السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 17986
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِهِ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ سَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] . وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ بِأَسْرِهَا فِي أَهْلِ بَدْرٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا خَالِصًا، وَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ، وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ ثَمَانِيَةَ نَفَرٍ لَمْ يَشْهَدُوا الْوَقْعَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً".
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہو گیا تو اللہ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کر دیا۔ یہ اللہ سے ڈرنے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا ہے، سورہ انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کا سارا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے افراد شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے، جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا؛ ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17986]
ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا ہے، سورہ انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کا سارا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے افراد شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے، جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا؛ ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17986]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17987
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَلَمْ يَشْهَدْهَا، ثُمَّ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَمَنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ وَجِعَةً ⦗٩٩⦘ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ". فَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَمَّا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَّعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ أَهْلِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فِي أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِي الرَّدِّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنَّمَا أَعْطَاهُمْ مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّمَا نَزَلَتْ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] بَعْدَ غَنِيمَةِ بَدْرٍ".
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں جانے اور نہ جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں حاضر ہونے والوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور جو غیر حاضر تھے ان میں سے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو حصہ دیا، وہ اپنی بیوی رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کا حصہ دیا تو انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور میرا ثواب؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی۔“ اور طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب رضی اللہ عنہ یہ شام میں تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حصہ دیا تو انھوں نے ثواب کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی تجھے ملے گا۔“
اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ، یہ بھی شام سے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ دیا اور اجر و ثواب کے بارے میں بھی فرمایا کہ ”ملے گا۔“ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بھیج دیا تھا، اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس کر دیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا، اور خوات بن جبیر بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ رحمہما اللہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17987]
اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ، یہ بھی شام سے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ دیا اور اجر و ثواب کے بارے میں بھی فرمایا کہ ”ملے گا۔“ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بھیج دیا تھا، اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس کر دیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا، اور خوات بن جبیر بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ رحمہما اللہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17987]
حدیث نمبر: 17988
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ:" نَزَلَتْ فِي أَهْلِ بَدْرٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِهِ مِنْ وَقْعَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، وَابْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ، وَقَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ، وَكَانَتْ وَقْعَتُهُمْ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَتَوَقَّفُوا فِيمَا صَنَعُوا، حَتَّى نَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧] ، وَلَيْسَ مِمَّا خَالَفَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ بِسَبِيلٍ". قَالَ الشَّيْخُ: فذَكَرْنَا قِصَّةَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَايَةِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ انفال کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ابن حضرمی کے واقعہ سے جو دلیل لی جاتی ہے، یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے، جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انہوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔“ اور اس کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں جس میں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے اختلاف کیا گیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قصہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہو گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17988]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ابن حضرمی کے واقعہ سے جو دلیل لی جاتی ہے، یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے، جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انہوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔“ اور اس کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں جس میں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے اختلاف کیا گیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قصہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہو گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17988]
حدیث نمبر: 17989
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗١٠٠⦘ جَحْشٍ إِلَى نَخْلَةَ، فَقَالَ لَهُ:" كُنْ بِهَا حَتَّى تَأْتِيَنَا بِخَبَرٍ مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ"، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِقِتَالٍ وَذَلِكَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يُعْلِمَهُ أَيْنَ يَسِيرُ، فَقَالَ:" اخْرُجْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ حَتَّى إِذَا سِرْتَ يَوْمَيْنِ فَافْتَحْ كِتَابَكَ وَانْظُرْ فِيهِ فَمَا أَمَرْتُكَ فِيهِ فَامْضِ لَهُ، وَلَا تَسْتَكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الذَّهَابِ مَعَكَ"، فَلَمَّا سَارَ يَوْمَيْنِ فَتْحَ الْكِتَابَ، فَإِذَا فِيهِ أَنِ امْضِ حَتَّى تَنْزِلَ نَخْلَةَ، فَتَأْتِيَنَا مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ بِمَا يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ سَمْعًا وَطَاعَةً، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَهُ رَغْبَةٌ فِي الشَّهَادَةِ فَلْيَنْطَلِقْ مَعِي فَإِنِّي مَاضٍ لِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَرِهَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَرْجِعْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانِي أَنْ أَسْتَكْرِهَ مِنْكُمْ أَحَدًا. فَمَضَى مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبُحْرَانَ أَضَلَّ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِيرًا لَهُمَا كَانَا يَعْتَقِبَانِهِ، فَتَخَلَّفَا عَلَيْهِ يَطْلُبَانِهِ، وَمَضَى الْقَوْمُ حَتَّى نَزَلُوا نَخْلَةَ، فَمَرَّ بِهِمْ عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ كَيْسَانَ، وَعُثْمَانُ وَالْمُغِيرَةُ ابْنَا عَبْدِ اللهِ، مَعَهُمْ تِجَارَةٌ قَدِمُوا بِهَا مِنَ الطَّائِفِ أُدُمٌ وَزَبِيبٌ، فَلَمَّا رَآهُمُ الْقَوْمُ أَشْرَفَ لَهُمْ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ قَدْ حَلَقَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ حَلِيقًا قَالُوا: عُمَّارٌ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْهُمْ بَأْسٌ، وَائْتَمَرَ الْقَوْمُ بِهِمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَجَبٍ، فَقَالُوا: لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَتَقْتُلُونَهُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَلَئِنْ تَرَكْتُمُوهُمْ لَيَدْخُلُنَّ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْحَرَمَ فَلَيَمْتَنِعُنَّ مِنْكُمْ، فَأَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَى قَتْلِهِمْ، فَرَمَى وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَكَمَ بْنَ كَيْسَانَ، وَهَرَبَ الْمُغِيرَةُ وَأَعْجَزَهُمْ، وَاسْتَاقُوا الْعِيرَ فَقَدِمُوا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ:" وَاللهِ مَا أَمَرْتُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ". فَأَوْقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسِيرَيْنِ وَالْعِيرَ، فَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أُسْقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَظَنُّوا أَنْ قَدْ هَلَكُوا، وَعَنَّفَهُمْ إِخْوَانُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ حِينَ بَلَغَهُمْ أَمْرُ هَؤُلَاءِ: قَدْ سَفَكَ مُحَمَّدٌ الدَّمَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَأَخَذَ فِيهِ الْمَالَ، وَأَسَرَ فِيهِ الرِّجَالَ، وَاسْتَحَلَّ الشَّهْرَ الْحَرَامَ. فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} [البقرة: ٢١٧] ، يَقُولُ: الْكُفْرُ بِاللهِ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ، فَلَمَّا نَزَلَت ذَلِكَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيرَ، وَفَدَى الْأَسِيرَيْنِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: أَتَطْمَعُ لَنَا أَنْ تَكُونَ غَزْوَةً، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا} [البقرة: ٢١٨] ، إِلَى قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ}، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَكَانُوا ثَمَانِيَةً وَأَمِيرُهُمُ التَّاسِعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ"..
