السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3575. -- باب: الغنيمة لمن شهد الوقعة
-- باب: مالِ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 17956
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَاءَةً، ثنا أَبِي، ثنا حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَخْتَرِيٍّ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غنیمت کا مال اس کا ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17956]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3576. -- باب: الجيش في دار الحرب يخرج منهم السرية إلى بعض النواحي فتغنم ويغنم الجيش
-- باب: دار الحرب میں موجود لشکر جس میں سے کوئی دستہ کسی علاقے کی طرف نکل کر غنیمت حاصل کرے اور لشکر بھی مالِ غنیمت پائے، کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 17957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" أَبُو عَامِرٍ كَانَ فِي جَيْشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِحُنَيْنٍ، فَبَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَتْبَاعِهِمْ، وَهَذَا جَيْشٌ وَاحِدٌ كُلُّ فِرْقَةٍ مِنْهُ رِدْءٌ لِلْأُخْرَى، وَإِذَا كَانَ الْجَيْشُ هَكَذَا فَلَوْ أَصَابَ الْجَيْشُ شَيْئًا دُونَ السَّرِيَّةِ، أَوِ السَّرِيَّةُ شَيْئًا دُونَ الْجَيْشِ، كَانُوا فِيهِ شُرَكَاءَ".
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کا امیر بنا کر اوطاس کی جانب درید بن صمہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے اس کو پایا اور وہ قتل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عامر رضی اللہ عنہ حنین کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان (بھاگنے والوں) کے تعاقب میں بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17957]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عامر رضی اللہ عنہ حنین کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان (بھاگنے والوں) کے تعاقب میں بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17958
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ فِيهِ:" وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تَرُدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ". وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرٍو، فَقَالَ:" يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ، وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال خطبہ میں فرمایا تھا: ”مسلمان اپنے سوا دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں، ان کا ادنیٰ آدمی بھی ان کی طرف سے امان دے سکتا ہے، ان کا دور والا بھی ان پر (حصہ) لوٹاتا ہے اور ان کے فوجی دستے (غنیمت میں سے) ان کے پیچھے بیٹھنے والوں پر لوٹاتے ہیں۔“ یحییٰ بن سعید کی عمرو سے روایت میں ہے کہ ”ان کا طاقتور سواری والا کمزور سواری والے پر لوٹائے گا اور آگے بڑھ کر جانے والا بیٹھنے والے پر لوٹائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17958]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3577. -- باب: سهم الفارس والراجل
-- باب: گھڑ سوار اور پیادہ (پیدل چلنے والے) مجاہد کے حصے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17959
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ: سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ، وَقَدْ مَضَتْ سَائِرُ الْأَخْبَارِ فِي هَذَا الْبَابِ فِيهِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”آدمی اور گھوڑے کے لیے تین حصے مقرر کیے: ایک آدمی کے لیے اور دو گھوڑے کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17959]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3578. -- باب: تفضيل الخيل
-- باب: گھوڑوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 17960
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ عَرَّبَ الْعِرَابَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ مُنْذِرٌ الْوَادِعِيُّ، كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَعْضِ الشَّامِ فَطَلَبَ الْعَدُوَّ، فَلَحِقَتِ الْخَيْلُ وَتَقَطَّعَتِ الْبَرَاذِينُ، فَأَسْهَمَ لِلْخَيْلِ وَتَرَكَ الْبَرَاذِينَ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" نِعِمَّا رَأَيْتَ". فَصَارَتْ سُنَّةً. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ مِنْ هَذَا تَسْوِيَةٌ بَيْنَ الْخَيْلِ وَالْعِرَابِ وَالْبَرَاذِينِ وَالْمَقَارِيفِ، وَلَوْ كُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا مَا خَالَفْنَاهُ.
کلثوم بن اقمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اندر گھوڑوں کی تعریب کرنے والا پہلا شخص منیذر وداعی تھا۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے بعض علاقوں کا امیر تھا۔ اس نے دشمن کو تلاش کیا، گھوڑے مل گئے اور غیر عربی گھوڑے بے بس ہو گئے۔ اس نے گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور غیر عربی گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تیرا خیال اچھا ہے، تو یہ طریقہ بن گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس بارے میں ہمارا خیال ہے کہ عربی اور غیر عربی گھوڑوں کو اور جس گھوڑے کی ماں عربی اور باپ غیر عربی یا اس کے الٹ ہو سب کو برابر رکھا جائے گا اور اگر ہم اس طرح برقرار رکھتے تو ہم مخالفت نہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17960]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17961
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا هَنْبَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْحِمْصِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا ⦗٨٩⦘ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَرَّبَ الْعَرَبِيَّ وَهَجَّنَ الْهَجِينَ"." كَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ سَاكِنُ حِمْصَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ حَمَّادٍ مُنْقَطِعًا".
