السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3814. -- باب: جواز النحر فيما يذبح، والذبح فيما ينحر
-- باب: جسے ذبح کیا جاتا ہے اسے نحر کرنے، اور جسے نحر کیا جاتا ہے اسے ذبح کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: Q19133
اسْتِدْلَالًا بِمَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ:" الذَّكَاةُ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ". وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: يُجْزِي الذَّبْحُ مِنَ النَّحْرِ وَالنَّحْرُ مِنَ الذَّبْحِ فِي الْبَقَرِ وَالْإِبِلِ..
اس (روایت) سے استدلال کرتے ہوئے جو ہمیں سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پہنچی ہے کہ: ”ذبح حلق اور سینے کے بالائی حصے (لبہ) میں ہے۔“
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”گائے اور اونٹ میں ذبح کرنا نحر کی جگہ اور نحر کرنا ذبح کی جگہ کافی ہو جاتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19133]
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”گائے اور اونٹ میں ذبح کرنا نحر کی جگہ اور نحر کرنا ذبح کی جگہ کافی ہو جاتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19133]
حدیث نمبر: 19133
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ هُوَ ابْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي وَحَفْصٌ، وَوَكِيعٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ. وَقَالَ عَبْدَةُ: ذَبَحْنَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: وَتَابَعَهُ وَكِيعٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي النَّحْرِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ هِشَامٍ فِي النَّحْرِ، وَعَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدَةَ فِي الذَّبْحِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ ثَلَاثَتِهِمْ فِي النَّحْرِ. وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ الْحَجِّ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمُ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ ذَبَحَ، وَكَذَلِكَ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، فَفِي رِوَايَةٍ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً، وَفِي رِوَايَةٍ: ذَبَحَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَقَرَةً.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم نے گھوڑا نحر کر کے کھایا اور عبدہ کہتے ہیں کہ ہم نے ذبح کیا تھا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قصے میں بیان فرماتی ہیں کہ قربانی کے دن ہمیں گائے کا گوشت دیا گیا۔ میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اپنی بیویوں کی جانب سے گائے نحر کی ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ذبح کی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی جانب سے گائے نحر کی اور دوسری روایت میں ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ گائے ذبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19133]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قصے میں بیان فرماتی ہیں کہ قربانی کے دن ہمیں گائے کا گوشت دیا گیا۔ میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اپنی بیویوں کی جانب سے گائے نحر کی ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ذبح کی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی جانب سے گائے نحر کی اور دوسری روایت میں ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ گائے ذبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3815. -- باب: كراهة النخع والفرس
-- باب: نخع (حرام مغز تک چھری پہنچا دینے) اور فرس (گردن توڑ دینے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19134
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَنَهَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّخْعِ وَأَنْ تُعْجَلَ الْأَنْفُسُ أَنْ تَزْهَقَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالنَّخْعُ أَنْ تُذْبَحَ الشَّاةُ ثُمَّ يُكْسَرُ قَفَاهَا مِنْ مَوْضِعِ الذَّبْحِ لِنَخْعِهِ وَلِمَكَانِ الْكَسْرِ فِيهِ، أَوْ تُضْرَبَ لِيُعْجَلَ قَطْعُ حَرَكَتِهَا فَأَكْرَهُ هَذَا. وَقَالَ: وَلَمْ يُحَرِّمْهَا ذَلِكَ لِأَنَّهَا ذَكِيَّةٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذبح کرتے وقت چھری کو حرام مغز تک لے جانے سے منع فرمایا کہ اس طرح جان بغیر دشواری کے نکل جاتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نَخْعٌ» یہ ہوتا ہے کہ بکری کو ذبح کرنے کے بعد ذبح شدہ جگہ سے گردن کو موڑ دیا جائے، تاکہ اس کی حرکت جلد ختم ہو جائے، میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: اس طرح کرنے سے حرام نہیں ہو جاتا بلکہ اس کو ذبح کے اندر شمار کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19134]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19135
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَحَجَّاجِ بْنِ أَبِي ⦗٤٧٠⦘ عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْمَعْرُورِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْفَرْسِ فِي الذَّبِيحَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: الْفَرْسُ هُوَ النَّخْعُ، يُقَالُ مِنْهُ: فَرَسْتُ الشَّاةَ وَنَخَعْتُهَا، وَذَلِكَ أَنْ يَنْتَهِيَ بِالذَّبْحِ إِلَى النُّخَاعِ وَهُوَ عَظْمٌ فِي الرَّقَبَةِ، وَيُقَالُ أَيْضًا: بَلْ هُوَ الَّذِي يَكُونُ فِي فَقَارِ الصُّلْبِ شَبِيهٌ بِالْمُخِّ وَهُوَ مُتَّصِلٌ بِالْقَفَا، يَقُولُ: فَنَهَى أَنْ يَنْتَهِيَ بِالذَّبْحِ إِلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَمَّا النَّخْعُ فَهُوَ عَلَى مَا قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ، وَأَمَّا الْفَرْسُ فَقَدْ خُولِفَ فِيهِ، يُقَالُ هُوَ الْكَسْرُ، وَإِنَّمَا نَهَى أَنْ يَكْسِرَ رَقَبَةَ الذَّبِيحَةِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ، وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ:" وَلَا تَعْجَلُوا الْأَنْفُسَ حَتَّى تَزْهَقَ".
معرور کلبی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذبیحہ میں «فَرْس» سے منع فرمایا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے کہا: فرس سے مراد نخع ہے، کہا جاتا ہے: میں نے بکری کا فرس کیا اور اس کا نخع کیا، یعنی ذبح کرتے ہوئے چھری کو «نُخاع» تک پہنچا دیا جائے، اور یہ گردن کی ایک ہڈی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں مغز کی طرح ہوتی ہے اور گدی کے ساتھ ملی ہوئی ہے، یعنی انہوں نے ذبح کو وہاں تک پہنچانے سے منع فرمایا۔ ابو عبید کہتے ہیں: نخع کا معنیٰ تو وہی ہے جو ابو عبیدہ نے کہا، لیکن فرس کے بارے میں اختلاف ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد توڑنا ہے، اور انہوں نے صرف اس سے منع فرمایا کہ ذبح شدہ جانور کی گردن ٹھنڈا ہونے سے پہلے توڑ دی جائے، اور اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ حدیث میں ہے: ”اور جانوں کے نکلنے سے پہلے جلدی نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19135]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19136
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْحَاسِبُ، ثنا جُبَارَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ، هُوَ ابْنُ حَوْشَبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّبِيحَةِ أَنْ تُفْرَسَ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ذبح شدہ جانور کی موت سے پہلے گردن توڑنے سے منع کیا ہے“۔
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19136]
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19136]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3816. -- باب: الذكاة بالحديد وبما يكون أخف على المذكي وما يستحب من حد الشفار ومواراته عن البهيمة وإراحتها
-- باب: لوہے اور اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو ذبح ہونے والے جانور کے لیے زیادہ آسان ہو، نیز چھریوں کو تیز کرنے، اسے جانور سے چھپانے اور جانور کو آرام پہنچانے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْمَوَيْهِ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ النَّسَوِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي ⦗٤٧١⦘ قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَيْنِ، قَالَ:" إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو خصلتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیں کہ: ”اللہ رب العزت نے ہر چیز کے اوپر احسان کو لکھ دیا ہے۔ جب تم قتل کرو یا ذبح کرو تو احسن انداز سے اور اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو، تاکہ ذبح ہونے والے جانور کو راحت دی جا سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19138
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ مِحْسَانٌ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُحْسِنْ ذِبْحَتَهُ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالْكَبْشِ لِيُضَحِّيَ بِهِ:" يَا عَائِشَةَ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ". ثُمَّ قَالَ:" اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اللہ رب العزت محسن ہے، اس نے ہر چیز پر احسان کو لکھ دیا ہے، جس وقت تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو چھری کو تیز کر لیا کرو تاکہ جانور کو راحت دی جا سکے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ جس وقت مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر پر تیز کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19138]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ جس وقت مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر پر تیز کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19138]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19139
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ". كَذَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ مَوْصُولًا جَيِّدًا.
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کی دھار کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا ہے، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو جلدی کرے۔“
ابن لہیعہ نے اسی طرح اسے عمدہ متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19139]
ابن لہیعہ نے اسی طرح اسے عمدہ متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19139]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19140
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَقَالَ:" إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ ”جب تم ذبح کرو تو جلدی کرلیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19140]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَةِ شَاةٍ وَهُوَ يُحِدُّ شَفْرَتَهُ وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَا، فَقَالَ:" أَفَلَا قَبْلَ هَذَا؟ أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتًا". تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ:" أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتَاتٍ". وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ فَأَرْسَلَهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو بکری کی گردن پر اپنا پاؤں رکھ کر اس کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پہلے یہ کام کیوں نہ کیا؟ کیا تم ذبح سے پہلے اس کو مارنا چاہتے ہو؟“
(ب) حماد بن زید، عاصم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مرتبہ اس کو مارے گا؟“
معمر نے اسے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19141]
(ب) حماد بن زید، عاصم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مرتبہ اس کو مارے گا؟“
معمر نے اسے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19141]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن