🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3612. -- باب: أمان المرأة
-- باب: عورت کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18174
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا لِيَقْتُلَهُمَا، وَقَالَ: لِمَ تُجِيرِي الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا تَقْتُلُهُمَا حَتَّى تَبْدَأَ بِي قَبْلَهُمَا. فَخَرَجَتْ، وَقَالَتْ: أَغْلِقُوا دُونَهُ الْبَابَ، وَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ:" مَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ".
ابو مرہ، عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اپنے دو مشرک دیوروں کو پناہ دی تو علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے قتل کا ارادہ کیا اور کہا: تو نے مشرکین کو کیوں پناہ دی ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا: ان کے قتل سے پہلے مجھے قتل کرو۔ پھر وہ باہر نکلیں اور کہا: اس (علی رضی اللہ عنہ) کے آگے دروازہ بند کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! اسے اس کا حق نہیں تھا۔ جس کو تو نے امن دیا ہم بھی امن دیتے ہیں، جس کو تو نے پناہ دی ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18174]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18175
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ، وَأَبُو صَادِقٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ⦗١٦٢⦘ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ مَنْ أَجَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے بھائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ہے کہ جس کو میں نے پناہ دی ہے اس کو قتل کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تو نے پناہ دی ہے ہم نے بھی پناہ دے دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18175]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18176
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتَأْخُذُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَيُجَوِّزُونَ ذَلِكَ لَهَا".
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر عورت مسلمانوں کے خلاف پناہ دے دے تو وہ اس کے پناہ دینے کو جائز خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18176]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا زَوْجُهَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ أَنْ خُذِي لِي أَمَانًا مِنْ أَبِيكِ، فَخَرَجَتْ فَأَطْلَعَتْ رَأْسَهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ. فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَعْلَمْ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُمُوهُ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خاوند ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پناہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ چلی تو ان کا سر حجرہ سے باہر نظر آ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ فرمانے لگیں: میں زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہوں، میں نے ابو العاص کو پناہ دی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں بھی اس کے بارے میں جانتا نہ تھا جو تم نے سنا، خبردار! مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18177]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصة»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَجَارَ بِهَا، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ، فَلَمَّا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ صَرَخَتْ زَيْنَبُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ. فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ سَمِعْتُمْ مَا سَمِعْتُ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ حَتَّى سَمِعْتُ مِنْهُ مَا سَمِعْتُمْ، إِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ". ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَقْرَبَنَّكِ فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ وَلَا يَحِلُّ لَكِ"." هَكَذَا أُخْبِرْنَا فِي كِتَابِ الْمَغَازِي مُنْقَطِعًا، وَحُدِّثْنَا بِهِ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ فَذَكَرَهُ.
یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ جب ابو العاص بن ربیع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے پناہ کا مطالبہ کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے چلے گئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تکبیر کہی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم نے سنا جو میں نے سنا؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں!“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا یہاں تک کہ میں نے ان سے سنا جو تم نے بھی سنا ہے“ اور فرمایا: ”مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! اچھا ٹھکانا دو، لیکن وہ آپ کے قریب نہ آئے، کیونکہ تو اس کے لیے اور وہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔“
کتاب المغازی میں یہ روایت ہمیں اسی طرح منقطع سند کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
(ب) عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بلند آواز سے کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18178]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18179
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْبَهِيِّ، عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ إِنْ قَرُبَ فَابْنُ عَمٍّ، وَإِنْ بَعُدَ فَأَبُو وَلَدٍ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ. فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ⦗١٦٣⦘ وَقِيلَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابو العاص بن ربیع قریبی رشتہ دار چچا کا بیٹا ہے، اگر دور کی رشتہ داری ہو تو بچوں کا باپ ہے، میں نے اس کو پناہ دے دی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو پناہ دے دی۔
(ب) عبداللہ (البہی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18179]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3613. -- باب: كيف الأمان
-- باب: امان کس طرح دی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18180
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَإِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَأَرَادُوكُمْ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللهِ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ مَا أَحْبَبْتُمْ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: لَا تَخَفْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ: مِتْرَسٌ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: أَظُنُّهُ لَا تَدْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ:" وَإِنْ قَالَ لَا تَذْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ"..
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا؛ کیونکہ تم نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حکم پر اتارو، پھر اپنی مرضی کا ان کے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے: تو ڈر نہیں، اس نے تجھے امن دے دیا ہے اور جب اس نے لفظ «مَتْرَسْ» (متوسی) کہا تو اس نے امن دے دیا اور جب اس نے «لَا تَدْهَلْ» ”مت گھبراؤ“ کے الفاظ کہہ دیے تب بھی پناہ دے دی، اللہ تعالیٰ زبانوں کو جانتے ہیں۔
ثوری رحمہ اللہ اعمش رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ «لَا تَذْهَلْ» ”مت گھبراؤ“ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18180]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18181
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ مُحَاصِرُونَ قَصْرًا فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس وقت ہم ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18181]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18182
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ لَفْظًا، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَذَلِكَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَازِ قَدْ أُسِرَ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْهُرْمُزَانِ: أَيَسُرُّكَ أَنْ لَا تُقْتَلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِذَا قَرَّبُوكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَلَّمَكَ فَقُلْ: إِنِّي أَفْرَقُ أَنْ أُكَلِّمَكَ، فَيَقُولُ: لَا تَفْرَقْ، فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَكَ فَقُلْ: إِنِّي فِي أَمَانٍ، إِنَّكَ قُلْتَ لَا تَفْرَقْ. قَالَ: فَحَفِظَهَا الرَّجُلُ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ فِي بَعْضِ مَا يُسَائِلُهُ عَنْهُ:" إِنِّي أَفْرَقُ". يَعْنِي، فَقَالَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ:" فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ سَاءَلَهُ عَمَّا شَاءَ اللهُ"، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" إِنِّي قَاتِلُكَ"، قَالَ: فَقَالَ: فَقَدْ أَمَّنْتَنِي. فَقَالَ:" وَيْحَكَ مَا أَمَّنْتُكَ". قَالَ: قُلْتَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ:" صَدَقَ إِمَّا لَا فَأَسْلِمْ". قَالَ: نَعَمْ. فَأَسْلَمَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا: کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کیے جائیں؟ اس نے کہا: وہ کیسے؟ انھوں نے کہا: جب وہ تجھے امیر المؤمنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کریں تو تم کہنا: میں آپ سے بات کرنے سے ڈرتا ہوں، تو وہ کہیں گے: «لَا تَفْرَقْ» ”ڈرو نہیں“، پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا: میں امان میں ہوں، آپ نے «لَا تَفْرَقْ» کہا تھا۔ اس شخص نے یہ بات یاد کر لی۔ پھر جب اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کے دوران کہا: میں ڈرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: «لَا تَفْرَقْ» ”پریشان نہ ہو“۔ پھر جب آپ اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو اس سے جو اللہ نے چاہا پوچھا، پھر فرمایا: میں تجھے قتل کرنے والا ہوں۔ اس نے کہا: آپ نے مجھے امان دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا ناس ہو! میں نے تجھے امان نہیں دی۔ اس نے کہا: آپ نے «لَا تَفْرَقْ» کہا ہے۔ فرمایا: اس نے سچ کہا، اگر ایسا نہیں تو اسلام قبول کر لے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا، آگے طویل حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18182]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18183
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْهُرْمُزَانُ عَلَى حُكْمِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" تَكَلَّمْ"، قَالَ: كَلَامُ حَيٍّ، أَوْ كَلَامُ مَيِّتٍ؟ قَالَ:" تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ". قَالَ: إِنَّا وَإِيَّاكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّى اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، كُنَّا نَتَعَبَّدُكُمْ وَنَقْتُلُكُمْ وَنَغْصِبُكُمْ، فَلَمَّا كَانَ اللهُ مَعَكُمْ لَمْ يَكُنْ لَنَا يَدَانِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا تَقُولُ؟". فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بَعْدِي عَدُوًّا كَثِيرًا وَشَوْكَةً شَدِيدَةً، فَإِنْ قَتَلْتَهُ يَأْيَسِ الْقَوْمُ مِنَ الْحَيَاةِ وَيَكُونُ أَشَدَّ لِشَوْكَتِهِمْ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَسْتَحْيِي قَاتِلَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَمَجْزَأَةَ بْنِ ثَوْرٍ؟ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَهُ قُلْتُ: لَيْسَ إِلَى قَتْلِهِ سَبِيلٌ، قَدْ قُلْتَ لَهُ: تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ارْتَشَيْتَ وَأَصَبْتَ مِنْهُ". فَقَالَ: وَاللهِ مَا ارْتَشَيْتُ وَلَا أَصَبْتُ مِنْهُ. قَالَ:" لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا شَهِدْتَ بِهِ بِغَيْرِكَ أَوْ لَأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِكَ". قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ مَعِي، وَأَمْسَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَسْلَمَ، يَعْنِي الْهُرْمُزَانَ وَفَرَضَ لَهُ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے تستر کا محاصرہ کیا، ہرمزان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر نیچے اترا، میں اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر چلا، جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، اس نے پوچھا: زندہ والی بات کروں یا مردہ والی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، کوئی حرج نہیں، اس نے کہا: اے گروہ عرب! ہم اور آپ، جب تک اللہ نے ہمارے اور تمہارے درمیان معاملہ چھوڑے رکھا، ہم تم پر غالب تھے، تمہیں قتل کرتے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے، پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنے پیچھے بہت زیادہ دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے، اگر آپ اسے قتل کر دیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہو جائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہو جائے گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہما کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں؟ جب میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو میں نے کہا: آپ کے لیے اسے قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، آپ اسے کہہ چکے ہیں: بات کرو، کوئی حرج نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے رشوت لی ہے اور اس سے کچھ حاصل کیا ہے، میں نے کہا: قسم بخدا! نہ تو میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی اس سے کچھ حاصل کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو میرے پاس اس بات پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے ضرور سزا دے کر رہوں گا، کہتے ہیں: میں نکلا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ رک گئے اور ہرمزان مسلمان ہو گیا اور ان کے لیے وظیفہ مقرر کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18183]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں