السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18035
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَزَلَ مَنْزِلًا وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ تَحْتَهَا، فَعَلَّقَ النَّاسُ سِلَاحَهُمْ فِي شَجَرَةٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى سَيْفِهِ فَأَخَذَهُ وَسَلَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُ". فَشَامَ الْأَعْرَابِيُّ السَّيْفَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَأَخْبَرَهُمْ بِصَنِيعِ الْأَعْرَابِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِهِ لَمْ يُعَاقِبْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا تو لوگ کانٹے دار درختوں کے سایہ کی تلاش میں نکلے۔ لوگوں نے اپنا اسلحہ درختوں پر لٹکا دیا۔ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ کر سونت کر کہنے لگا: ”آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ۔“ دیہاتی نے تلوار رکھ دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بلایا اور دیہاتی کی حرکت کی خبر دی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزا نہ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18035]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18036
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ نَحْوَ ⦗١١٥⦘ هَذَا، وَيَذْكُرُ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْعَرَبِ أَرَادُوا أَنْ يَفْتِكُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ، وَيَتْلُو: {اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ} الْآيَةَ".
قتادہ رحمہ اللہ اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ عرب کی ایک قوم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے سے قتل کرنے کی سازش کی تو انہوں نے اس دیہاتی کو بھیجا، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ﴾ [سورة المائدة: 11] ”تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب ایک قوم نے (ہلاک) کرنے کا قصد کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18037
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالنَّفْسِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فقَالَ: بِمَ أَخَذْتَنِي، وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ:" إِعْظَامًا لِذَاكَ أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي. قَالَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ". قَالَ: فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے، تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا اور اس کے ساتھ عضباء (اونٹنی) بھی پکڑ لی۔ وہ بندھا ہوا تھا، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے؟ اور حاجیوں سے آگے نکلنے والی (اونٹنی عضباء) کو کیوں پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بڑی بات ہے، تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم اور رقیق القلب تھے، اس لیے واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں، پانی پلاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٦٤»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ"." قَالَ سُفْيَانُ:" يَعْنِي أَخَذَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کے فدیے میں مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دو آدمی لیے اور مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18038]
حدیث نمبر: 18039
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالْمَالِ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ:" مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ ⦗١١٦⦘ وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ؛ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا. قَالَ:" فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ: فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. قَالَ: الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: ٦٧] الْآيَةَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، زَادَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩] ، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہیں): جب بدر کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے اور ہمیں مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میری رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں، ان کے سر تن سے جدا کر دیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول فرمایا اور میری رائے قبول نہ فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کر دیا ہے؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے (ہی) رو لوں۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی وجہ سے جو تمہارے ساتھیوں نے (فدیہ لینے کے بارے میں) میرے سامنے پیش کی، تمہارا عذاب مجھے اس درخت سے بھی زیادہ قریب دکھایا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں (دشمن کا) خون بہا لے۔ تم دنیا کا مال و متاع چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔““ (ب) عکرمہ بن عمار رحمہ اللہ نے کچھ اضافہ کیا ہے: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69] ”پس جو کچھ تم نے غنیمت پایا ہے اسے حلال اور طیب سمجھ کر کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18039]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٦٣»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ:" إِنْ شِئْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَادَيْتُمُوهُمْ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِالْفِدَاءِ وَاسْتُشْهِدَ مِنْكُمْ بِعُدَّتِهِمْ". قَالَ: فَكَانَ آخِرُ السَّبْعِينَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ". زَادَ الْبُرُلُّسِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ عَرْعَرَةَ: رَدَدْتُ هَذَا عَلَى أَزْهَرَ فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَقُولَ: عُبَيْدَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبیدہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر تم قتل کرنا یا فدیہ لینا چاہو اور فدیہ سے فائدہ اٹھاؤ اور اتنی تعداد میں تمہارے ساتھی شہید کیے جائیں گے۔“ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ان ستر میں سے آخری تھے جو یمامہ کے دن شہید کیے گئے۔
(ب) برلسی نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عرعرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ معاملہ ازہر پر پیش کیا تو اس نے انکار کر دیا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ عبیدہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18040]
(ب) برلسی نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عرعرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ معاملہ ازہر پر پیش کیا تو اس نے انکار کر دیا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ عبیدہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18040]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ الْأُسَارَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعَمِائَةٍ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے فدیہ میں جاہلیت کے چار سو لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18041]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ:" وَكَانَ فِي ⦗١١٧⦘ الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَدِمَ ابْنُهُ الْمُطَّلِبُ الْمَدِينَةَ فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَانْطَلَقَ بِهِ، ثُمَّ بَعَثَ قُرَيْشٌ فِي فِدَاءِ الْأُسَارَى، فَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: اجْعَلُوا رِجْلِيَّ مَكَانَ رِجْلِهِ وَخَلُّوا سَبِيلَهُ حَتَّى يُبْعَثَ إِلَيْكَم بِفِدَائِهِ. فَخَلَّوْا سَبِيلَ سُهَيْلٍ وَحَبَسُوا مِكْرَزًا. قَالَ: فَفَدَى كُلُّ قَوْمٍ أَسِيرَهُمْ بِمَا رَضُوا. قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فِدَاءً الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَذَلِكَ لَأَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، فَافْتَدَى نَفْسَهُ بِمِائَةِ أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ".
ابن اسحاق بدر کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو وداعہ سہمی بدری قیدی تھا، اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چار ہزار درہموں میں حاصل کیا۔ قریشیوں نے اس کے اور اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے۔ مکرز بن حفص، سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا، اس نے کہا: سہیل کی جگہ مجھے قید کر لو، جب اس کا فدیہ آئے گا مجھے چھوڑ دینا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سہیل کو چھوڑ کر مکرز کو قید کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: تمام قوم نے اپنے قیدیوں کا فدیہ دیا، جتنے پر وہ راضی ہوئے اور بدر کے قیدیوں میں سے سب سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ مالدار آدمی تھے، انہوں نے ایک سو اوقیہ سونا ادا کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18042]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18043
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا الْقَبَّانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا:" ائْذَنْ لَنَا فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَاءَهُ. فَقَالَ:" وَاللهِ لَا تَذَرُونَ دِرْهَمًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ،" وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ قَدْ مَضَتْ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاری لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، انہوں نے عرض کی کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس رضی اللہ عنہ کا فدیہ معاف کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18043]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٥٣٧- ٣٠٤٩-٤٠١٨»
الحكم على الحديث: صحيح
3592. -- باب: قتل المشركين بعد الإسار بضرب الأعناق دون المثلة
-- باب: مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد مثلہ (اعضاء کاٹنے) کے بجائے گردنیں اڑا کر قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد رکھی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو احسن انداز سے اور جب تم ذبح کرو تب بھی احسن انداز سے ذبح کرو اور اپنی چھری کو تیز کر کے اپنے ذبیحہ کو راحت دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥٥»
الحكم على الحديث: صحيح