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عربی کو عربی النسل قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا۔“
اسی طرح احمد بن ابی احمد جرجانی (ساکن حمص) نے اسے حماد بن خالد سے موصولاً روایت کیا ہے، جبکہ امام شافعی، احمد بن حنبل اور ایک جماعت نے اسے حماد سے منقطعاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17961]
اسی طرح احمد بن ابی احمد جرجانی (ساکن حمص) نے اسے حماد بن خالد سے موصولاً روایت کیا ہے، جبکہ امام شافعی، احمد بن حنبل اور ایک جماعت نے اسے حماد سے منقطعاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17961]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17962
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يُعْطِ الْكَوْدَنَ شَيْئًا، وَأَعْطَى دُونَ سَهْمِهِ الْعِرَابَ وَالْكَوْدَنُ الْبِرْذَوْنُ الْبَطِيءُ". أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوغلی نسل کے گھوڑوں کو کچھ نہیں دیا اور اس کے حصے کے بغیر خالص عربی النسل گھوڑوں کو دیا، دوغلی نسل کا گھوڑا «الْبِرْذَوْنُ الْبَطِيءُ» ہے۔
ابو بلال اشعری قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17962]
ابو بلال اشعری قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17962]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17963
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَحُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ عَلَّقَ الْمَغْنَمَ بِجِنْسِ الْخَيْلِ وَالْبَرَاذِينِ مِنْ جُمْلَةِ الْخَيْلِ، وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبَرَاذِينِ هَلْ فِيهَا صَدَقَةٌ، فَقَالَ:" وَهَلْ فِي الْخَيْلِ صَدَقَةٌ؟".
سیدنا عروہ بن ابی جعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے اور غنیمت بھی ان کی پیشانیوں میں رکھ دی گئی ہے“ تو اس میں دلالت ہے کہ غنیمتوں کو گھوڑوں کی جنس سے متعلق کیا گیا ہے تو دوغلی نسل کے گھوڑے بھی اصل میں گھوڑوں کی نسل سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17963]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3579. -- باب: سهمان الخيل
-- باب: گھوڑوں کے حصوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 17964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ ⦗٩٠⦘ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ، سَهْمٍ لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ، وَسَهْمٍ فِي ذِي الْقُرْبَى. سَهْمُ أُمِّهِ صَفِيَّةَ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَهَابُ أَنْ يَذْكُرَ يَحْيَى بْنَ عَبَّادٍ، وَالْحُفَّاظُ يَرْوُونَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، وَهُوَ مَعَ مَا ذَكَرَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ فِيهِ مُرْسَلٌ، وَقَدْ وَصَلَهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَاضِرُ بْنُ مُوَرِّعٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غنیمت کے مال کے چار حصے بناتے تھے: ایک حصہ اپنے لیے، دو حصے گھوڑے کے لیے، ایک اپنے قریبیوں کے لیے اور اپنی ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کا حصہ خیبر کے دن کا۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن عباد کا ذکر کرنے سے ڈرتے تھے جبکہ حفاظ اسے یحییٰ بن عباد ہی سے نقل کرتے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے محمد بن بشر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے یحییٰ بن عباد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (حصہ دیا)، اور یحییٰ بن عباد کے ذکر کے باوجود یہ روایت مرسل ہے، جبکہ سعید بن عبدالرحمن اور محاضر بن مورع نے اسے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے یحییٰ بن عباد سے اور انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے موصولاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17964]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے محمد بن بشر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے یحییٰ بن عباد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (حصہ دیا)، اور یحییٰ بن عباد کے ذکر کے باوجود یہ روایت مرسل ہے، جبکہ سعید بن عبدالرحمن اور محاضر بن مورع نے اسے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے یحییٰ بن عباد سے اور انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے موصولاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17964]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ: سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمًا لِذِي الْقُرْبَى لِصَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَيْرِ، وَسَهْمَيْنِ لِلْفَرَسِ".
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے لیے خیبر کے دن چار حصے مقرر کیے تھے: ایک حصہ ان کا اور ایک ان کے قریبی کا، صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر کی ماں کا، اور دو حصے گھوڑے کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17965]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف