السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَدَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَبْدِيَّ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَتَلَهُ بِالْبَادِيَةِ أَوِ الْأَثِيلِ صَبْرًا، وَأَسَرَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا". قَالَ الشَّيْخُ:" وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْقَسْمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ صَاحِبِ الْمَغَازِي".
امام شافعی رحمہ اللہ اہل مغازی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نضر بن حارث عبدری کو بدر کے دن الصفرہ یا اثیل کے مقام پر باندھ کر قتل کر دیا، یہی سلوک عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18025]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ بِالْأُسَارَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ أَنْ يَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ يَقُولُ: يَا وَيْلَاهُ، عَلَامَ أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعَدَاوَتِكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ". فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنُّكَ أَفْضَلُ، فَاجْعَلْنِي كَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِي إِنْ قَتَلْتَهُمْ قَتَلْتَنِي، وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَيْهِمْ مَنَنْتَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كُنْتُ كَأَحَدِهِمْ، يَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّارُ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ، قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ".
محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عرقِ ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کر دیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا: ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے۔“ تو عقبہ نے کہا: اے محمد! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں، اگر آپ ان کو قتل کریں تو مجھے بھی قتل کر دیں، اگر ان پر احسان کریں تو مجھ پر بھی احسان کریں اور اگر ان سے فدیہ لیں تو میں بھی ان میں سے ایک کی طرح ہوں گا۔ اے محمد! بچوں کا کون ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے آگ ہے۔“ ”اے عاصم بن ثابت! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18026]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 18027
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا، فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ، أَنَّ ⦗١١١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ قَالَ:" النَّارُ"، قَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسروق رحمہ اللہ کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے کسی کو عامل بنانا چاہتے ہیں؟ تو مسروق رحمہ اللہ نے عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور وہ ہمارے نزدیک حدیث میں قابلِ اعتماد تھے، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے کہا تھا: بچوں کا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ۔“ میں تیرے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18027]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18028
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ." وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ آپ سے لڑائی نہ کرے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور احد کے دن آپ سے لڑائی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ وہ بچ کر نہ نکلے، چنانچہ مشرکین میں سے اس کے علاوہ کوئی اور شخص قیدی نہ بنایا گیا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! مجھ پر احسان فرمائیں اور مجھے میری بیٹیوں کی خاطر چھوڑ دیں، میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں،) تم مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہو گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18028]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْجُمَحِيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي خَمْسَ بَنَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ شَيْءٌ فَتَصَدَّقْ بِي عَلَيْهِنَّ، فَفَعَلَ، وَقَالَ أَبُو عَزَّةَ: أُعْطِيكَ مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أُكْثِرَ عَلَيْكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ جَاءَهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَهُ، فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ يَجْعَلَ بَنَاتِهِ مَعَ بَنَاتِهِ إِنْ قُتِلَ، وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى خَرَجَ مَعَ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأُسِرَ وَلَمْ يُؤْسَرْ غَيْرُهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ كَرْهًا وَلِي بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ مَا أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ؟ لَا، وَاللهِ لَا تَمْسَحُ عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ عَادَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عبد جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کر دیا۔ ابو عزہ نے کہا: نہ تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوۂ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا، تو ابو عزہ نے کہا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے، تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا، اگر وہ قتل کر دیا گیا؛ اور اگر زندہ رہا تو اسے بہت زیادہ مال دیا جائے گا۔ پھر جب غزوۂ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا، تو اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے زبردستی لایا گیا، آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا وہ عہد و پیمان کہاں گیا جو تو نے مجھے دیا تھا؟ نہیں، اللہ کی قسم! تو مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہے گا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18029]
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18029]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 18030
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗١١٢⦘ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ" قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"، فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ دِينٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ وَقَدْ أَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلِيَّ، وَوَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبُلْدَانِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رِجَالٌ بِمَكَّةَ: أَصَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَاللهِ مَا صَبَوْتُ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ مِنَ الْيَمَامَةِ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا، وہ دستہ ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لایا جو یمامہ کے علاقے کا رئیس تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا حال اچھا ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو احسان کا شکریہ ادا ہو گا اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو طلب کریں جتنا چاہتے ہو مال مل جائے گا، رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر چلے گئے، جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حال دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تمہارا کیا ذہن ہے؟“ اس نے جواب دیا: اگر آپ احسان کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کا شکریہ ادا کیا جائے گا، اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہتے ہیں اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھر چھوڑ کر چلے گئے، جب تیسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے وہی جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو کھول دو۔“ چنانچہ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اقرار کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چہرہ ایسا نہ تھا جو مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ برا لگتا ہو مگر اب آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ برا مجھے کوئی دین نہیں لگتا تھا مگر اب آپ کا دین تمام دینوں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے کوئی شہر نہیں لگتا تھا مگر اب مجھے آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور آپ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی اور فرمایا: ”جاؤ عمرہ ادا کرو۔“ جب وہ مکہ آیا تو کسی کہنے والے نے کہا: تو صابی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا اللهَ حِينَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَرَضَ لَهُ أَنْ يُمَكِّنَهُ اللهُ مِنْهُ، وَكَانَ عَرَضَ لَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَأَرَادَ قَتْلَهُ، فَأَقْبَلَ ثُمَامَةُ مُعْتَمِرًا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَحَيَّرَ فِيهَا حَتَّى أُخِذَ، وَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُبِطَ إِلَى عَمُودٍ مِنْ عُمُدِ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَةُ هَلْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْكَ؟". قَالَ: وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ⦗١١٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَجَعَلْنَا - الْمَسَاكِينَ - نَقُولُ بَيْنَنَا: مَا نَصْنَعُ بِدَمِ ثُمَامَةَ؟، وَاللهِ لَأَكْلَةٌ مِنْ جَزُورٍ سَمِينَةٍ مِنْ فِدَائِهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ دَمِ ثُمَامَةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسَألْ مَالًا تُعْطَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوهُ فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا ثُمَامَ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ حَتَّى أَتَى حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَاغْتَسَلَ فِيهِ وَتَطَهَّرَ وَطَهَّرَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ لَقَدْ كُنْتَ وَمَا وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، ثُمَّ لَقَدْ أَصْبَحْتَ وَمَا وَجْهٌ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ قَدْ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا وَأَنَا عَلَى دِينِ قَوْمِي، فَبَشِّرْنِي صَلَّى الله عَلَيْكَ فِي عُمْرَتِي. فَبَشَّرَهُ وَعَلَّمَهُ، فَخَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَتْهُ قُرَيْشٌ يَتَكَلَّمُ بِأَمْرِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْإِسْلَامِ، قَالُوا: صَبَأَ ثُمَامَةُ، فَأَغْضَبُوهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا صَبَوْتُ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ مُحَمَّدًا، وَآمَنْتُ بِهِ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ ثُمَامَةَ بِيَدِهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ، وَكَانَتْ رِيفَ مَكَّةَ، مَا بَقِيتُ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَانْصَرَفَ إِلَى بَلَدِهِ، وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى جَهَدَتْ قُرَيْشٌ، فَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ثُمَامَةَ يُخَلِّي إِلَيْهِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ جب ثمامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کو اس پر قابو دے دے، وہ ابھی مشرک ہی تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پھر ثمامہ حالت شرک میں عمرہ کی غرض سے مدینہ میں سے گزر رہا تھا کہ صحابہ نے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پیش کر دیا۔ آپ کے حکم سے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! کیا حال ہے؟ کیا اللہ نے تیرے اوپر غلبہ دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اے محمد! اگر تو مجھے قتل کر دے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کریں گے تو معافی کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال چاہتے ہیں تو مال بھی دیا جائے گا۔“ اسے اس حالت میں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ دوسرے دن پھر آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا حال ہے ثمامہ!“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر مجھے قتل کر دیں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو تو دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسکین بیٹھ کر ثمامہ کے خون کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم! ثمامہ کے خون کی بجائے اس کے مقابلے میں موٹے تازے اونٹ فدیہ میں زیادہ بہتر رہیں گے۔ پھر صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”ثمامہ کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو گے تو مال بھی دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو رہا کر دو۔ اے ثمامہ! میں نے تجھے معاف کر دیا۔“ پھر ثمامہ نے مدینہ کے کسی باغ میں غسل کر کے اپنے کپڑوں اور جسم کو پاک کیا اور واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ میرے نزدیک برا نہ تھا، آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے لیے برا نہ تھا اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی شہر مجھے نہیں لگتا تھا۔“ پھر اس نے کہا: ”اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ محبوب نہیں، آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین اچھا نہیں لگتا اور آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر اچھا نہیں لگتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے دین پر ہی عمرہ کے لیے نکلا تھا، آپ میرے عمرہ کے بارے میں خوشخبری دیں۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔“ آپ نے خوشخبری بھی دی اور طریقہ بھی سکھایا۔ وہ عمرہ کی غرض سے نکلے۔ جب وہ مکہ آئے تو قریشیوں نے ان سے آپ کے دین کے بارے میں سنا تو کہنے لگے کہ ثمامہ بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے ثمامہ کو غصہ دلایا۔ ثمامہ کہنے لگے: ”میں بے دین نہیں ہوا، میں نے اسلام قبول کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لایا۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا (اور یمامہ سرسبز جگہ تھی) جب تک میں ہوں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں۔“ وہ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ جا کر مکہ کا غلہ روک دیا یہاں تک کہ قریش مشکل میں پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کیا کہ آپ ثمامہ کو خط لکھیں کہ وہ غلہ روانہ کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو غلہ روانہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18031]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الزُّبَيْرَ الْيَهُودِيَّ أَجْزِيهِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ يُنْكِرُ الرَّجُلُ أَخَاهُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِيَكَ الْيَوْمَ بِيَدٍ لَكَ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. قَالَ: فَافْعَلْ فَإِنَّ الْكَرِيمَ يَجْزِي الْكَرِيمَ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَكَ لِي. فَأَطْلَقَ عَنْهُ إِسَارَهُ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِي وَبَنِيَّ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَكَ وَبَنِيكَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: حَائِطٌ لِي فِيهِ أَعْذُقٌ لَيْسَ لِي وَلَا لِأَهْلِي عَيْشٌ إِلَّا بِهِ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَ لَهُ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِيسَانِ، وَذَكَرَ رِجَالَ قَوْمِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ، وَلَعَلَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَكُونَ أَبْقَاكَ لَخَيْرٍ. قَالَ الزُّبَيْرُ: أَسْأَلُكَ بِاللهِ يَا ثَابِتُ وَبِيَدِي الْخَصِيمِ عِنْدَكَ يَوْمَ بُعَاثٍ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِهِمْ، فَلَيْسَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ. ⦗١١٤⦘ فَذَكَرَ ذَلِكَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالزُّبَيْرِ فَقُتِلَ." وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ كَبِيرًا أَعْمَى".
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کر دیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جا سکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر سے پوچھتے ہیں: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا: بدلہ دو، معزز انسان کسی معزز کا ہی بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے اس قیدی کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا: میری بیوی اور بچے؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیوی اور بچے بھی واپس کر دیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا: میرا وہ باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزر اوقات تھی؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بھی ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا اہل و عیال اور مال واپس کر دیا ہے، ”مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو زبیر نے کہا: میرے ان دو ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے قتل سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی کے لیے ہی باقی رکھا ہے، تو زبیر نے کہا: اے ثابت! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میرے احسان کا بدلہ تب ہی ادا کر سکو گے جب مجھے بھی میرے ان ساتھیوں کے ساتھ ملا دو، کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18033
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ:" لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَخَلَّيْتُهُمْ لَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا تو وہ مجھ سے ان بدبودار اشخاص کے بارے میں کلام کرتا تو اس کی وجہ سے میں ان کو رہا کردیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣١٣٩-٤٠٢٤»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18034
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنَبٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ" ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَفَا عَنْهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: ٢٤] . أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادٍ.
ثابت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکہ کے اسی افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر جبل تنعیم سے اتر کر نماز فجر کے وقت حملے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر معاف کر دیا۔ قرآن نازل ہوا: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سے تمہیں بچایا اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو مکہ کی وادی میں محفوظ رکھا تمہارے غلبہ حاصل کر لینے کے بعد۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18034]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٨٠٨»
الحكم على الحديث: صحيح