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو نخلہ کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم وہاں رہو اور قریش کے بارے میں خبر دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قتال کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ حرمت والے مہینے کا واقعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خط دیا اس سے پہلے کہ ان کو بتاتے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ اور دو دن سفر کے بعد اس کو کھولنا اور دیکھنا میں نے تم کو کیا حکم دیا ہے اور اس پر عمل کرنا اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔“ جب انہوں نے دو دن سفر کر لیا تو خط کو کھولا، اس میں لکھا تھا: ”سفر جاری رکھو حتیٰ کہ نخلہ میں پڑاؤ کرو اور جو قریش کے بارے میں تم کو پتہ چلے اس کی ہمیں خبر دو۔“
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے، جو شہادت کا متلاشی ہے وہ میرے ساتھ چلے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے چلوں گا، جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے، جب بحران کے مقام پر پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ گم ہو گیا، وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ نخلہ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ گزرے، آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مالِ تجارت بھی تھا، وہ طائف سے چمڑا اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو سیدنا واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نگرانی کی، انہوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا تو کہا: ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں، تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہو جائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا، لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا، ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا، اس میں مال لیا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے: اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے عرض کیا: کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 218] ”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17989]
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے، جو شہادت کا متلاشی ہے وہ میرے ساتھ چلے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے چلوں گا، جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے، جب بحران کے مقام پر پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ گم ہو گیا، وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ نخلہ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ گزرے، آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مالِ تجارت بھی تھا، وہ طائف سے چمڑا اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو سیدنا واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نگرانی کی، انہوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا تو کہا: ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں، تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہو جائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا، لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا، ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا، اس میں مال لیا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے: اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے عرض کیا: کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 218] ”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17989]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ⦗١٠١⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ بِمَعْنَى هَذَا، قَالَ:" وَذَلِكَ فِي رَجَبٍ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ فِي الْغَنَائِمِ".
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ، عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کو نقل فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدر کے معرکے سے دو ماہ پہلے رجب میں پیش آیا اور اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ یہ واقعہ غنیمتوں کی تقسیم کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے پہلے کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17990]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3583. -- باب: السرية تأخذ العلف والطعام
-- باب: فوجی دستے کا چارہ اور کھانا حاصل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17991
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مُحَاصِرِينَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ، فَأَخَذْتُهُ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے ایک تھیلی پھینکی، میں نے وہ پکڑ لی، جب میں پلٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سامنے تھے تو مجھے حیا آئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17991]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17992
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْقَيْسِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأَخَذْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ، فَقُلْتُ: هَذَا لِي لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ". قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هُوَ لَكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کی ایک تھیلی لٹکائی گئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اپنے قبضے میں لے لیا اور کہا: یہ میری ہے کسی کو اس میں سے نہیں دوں گا۔ جب میں پلٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے پایا تو مجھے شرم آئی۔
سلیمان کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ جبکہ شعبہ کی روایت میں نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17992]
سلیمان کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ جبکہ شعبہ کی روایت میں نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17992]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17993
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نُصِيبُ فِي الْمَغَازِي الْعَسَلَ أَوِ الْفَاكِهَةَ فَنَأْكُلُهُ وَلَا نَرْفَعُهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ حَمَّادٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوات میں ہمیں شہد اور پھل ملتے تھے ہم ان کو کھا لیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لاتے تھے۔ بخاری کی روایت میں شہد اور انگور کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17993]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17994
وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" كُنَّا نَأْتِي الْمَغَازِيَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ الْعَسَلَ وَالسَّمْنَ فَنَأْكُلُهُ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي ⦗١٠٢⦘ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، فَذَكَرَهُ.
ابن مبارک نے یہ روایت حماد بن زید سے نقل کی ہے، اس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں جاتے تو ہمیں شہد اور گھی ملتا، ہم اس کو کھا لیتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17994]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17995
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا الزُّبَيْرُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ. وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک لشکر غنیمت میں شہد اور کھانا لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17995]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن