السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3464. -- باب: القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار
-- باب: ہر اس قیمت والی چیز میں ہاتھ کاٹنے کا بیان جو محفوظ جگہ (حرز) سے چرائی جائے اور اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 17204
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٥٨⦘ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَفِيهِ الْقَطْعُ".
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ نہ کاٹو۔ جب وہ ٹوکری میں آ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17204]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17205
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ؟ قَالَ:" لَا تُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، وَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کتنی چیز ہو تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جب وہ پھل خشکی کی جگہ پر پہنچ جائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا، جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو جائے اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب بکری پہاڑ پر ہو اس وقت تک جب وہ اپنے باڑے میں نہ آ جائے، پھر ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کی قیمت ایک ڈھال کے برابر ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17205]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17206
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَأَبُو نَصْرٍ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى سَارِقِ الْحَمَامِ قَطْعٌ" وَهَذَا إِنَّمَا أَرَادَ فِي الطَّيْرِ وَالْحَمَامِ الْمُرْسَلَةِ فِي غَيْرِ حِرْزٍ.
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کبوتر چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس سے مراد ایسے پرندے اور کبوتر ہیں جو کسی کی حفاظت میں نہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17206]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3465. -- باب: السن التي إذا بلغها الرجل والمرأة أقيمت عليهما الحدود
-- باب: اس عمر کا بیان جس کو مرد اور عورت پہنچ جائیں تو ان پر حدود قائم کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 17207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَبِلَنِي".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں یومِ احد والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا گیا اور میری عمر چودہ سال تھی، اس عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا اور یومِ خندق والے دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا گیا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی، اس عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چن لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17207]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17208
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَعَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَابْنِ نُمَيْرٍ وَالثَّقَفِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَمَّا النَّظَرُ إِلَى الْمُؤْتَزِرِ وَالِاسْتِدْلَالُ بِإِنْبَاتِ الشَّعْرِ عَلَى الْبُلُوغِ فَقَدْ مَضَى مَا رُوِيَ فِيهِ فِي كِتَابِ الْحَجْرِ.
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چھوٹے اور بڑے دونوں میں یہ حد ہے۔
رہی بات ایزار کی طرف دیکھنے کی اور بال اگنے سے بلوغت پر استدلال کرنے کی تو اس کے بارے میں کتاب الحجر میں روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17208]
رہی بات ایزار کی طرف دیکھنے کی اور بال اگنے سے بلوغت پر استدلال کرنے کی تو اس کے بارے میں کتاب الحجر میں روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17208]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17209
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ:" أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بِجَارِيَةٍ قَدْ سَرَقَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ فَلَمْ يَقْطَعْهَا" وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائی گئی جس نے چوری کی اور وہ بالغ نہیں تھی، تو انہوں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17209]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3466. -- باب: المجنون يصيب حدا
-- باب: پاگل شخص کے کوئی حد والا جرم کر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمُبْتَلَاةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمَرَّ بِهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي ⦗٤٦٠⦘ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالصِّبْيَانُ يَتْبَعُونَهَا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: امْرَأَةٌ أَمَرَ عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، قَالَ: فَرَدَّهَا وَذَهَبَ مَعَهَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يُفِيقَ، وَالنَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَالصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَوَكِيعٌ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل (عورت) لائی گئی جس نے گناہ کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، تو وہاں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گزرے اور بچے اس کے پیچھے چل رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ایسی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اس کو رجم کیا جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ اور وہ اس کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ» ”تین افراد سے قلم کو اٹھا لیا ہے“: (1) پاگل سے یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے، (2) سونے والا جب بیدار ہو جائے اور (3) بچہ جب عقل مند ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17210]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17211
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيٍّ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ زَنَتْ، وَهِيَ تُرْجَمُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَرْتَ بِرَجْمِ فُلَانَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ"؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهَا فَخَلَّى عَنْهَا وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ مُرْسَلًا مَرْفُوعًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے کسی قبیلے کی ایک پاگل عورت گزری جس نے زنا کر لیا تھا اور اس کو رجم کیا جانا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے فلانہ کے متعلق رجم کا حکم دیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! میں نے حکم دیا تھا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول یاد نہیں کہ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ» ”تین چیزوں سے قلم کو اٹھا لیا گیا ہے: 1۔ سونے والا جب بیدار ہو جائے، 2۔ بچہ بالغ ہو جائے، 3۔ پاگل جب صحیح ہو جائے۔““ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17211]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17212
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدِ انْطُلِقَ بِهَا لِتُرْجَمَ، فَأَخَذَهَا مِنْهُمْ فَخَلَّى سَبِيلَهَا، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلَّى سَبِيلَهَا فَقَالَ: ادْعُوهُ لِي، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ" وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ عَلِيٌّ: وَأَنَا لَا أَدْرِي.
ابو ظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے گناہ کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کو رجم کر دو تو وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ گزرے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جان لیا کہ اس کو رجم کر رہے ہیں تو اس عورت کو پکڑا اور اسے اس کے راستے پر چھوڑ دیا۔ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اس کے راستے پر چھوڑ دیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔“ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا ہے: ۱۔ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے، ۲۔ سویا ہوا آدمی یہاں تک کہ بیدار ہو جائے، ۳۔ مجنون یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“ یہ فلاں قبیلے کی پاگل عورت ہے، شاید جس نے اس کے ساتھ (زنا) کیا اس نے اس حالت میں کیا جب وہ اپنی دیوانگی میں مبتلا تھی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا۔“ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا: ”میں بھی نہیں جانتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17212]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17213
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ⦗٤٦١⦘ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ”تین چیزوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: (1) بچہ یہاں تک کہ عاقل ہوجائے، (2) سویا ہوا یہاں تک کہ بیدار ہوجائے اور (3) مجنون یہاں تک کہ ٹھیک ہوجائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17213]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح