاٹتے اور اس کو داغ دیتے تھے، گویا کہ میں ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہوں، گویا وہ گدھوں کے عضو ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17252]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17253
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يَقْطَعُ الرِّجْلَ وَيَدَعُ الْعَقِبَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا"، فَكَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، فَيَقْطَعُ الْيَدَ مِنَ الْمَفْصِلِ، وَيَقْطَعُ الرِّجْلَ مِنْ شَطْرِ الْقَدَمِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِقَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَهُمَا، وَهُوَ قَوْلُ الْكَافَّةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ پاؤں کاٹتے اور ایڑی چھوڑ دیتے جس پر وہ سہارا لے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ اور پاؤں کاٹنے میں فرق کرتے، ہاتھ کو جوڑ سے کاٹتے اور پاؤں کو آدھے سے کاٹتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17253]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17254
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا إِخَالُهُ سَرَقَ"، قَالَ السَّارِقُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ:" تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، قَالَ:" تَابَ اللهُ عَلَيْكَ" وَصَلَهُ يَعْقُوبُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَتَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چور لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ چور نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ اس کا ہاتھ کاٹا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17254]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17255
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ ثُمَّ أَتَوْهُ بِهِ.
اس کو مرسلاً اسی معنی میں ذکر کیا ہے، اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹا، پھر اس کو داغا، پھر اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17255]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17256
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، ح قَالَ: وَثَنَا عَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يُسْنِدْهُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَى أَحَدٍ، قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ رَوَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا أُرَاهُ حَفِظَهُ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: رَوَى فِيهِ عَنْهُ أَيْضًا مُرْسَلًا.
یہ پہلے گزر چکی ہے۔
علی (بن مدینی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی نے بھی اسے ابن ثوبان سے اوپر کسی تک مسند بیان نہیں کیا۔ اور فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے یاد رکھا ہو۔ ان سے یہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17256]
علی (بن مدینی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی نے بھی اسے ابن ثوبان سے اوپر کسی تک مسند بیان نہیں کیا۔ اور فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ محمد بن اسحاق نے اسے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے یاد رکھا ہو۔ ان سے یہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17257
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" يَقْطَعُ وَيَحْسِمُ وَيَحْبِسُ، فَإِذَا بَرِئُوا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَخْرَجَهُمْ ثُمَّ قَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ إِلَى اللهِ، قَالَ: فَيَرْفَعُونَهَا، فَيَقُولُ: مَنْ قَطَعَكَ؟ فَيَقُولُونَ: عَلِيٌّ، فَيَقُولُ: وَلِمَ؟ فَيَقُولُونَ: سَرَقْنَا، قَالَ: فَيَقُولُ: اللهُمَّ اشْهَدْ اللهُمَّ اشْهَدْ لَفْظُ حَدِيثِ الْحَذَّاءِ، زَادَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ الضَّبِّيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، فَخَالَفَ ابْنَ أَبْجَرَ فِي إِسْنَادِهِ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چور کا ہاتھ جڑ سے کاٹا اور اس کو قید میں ڈال دیا۔ جب وہ تندرست ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو نکالا، پھر کہا: اپنے ہاتھ اللہ کی طرف اٹھاؤ۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے ہاتھ اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں: آپ کو کس نے کاٹا؟ وہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے۔ کس لیے؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے چوری کی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17257]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17258
: قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ اللِّصَّ قَطَعَهُ، ثُمَّ حَسَمَهُ، ثُمَّ أَلْقَاهُ فِي السِّجْنِ، فَإِذَا بَرِئُوا وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُمْ، فَقَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ إِلَى اللهِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ، فَيَقُولُ: مَنْ قَطَعَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: عَلِيٌّ، فَيَقُولُ: اللهُمَّ صَدَقُوا، فِيكَ قَطَعْتُهُمْ، وَفِيكَ أَرْسَلْتُهُمْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، وَالْحَدِيثُ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ أَبْجَرَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِتَعَهُّدِهِمْ حَتَّى يَبْرَءُوا، لَا أَنَّهُ كَانَ يَحْبِسُهُمْ تَعْزِيرَا، فَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَبْسُ الْإِمَامِ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحَدِّ ظُلْمٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ چور کو پکڑتے، اس کے ہاتھ کاٹتے، پھر اس کو داغ دیتے، پھر اس کو جیل میں ڈال دیتے۔ جب وہ تندرست ہوا اور ارادہ کیا کہ ان کو نکالیں تو فرمایا: اللہ کی طرف ہاتھ اٹھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں:) گویا کہ میں ان ہاتھوں کو دیکھ رہا ہوں، گویا وہ گدھوں کے عضو ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے: تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے؟ وہ کہتے: علی رضی اللہ عنہ نے۔ وہ کہتے: اے اللہ! انہوں نے سچ کہا ہے، تیری خاطر میں نے ان کے ہاتھ کاٹے اور تیری خاطر میں نے ان کو چھوڑا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا وہ ان کی دیکھ بھال کا حکم دیتے تھے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائیں، یہ نہیں کہ وہ انہیں تعزیری سزا کے طور پر قید کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حد قائم کرنے کے بعد امام کا (مجرم کو) قید کرنا ظلم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17258]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا وہ ان کی دیکھ بھال کا حکم دیتے تھے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائیں، یہ نہیں کہ وہ انہیں تعزیری سزا کے طور پر قید کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حد قائم کرنے کے بعد امام کا (مجرم کو) قید کرنا ظلم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17258]
3474. -- باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا
-- باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17259
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي خَلِيلُ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا جَدِّي، ثنا مُصْعَبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ⦗٤٧٣⦘ الْهِلَالِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ؟ فَقَالَ:" اقْطَعُوهُ"، فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ"، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ" ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" اقْطَعُوهُ"، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ" قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مَعْشَرٍ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى قَالَ: إِنَّهُ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" اقْطَعُوا يَدَهُ"، وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ:" اقْطَعُوا رِجْلَهُ"، وَفِي الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ:" اقْطَعُوا يَدَهُ" وَفِي الْمَرَّةِ الرَّابِعَةِ:" اقْطَعُوا رِجْلَهُ"، وَفِي الْمَرَّةِ الْخَامِسَةِ قَالَ:" أَلَمْ أَقُلْ لَكُمُ: اقْتُلُوهُ اقْتُلُوهُ"، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَدِ النَّعَمِ فَحَمَلْنَا عَلَيْهِ النَّعَمَ، فَشَالَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهُ الْإِبِلُ، قَالَ: فَعَلَوْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلْنَاهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک چور کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوسری بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر تیسری بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر چوتھی بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے تو صرف چوری کی ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (عضو) کاٹ دو“۔ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا، پھر ہم اسے گھسیٹ کر لے گئے اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔
ابو معشر کی روایت میں ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“، دوسری مرتبہ اسی بات کے بعد فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، تیسری مرتبہ: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ اور چوتھی مرتبہ: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، اور پانچویں مرتبہ فرمایا: ”کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اسے قتل کر دو، اسے قتل کر دو؟“ فرماتے ہیں: پھر ہم اسے جانوروں کے باڑے کی طرف لے گئے اور اس پر اونٹ چھوڑ دیے، تو اس نے اپنے ہاتھ پاؤں اٹھائے یہاں تک کہ اونٹ اس سے بدک گئے۔ پھر ہم نے اسے پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17259]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا، پھر ہم اسے گھسیٹ کر لے گئے اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے۔
ابو معشر کی روایت میں ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“، دوسری مرتبہ اسی بات کے بعد فرمایا: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، تیسری مرتبہ: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ اور چوتھی مرتبہ: ”اس کا پاؤں کاٹ دو“، اور پانچویں مرتبہ فرمایا: ”کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اسے قتل کر دو، اسے قتل کر دو؟“ فرماتے ہیں: پھر ہم اسے جانوروں کے باڑے کی طرف لے گئے اور اس پر اونٹ چھوڑ دیے، تو اس نے اپنے ہاتھ پاؤں اٹھائے یہاں تک کہ اونٹ اس سے بدک گئے۔ پھر ہم نے اسے پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17259]
حدیث نمبر: 17260
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ بَعْدُ وَقَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ رِجْلِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ" ⦗٤٧٤⦘ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بایاں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دایاں پاؤں کاٹنے کا حکم دیا، پھر اسے لایا گیا، اس نے چوری کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17260]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17261
وَفِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، فِيمَا لَمْ يُمْلِ مِنْ كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" فَاقْطَعُوهُ"، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ، ثُمَّ سَرَقَ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ، فَدُفِعَ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ، فَأَمَّرُوهُ، فَكَانَ إِذَا ضَرَبَهُ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ.
سیدنا حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوری کی۔ اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے ہاتھ کاٹ دو۔“ پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو کاٹا گیا۔ پھر اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوری کی تو کاٹا گیا، پھر چوری کی تو کاٹا گیا، یہاں تک کہ اس کے سب ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے۔ پھر اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں زیادہ جانتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اسے لے جاؤ اور قتل کر دو۔“ چنانچہ اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کیا گیا جن میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے اپنا امیر بنا لو، تو انہوں نے انہیں امیر بنا لیا، چنانچہ جب وہ اسے مارتے تو وہ سب بھی اسے مارتے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17261]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف