السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3585. -- باب: ما فضل في يده من الطعام والعلف في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مجاہد کے پاس جو کھانا اور چارہ بچ جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18006
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ حَرْشَفٍ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُنَّا نَأْكُلُ الْجُزُرَ فِي الْغَزْو وَلَا نَقْسِمُهُ، حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وَأَخْرِجَتُنَا مِنْهُ مُمْلَأَةٌ".
عبد الرحمن کے مولیٰ قاسم اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم غزوات میں گوشت کھاتے تھے اور تقسیم نہیں کرتے تھے، جب ہم گھروں کو آتے تو ہماری تھیلیاں اس سے بھری ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18006]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18007
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ:" يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ بَعْضِ النَّاسِ مِثْلُ مَا قُلْتُ مِنْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا فِي بِلَادِ الْعَدُوِّ وَلَا يَخْرُجُوا بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ. فَإِنْ كَانَ مِثْلُ هَذَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا حُجَّةَ لِأَحَدٍ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ لِأَنَّ فِي رِجَالِهِ مَنْ يُجْهَلُ، فَكَذَلِكَ فِي رِجَالِ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ إِحْلَالُهُ مَنْ يُجْهَلُ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَكَأَنَّهُ أَرَادَ بِالْأَوَّلِ حَدِيثَ الْوَاقِدِيِّ، وَأَرَادَ بِالثَّانِي مَا ذَكَرْنَا بَعْدَهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں سے روایت بیان کی گئی ہے جس طرح میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اجازت دی ہے کہ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت کھا لیں، لیکن اس میں سے کچھ نہ نکالو۔“ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اس کی موجودگی میں دوسری کوئی دلیل نہیں ہے اور اگر یہ ثابت نہ ہو کیونکہ اس میں ایک مجہول ہے تو اسی طرح جن راویوں سے اس کی حلت مروی ہے ان میں بھی مجہول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18007]
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18008
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي امْرُؤٌ مَتْجَرِي بِالْأَيْلَةِ، وَإِنِّي أَمْلَأُ بَطْنِي مِنَ الطَّعَامِ، فَأَصْعَدُ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَآكُلُ مِنْ تَمْرِهِ وَبُسْرِهِ فَمَا تَرَى؟ قَالَ الْحَسَنُ: غَزَوْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا صَعِدُوا إِلَى الثِّمَارِ أَكَلُوا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفْسِدُوا أَوْ يَحْمِلُوا".
ابوحمزہ عطار رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا: اے ابوسعید! میں ایسا آدمی ہوں جس کی تجارت کا مقام (ابلہ) کی جگہ ہے، میں اپنا کھانے بھر لیتا ہوں، پھر دشمن کے علاقہ میں جاتا ہوں اور وہاں خشک اور تر کھجور کھاتا ہوں، اس کو آپ کیسا دیکھتے ہو؟ تو حسن رحمہ اللہ نے کہا: ہم عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، جب وہ پھلوں کی طرف چڑھتے تو اس سے کھا لیتے تھے مگر خراب نہیں کرتے تھے اور نہ ساتھ اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18008]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3586. -- باب: النهي عن نهب الطعام
-- باب: کھانا لوٹنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18009
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شدید بھوک لگی، ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملیں، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں تھے، تو لوگوں نے جلدی کی اور انہوں نے جانور ذبح کیے اور ہانڈیاں چڑھا دیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ہانڈیاں الٹا دی گئیں، پھر آپ نے ان کو تقسیم کیا، ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں رکھی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18009]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ، فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا، وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي عَلَى فَرَسِهِ فَأَكْفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِهِ، ثُمَّ جَعَلَ يُرَمِّلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ النُّهْبَةَ لَيْسَ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ، أَوْ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ النُّهْبَةِ". الشَّكُّ مِنْ هَنَّادٍ.
انصار کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے، لوگوں کو مسلسل کام کی وجہ سے کھانے کی سخت حاجت ہوئی، ان کو کچھ بکریاں مالِ غنیمت میں ملیں، ان لوگوں نے ان میں سے کچھ لے لیں اور اس وقت ہنڈیاں پک رہی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے اور اپنی کمان سے ہنڈیوں کو الٹا رہے تھے اور گوشت میں مٹی ملا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹی ہوئی چیز مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے“ یا فرمایا: ”مردار لوٹی ہوئی چیز سے زیادہ حلال نہیں ہے۔“ یعنی یہ دونوں حرام ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18010]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3587. -- باب: أخذ السلاح وغيره بغير إذن الإمام
-- باب: امام کی اجازت کے بغیر ہتھیار وغیرہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ التُّجِيبِيِّ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّبَئِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ عَامَ حُنَيْنٍ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْقِيَنَّ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ دَابَّةٍ مِنَ الْمَغَانِمِ فَيَرْكَبَهَا حَتَّى إِذَا نَقَصَهَا رَدَّهَا فِي الْمَغَانِمِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِي الْمَغَانِمِ".
سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنا پانی غیر کے بچے کو نہ پلائے، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ غنیمت کے مال سے کوئی جانور نہ لے، اگر لے اور اس کو بوڑھا کر دے، تب بھی وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ غنیمت سے کچھ لباس نہ پہنے، اگر لے کر اس کو بوسیدہ بھی کر دے، تو وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18011]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ⦗١٠٦⦘ وَخَالِدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى، فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ:" لِلَّهِ خُمُسُهَا وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِلْجَيْشِ". قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ لَيْسَ أَنْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ".
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ میں تھے، اس نے غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے، باقی چار حصے لشکر کے لیے ہیں۔“ اس نے کہا: کیا کسی کو کسی پر فوقیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، حتیٰ کہ وہ تیر جس کو تم اپنے پہلو سے نکالو، اس میں بھی تم اپنے بھائی سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18012]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3588. -- باب: الرخصة في استعماله في حال الضرورة
-- باب: بوقتِ ضرورت اسے استعمال کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ صَرِيعٌ، وَعَلَيْهِ بَيْضَةٌ، وَمَعَهُ سَيْفٌ جَيِّدٌ، وَمَعِي سَيْفٌ رَدِيٌّ، فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَهُ بِسَيْفِي وَأَذْكُرُ نَقْفًا كَانَ يَنْقُفُ رَأْسِي بِمَكَّةَ، حَتَّى ضَعُفَتْ يَدُهُ فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: عَلَى مَنْ كَانَتِ الدَّبَرَةُ؟ أَكَانَتْ لَنَا، أَوْ عَلَيْنَا؟ أَلَسْتَ رُوَيْعِيَنَا بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَتَلْتَهُ؟". فَاسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ مَعِي إِلَيْهِمْ فَدَعَا عَلَيْهِمْ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی جبکہ میری تلوار ہلکی تھی۔ میں نے اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا، اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اسے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہو گیا، پھر میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا: شکست کس کو ہوئی؟ کیا ہمیں یا ان کو؟ اور مجھ سے کہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ» ”اللہ کی قسم! وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے“، کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی، پھر وہ میرے ساتھ گئے، پھر ان کے لیے بددعا فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18013]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18014
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ فِي الْقَتْلَى صَرِيعٌ وَمَعِي سَيْفٌ رَثٌّ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي فَلَمْ يَعْمَلْ شَيْئًا. قَالَ: وَنَظَرَ إِلِيَّ، فَقَالَ: أَرُوَيْعِينَا بِمَكَّةَ؟ فَوَقَعَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ أَشْتَدُّ حَتَّى أَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتَ قَتَلْتَهُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، حَتَّى اسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفْتُ لَهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ". فَانْطَلَقَ فَأَرَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ:" كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ". وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ابو جہل کے پاس آیا، وہ مقتولین میں نیم مردہ پڑا تھا۔ میرے پاس پرانی تلوار تھی۔ میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارنا شروع کر دیا، وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا؟ اسی اثناء میں اس کی تلوار گر گئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو اس کی تلوار سے قتل کر دیا۔ پھر میں جلدی جلدی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین قسمیں لیں۔ میں نے قسمیں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو مجھے اس کو دکھاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18014]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18015
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَقِيتُ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حِمَارُ الْيَمَامَةِ، رَجُلًا جَسِيمًا بِيَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ، فَضَرَبْتُ رِجْلَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَتْهُ فَانْقَعَرَ فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ وَأَغْمَدْتُ سَيْفِي، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً حَتَّى انْقَطَعَ فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي".
سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ سے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا، اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی، میں نے اس کی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہوگئی، اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گر گیا، میں نے اس کی تلوار کو پکڑا اور اپنی تلوار کو میان میں رکھا، میں نے اس سے ایک ہی وار کیا تھا کہ وہ ٹوٹ گئی، تو میں نے اسے پھینک دیا اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18015]