🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3808. -- باب: ما ورد النهي عن التضحية به
-- باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19103
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَجُلًا صَدُوقًا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ: وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِالْعَوْرَاءِ. قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: وَذَكَرَ عَضْبَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ طَرَفَا الْأُذُنِ. قُلْتُ: مَا الْمُدَابَرَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ مُؤَخِّرَا الْأُذُنِ. قُلْتُ: مَا الشَّرْقَاءُ؟ قَالَ: تُشَقُّ الْأُذُنُ. قُلْتُ: مَا الْخَرْقَاءُ؟ قَالَ: تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسی کی مثل حدیث ذکر کی ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اضافہ ہے کہ ”ہم کانا جانور قربان نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «المُقَابَلَةُ» کا کیا معنیٰ ہے؟ کہتے ہیں: ایسا جانور جس کے کان کی ایک طرف کاٹ دی گئی ہو۔ «المُدَابَرَةُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کا کان پچھلی جانب سے کاٹا گیا ہو۔ میں نے پوچھا: «الشَّرْقَاءُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کا کان پھاڑ دیا گیا ہو۔ میں نے پوچھا: «الخَرْقَاءُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کے کان میں سوراخ کر دیا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19103]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19104
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرِيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. قَالَ قَتَادَةُ: وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْعَضَبِ، فَقَالَ: النِّصْفُ فَمَا زَادَ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسا جانور قربانی کرنے سے منع کیا جس کا آدھا کان کاٹ دیا گیا ہو اور نصف سینگ توڑ دیا گیا ہو۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے «عَضْب» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا معنی نصف یا اس سے زیادہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19104]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. كَذَا فِي هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ وَالْأُولَى أَمْثَلُهُمَا، وَالْأُخْرَى أَضْعَفُهُمَا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا خِلَافُ ذَلِكَ فِي الْقَرْنِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسا جانور قربانی کرنے سے منع فرمایا جس کا آدھا کان کاٹ دیا گیا ہو اور نصف سینگ توڑ دیا گیا ہو“۔
ان دونوں روایتوں میں اسی طرح ہے، ان میں سے پہلی زیادہ بہتر ہے اور دوسری زیادہ ضعیف ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سینگ کے بارے میں اس کے خلاف موقوف روایت بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19105]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19106
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ حُجَيَّةُ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْبَقَرَةُ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ. قَالَ: الْقَرْنُ؟ قَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرَجُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغْتَ الْمَنْسَكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ.
حجیّہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک شخص نے پوچھا: گائے کتنے آدمیوں کی جانب سے ہوتی ہے؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سات کی جانب سے۔ اس شخص نے سینگ کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا کوئی حرج نہیں۔ اس شخص نے لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جب قربانی قربان گاہ پہنچ جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”آنکھ اور کان غور سے دیکھنے“ کا حکم دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19106]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ ابْنُ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: مِنْ سَبْعَةٍ. قَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا تَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغْتَ الْمَنْسَكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ إِنْ صَحَّ التَّنْزِيهُ فِي الْقَرْنِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ، يَعْنِي لَيْسَ فِي نَقْصِهِ أَوْ فَقْدِهِ نَقْصٌ فِي اللَّحْمِ.
حجیہ بن عدی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ سے گائے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ سات آدمیوں کی جانب سے ہوتی ہے“ اور جب ان سے ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس شخص نے لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے: جب قربانی قربان گاہ پہنچ جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”کان اور آنکھ غور سے دیکھنے“ کا حکم دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سینگ کا ٹوٹ جانا یا نہ ہونا قربانی کے جانور کو نقصان نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19107]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3809. -- باب: ما جاء في الصغيرة الأذن
-- باب: چھوٹے کان والے جانور کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19108
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُضَحَّى بِالصَّمْعَاءِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الصَّمْعَاءُ هِيَ الصَّغِيرَةُ الْأُذُنِ.
ابو جمرہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: چھوٹے کانوں والے جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19108]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3810. -- باب: وقت الأضحية
-- باب: قربانی کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19109
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ". يَعْنِي فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا مَكَانَهَا"، أَوْ قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"..
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”اس دن میں سب سے پہلا کام نماز پڑھنا اور اس کے بعد جا کر قربانی کرنا ہے۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہمارے طریقے کو پا لیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کر دی تو یہ اس کے گھر والوں کے لیے گوشت تو ہے لیکن قربانی نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی۔ لیکن اب میرے پاس دو دانت والے جانور سے بہتر جذعہ موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قربانی کر دو، لیکن تمہارے بعد یہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19109]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19110
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
شعبہ رحمہ اللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ”تو اس کی جگہ پر ذبح کر دے لیکن تیرے بعد کسی سے بھی یہ کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19110]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، أنبأ فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلْتُ. فَقَالَ:" هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ". قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ أَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَا تُجْزِي عَنْ إِنْسَانٍ بَعْدَكَ". قَالَ عَامِرٌ: فَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عامر، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی اور فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا وہ نماز سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے جانور ذبح کر دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جلدی کی ہے۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس دو دانت والے جانور سے بہتر جذعہ موجود ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی انسان سے کفایت نہ کرے گی۔“ عامر کہتے ہیں: تو یہ دونوں قربانیوں میں سے بہتر قربانی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19111]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19112
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ⦗٤٦٤⦘ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ مَنْسَكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ". قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَهَنَّادٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز ادا کی اور اس کے بعد قربانی ذبح کی، اس نے قربانی کر دی اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کی تو یہ گوشت والی بکری ہے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز کی جانب آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی۔ کیونکہ میں یہ جانتا تھا کہ یہ دن کھانے پینے کا ہے، میں نے جلدی کی تو میں نے خود بھی اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو بھی کھلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے پاس بکری کا جذعہ جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی زیادہ بہتر ہے، کیا یہ مجھ سے کفایت کر جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری جانب سے کفایت کر جائے گا لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں