السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3475. -- باب: ما جاء في تعليق اليد في عنق السارق
-- باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17272
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا حِمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا نُعَيْمٌ هُوَ ابْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ، يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ، فَقَالَ: سُنَّةٌ،" قَدْ قَطَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ وَعَلَّقَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، قَالَ نُعَيْمٌ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ لَفْظُ حَدِيثِ نُعَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ قَالَ: عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعَلَّقَ يَدُهُ فِي عُنُقِهِ، يَعْنِي السَّارِقَ إِذَا قُطِعَتْ.
یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17272]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَطَعَ سَارِقًا فَمَرُّوا بِهِ وَيَدُهُ مُعَلَّقَةٌ فِي عُنُقِهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چور کا ہاتھ کاٹا، پھر حکم دیا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17273]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17274
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ زَيْدَانَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقَرَّ عِنْدَهُ سَارِقٌ مَرَّتَيْنِ" فَقَطَعَ يَدَهُ، وَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ"، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدِهِ تَضْرِبُ صَدْرَهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور نے دو مرتبہ اقرار کیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا، گویا کہ میں اس کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ اسے سینے پر مار رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17274]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3476. -- باب: ما جاء في الإقرار بالسرقة والرجوع عنه قال عطاء: إذا اعترف مرة قطع
-- باب: چوری کا اقرار کرنے اور پھر اس سے رجوع کر لینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان، عطاء فرماتے ہیں: ”جب وہ ایک مرتبہ اعتراف کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 17275
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَقَالَ:" لَا إِخَالُهُ سَرَقَ" فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَرَقْتُ، قَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ"، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ:" تُبْ إِلَى اللهِ"، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَابَ اللهُ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس نے چوری کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! یہ میں نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تُبْ إِلَى اللَّهِ» ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ» ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17275]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ الْبَزَّارِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ مَتَاعًا، فَأَخَذُوا مَعَهُ الْمَتَاعَ فَاعْتَرَفَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَلَمَّا قُطِعَ قَالَ:" تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ: أَتُوبُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ.
ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کوئی سامان چوری کیا۔ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا، اس نے اعتراف کیا، اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ» ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے۔“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر جب ہاتھ کاٹا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17276]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17277
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ، أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَرَقْتُ قَطُّ قَبْلَهَا، فَقَالَ:" كَذَبْتَ مَا كَانَ اللهُ لِيُسْلِمَ عَبْدًا عِنْدَ أَوَّلِ ذَنْبِهِ، فَقَطَعَهُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، چور نے کہا: میں نے اس سے پہلے کبھی چوری نہیں کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو جھوٹ کہہ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں کہ وہ کسی بندے کا گناہ پہلی مرتبہ ظاہر کر دے، پھر اس کا ہاتھ کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17277]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17278
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ⦗٤٨٠⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،" أَنَّهُ أُتِيَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ سَرَقَتْ، فَقَالَ لَهَا: سَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا، فَقَالَتْ: لَا، فَخَلَّى عَنْهَا".
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک سیاہ لونڈی لائی گئی جس نے چوری کی تھی، انہوں نے اس سے کہا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ اس نے کہا: نہیں، پس انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17278]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17279
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أُتِيَ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ بِامْرَأَةٍ سَرَقَتْ جَمَلًا، فَقَالَ:" أَسَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے ایک اونٹ چوری کیا تھا۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17279]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3477. -- باب: قطع المملوك بإقراره
-- باب: غلام کے (چوری کا) اقرار کر لینے پر اس کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17280
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ، وَمَعَهَا مَوْلَاتَانِ وَمَعَهَا غُلَامٌ لِبَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَبُعِثَ مَعَ الْمَوْلَاتَيْنِ بِبُرْدِ مَرَاجِلٍ قَدْ خِيطَ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ، قَالَتْ: فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ وَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَتَا الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَوْلَاتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ أَوْ كَتَبَتَا إِلَيْهَا وَاتَّهَمَتَا الْعَبْدَ، فَسُئِلَ الْعَبْدُ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ کی طرف نکلیں اور ان کے ساتھ دو لونڈیاں تھیں اور ان کے ساتھ بنو عبداللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کا ایک غلام تھا۔ ان دونوں لونڈیوں کے ساتھ ایک دھاری دار چادر بھیجی گئی جس پر سبز رنگ کا کپڑا سی دیا گیا تھا۔ عمرہ فرماتی ہیں: اس غلام نے وہ چادر لی، اس کی سلائی کھولی اور چادر نکال لی اور اس کی جگہ نمدہ یا پوستین رکھ کر اس پر سلائی کر دی۔ جب وہ دونوں لونڈیاں مدینے میں پہنچیں تو انہوں نے وہ چادر والوں کے حوالے کر دی۔ جب انہوں نے اسے کھولا تو اس میں نمدہ پایا اور چادر نہیں پائی، انہوں نے ان دونوں لونڈیوں سے بات کی تو ان دونوں لونڈیوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بات کی یا اس کی طرف لکھا اور ان دونوں نے غلام پر تہمت لگائی۔ غلام سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو اس نے اعتراف کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہاتھ ربع دینار یا اس سے اوپر میں کاٹا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17280]
3478. -- باب: غرم السارق
-- باب: چور پر تاوان (جرمانہ) عائد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17281
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ ⦗٤٨١⦘ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ پر وہ ہے جو اس نے پکڑا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17281]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف