السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3615. -- باب: الكافر الحربي يقتل مسلما ثم يسلم لم يكن عليه قود
-- باب: حربی کافر کسی مسلمان کو قتل کر دے پھر اسلام لے آئے تو اس پر قصاص نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18194
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ سَقَرَ بْنِ نَصْرٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ وَقَتْلِ حَرَامِ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي:" هَلْ لَكَ فِي قَاتِلٍ لِحَرَامٍ؟". قُلْتُ: مَا بَالُهُ فَعَلَ اللهُ بِهِ وَفَعَلَ. قَالَ: لَا تَفْعَلْ فَقَدْ أَسْلَمَ".
سیدنا ثابت رحمہ اللہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے اور سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں روایت کرتے ہیں، اس کے آخر میں فرماتے ہیں: اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمایا کرتے تھے: آپ کا حرام کے قاتل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اس کی کیا حالت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو کیا سو کیا۔ فرمانے لگے: وہ مسلمان ہو گیا ہے، آپ کچھ بھی نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3616. -- باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله
-- باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 18195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ:" غَزَوْنَا الْمَدِينَةَ، يُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُلْقِي بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَمَّا نَصَرَ اللهُ نَبِيَّهُ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ قُلْنَا: هَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥] ، فَالْإِلْقَاءُ بِأَيْدِينَا إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا وَنَدَعَ الْجِهَادَ". قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْمَعْنَى أَحَادِيثُ".
یزید بن ابی حبیب، اسلم ابی عمران سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ میں غزوہ کیا اور اس وقت امیر عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما تھے۔ رومی اپنی پشت شہر کے باغ کی دیوار سے لگائے کھڑے تھے۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ”رک جاؤ، رک جاؤ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ تو اپنا ہاتھ ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔“ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی؛ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا، تو ہم نے (آپس میں) کہا: آؤ! اب ہم اپنے مالوں میں رک جائیں اور ان کی اصلاح کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ پس اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں کی اصلاح میں لگ جائیں اور جہاد چھوڑ دیں۔“
ابو عمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں مدفون ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18195]
ابو عمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں مدفون ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم ١٧٩٢٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗١٦٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ". فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ." وَهَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَيْبَانَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں شہید کر دیا گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں، پھر لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18196]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ لَنَا طِلْبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا". فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، قَالَ:" لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا". فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْدِمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ". فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا". فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَسْبَسَةَ» ”بسبسہ“ کو جاسوس بنا کر روانہ کیا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا لشکر کیا کر رہا ہے؟ جب وہ واپس آئے تو (گھر میں) میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے (اپنی) بعض ازواج کا استثناء کیا (یا نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (باہر) نکلے اور فرمایا: ”جس کے پاس سواری (تیار) ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔“
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواریاں لے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، (صرف وہی چلے) جس کے پاس سواری (ابھی) موجود ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں (اجازت دے دوں)۔“ جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو (دوڑو) جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ!“ کے کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تو «بَخٍ بَخٍ» کے کلمات کہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! صرف اس امید پر کہ میں بھی اس کے باسیوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تو اس کے باسیوں میں سے ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیا، پھر کہنے لگے: اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں اور مشرکین سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18197]
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواریاں لے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، (صرف وہی چلے) جس کے پاس سواری (ابھی) موجود ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کسی چیز کی طرف پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں (اجازت دے دوں)۔“ جب مشرکین قریب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو (دوڑو) جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ!“ کے کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تو «بَخٍ بَخٍ» کے کلمات کہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! صرف اس امید پر کہ میں بھی اس کے باسیوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تو اس کے باسیوں میں سے ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانا شروع کیا، پھر کہنے لگے: اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں اور مشرکین سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18197]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٠١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18198
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: لَمَّا الْتَقَى النَّاسُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُضْحِكُ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عَبْدِهِ؟ قَالَ:" أَنْ يَرَاهُ قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْقِتَالِ يُقَاتِلُ حَاسِرًا". فَنَزَعَ عَوْفٌ دِرْعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
عاصم بن عمر بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کی بدر کے دن دشمن سے جنگ ہوئی تو سیدنا عوف بن عفراء بن حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس ادا پر مسکراتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن لڑائی میں کود پڑتا ہے۔“ تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ اتار دی، پھر آگے بڑھ کر لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18198]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَدْ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَخَبَّابًا سَرِيَّةً، وَبَعَثَ دِحْيَةَ سَرِيَّةً وَحْدَهُ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود اور خباب رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر، جب کہ دحیہ رضی اللہ عنہ کو اکیلے لشکر بنا کر روانہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18199]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَخَلَّفَ عَنْ أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ، فَرَأَى الطَّيْرَ عُكُوفًا عَلَى مَقْتَلَةِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: سَأَتَقَدَّمُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْعَدُوِّ فَيَقْتُلُونَنِي وَلَا أَتَخَلَّفُ عَنْ مَشْهَدٍ قُتِلَ فِيهِ أَصْحَابُنَا، فَفَعَلَ فَقُتِلَ، فَرَجَعَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا حَسَنًا، وَيُقَالُ قَالَ لِعَمْرٍو:" فَهَلَّا تَقَدَّمْتَ فَقَاتَلْتَ حَتَّى تُقْتَلَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَرِيَّةً وَحْدَهُمَا، وَبَعَثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ سَرِيَّةً وَحْدَهُ، وَقَدْ ذَكَرْنَا إِسْنَادَهُمَا فِي هَذَا الْكِتَابِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص بئرِ معونہ کے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس نے عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں بھی اپنے دشمنوں سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کر دیں اور اپنے ساتھیوں کی قتل گاہ سے پیچھے نہ ہٹوں گا۔“ اس نے ایسا ہی کیا، وہ شہید کر دیا گیا تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی۔ اور کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تو آگے بڑھ کر قتال نہیں کرتا یہاں تک کہ تجھے قتل کر دیا جائے؟“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کو لشکر بنا کر روانہ فرمایا اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو اکیلے ہی سریہ بنا کر روانہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18200]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3617. -- باب: الرجل يسرق من المغنم وقد حضر القتال
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے مالِ غنیمت میں سے چوری کی حالانکہ وہ جنگ میں شریک تھا۔
حدیث نمبر: 18201
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا جُبَارَةُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقْطَعْهُ فَقَالَ:" مَالُ اللهِ سَرَقَ بَعْضُهُ بَعْضًا". وَهَذَا إِسْنَادٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ مِغْفَرًا مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمْ يَقْطَعْهُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خمس کے غلاموں میں سے کسی غلام نے خمس کا مال چرا لیا، معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا اور فرمایا: ”اللہ کا مال ہے اس کے بعض حصے نے بعض کو چرایا ہے۔“ (ب) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مال غنیمت سے ٹوپ چرا لیا، آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
اس سند میں ضعف ہے، اور یہ روایت ایک دوسری سند سے میمون بن مہران کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18201]
اس سند میں ضعف ہے، اور یہ روایت ایک دوسری سند سے میمون بن مہران کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18201]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3618. -- باب: الغلول قليله وكثيره حرام
-- باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا، تھوڑا ہو یا زیادہ، حرام ہے۔
حدیث نمبر: 18202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، ⦗١٧١⦘ إِنَّمَا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالْأَمْوَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا نَحْوَ وَادِي الْقُرَى، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ رِفَاعَةُ بْنُ بَدْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبِيبٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَمَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي غَلَّهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے تو سونا، چاندی مالِ غنیمت میں نہ ملا بلکہ عام مال حاصل ہوا۔ پھر ہم وادی القریٰ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غلام تھا، جو رفاعہ بن بدر (بنو خبیب کے آدمی) نے دیا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ ایک اجنبی تیر اس کو لگ گیا جس کی وجہ سے وہ فوت ہو گیا۔ لوگوں نے اسے جنت کی بشارت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے خیبر کے مالِ غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ایک چادر چرائی تھی، وہ آگ بن کر اس پر لپٹی ہوئی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18203
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ فِي النَّارِ". فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَلَيْهِ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر مقرر تھا جس کا نام کرکرہ تھا۔ وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جا کر دیکھا تو اس کے اوپر ایک حلہ تھا جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا اور خیانت کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18203]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٧٤»
الحكم على الحديث: صحيح